The news is by your side.

Advertisement

ہوسکتا ہے کرونا سے زیادہ متاثرعلاقے بند کرنا پڑیں، وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کو پھیلنے سے کوئی نہیں روک سکتا، ہوسکتا ہے آئندہ دنوں میں ہمیں کرونا سے زیادہ متاثر علاقے بند کرنا پڑیں۔

وزیراعظم عمران خان نے ٹائیگر فورس کے رضاکاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ اور پاکستان نے رضاکاروں کی رجسٹریشن شروع کی، ہم نے 10 لاکھ رضاکاروں کی رجسٹریشن شروع کی، ایک لاکھ 75 ہزار رضاکاروں نے کام کیا، محدود لاک ڈاؤن کے لیے ٹائیگر فورس کو ٹریننگ دی جائے گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ لاک ڈاؤن کھولنےکیلئےایس اوپیزتیارکیے تاکہ ان پرعمل ہو، کرونا سے متعلق ایس او پی پر عمل کی ضرورت ہے، کورونا ٹائیگرز لوگوں میں شعور پیدا کریں گے، ٹائیگرفورس کو کیا کرنا ہے، باقاعدگی سے ہدایات جاری کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ رمضان میں ایس اوپی کے مطابق مساجد کھلی رکھیں، لوگ ابھی سے ایس اوپیز پرعمل کریں توہم مشکل وقت سےنہیں گزریں گے، اللہ نےپاکستان پربہت کرم کیاہے، پاکستان واحد اسلامی ملک تھا جس نے رمضان میں تراویح کی اجازت دی، ٹائیگرفورس نے مساجد میں جاکر لوگوں کواحتیاط کیلئےآگاہی فراہم کی۔

عمران خان نے کہا کہ معلوم تھا جیسے جیسےلاک ڈاؤن کھلےگا کورونا پھیلےگا، کرونا وہاں تیزی سے پھیلتا ہے جہاں لوگ اکھٹےہوتے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ امریکا، اٹلی، اسپین میں ایک دن میں 2 ہزار تک اموات ہوئیں، پاکستان میں کورونا سے اموات کی تعداد اُتنی زیادہ نہیں ہے، لاک ڈاؤن میں اصل نقصان غریب لوگوں کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا میں آج قطاریں بنا کر کھانا تقسیم کیا جارہا ہے، دنیا بھرمیں لاک ڈاؤن سےغربت بڑھنا شروع ہوگئی، غریب ممالک میں لاک ڈاؤن سے تباہی مچ گئی ہے، بھارت میں لاک ڈاؤن سے لوگ بھوک سے مررہے ہیں، آج بھارت کو دنیا کہہ رہی ہے اسے اسمارٹ لاک ڈاؤن کرنا چاہئے تھا، لاک ڈاؤن کی وجہ سےسب سےزیادہ تباہی غریب ممالک میں ہوتی ہے۔

عمران خان نے کہا کہ لاک ڈاؤن کرونا وائرس کا حل نہیں ہے، لاک ڈاؤن کی وجہ سے ٹیکس کلیکشن میں بہت کمی ہوئی ہے، ہمیں 800 ارب روپے ٹیکس کی کمی کا سامنا ہے، لاک ڈاؤن لگانا بہت آسان اس کے نتائج بہت خراب ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت اب تک 5 ہزار ارب روپے گزشتہ حکومتوں کے قرضوں کا سود دے چکی ہے، پاکستان کو اب بجٹ بنانے میں بہت سی مشکلات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آگے مزید مشکلات آئیں گی ہمیں اس کے لیے تیار رہنا ہوگا، ٹڈی دل نے30سال بعد پاکستان پرحملہ کیا ہے، ٹڈی دل کے حملوں کی وجہ سے کھانے کی اشیا کا قحط پڑ سکتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں