The news is by your side.

Advertisement

کرونا فری اسمارٹ شہر کیسا اور کس ملک میں ہے؟

کرونا وبا کے پیش نظر دنیا کے تمام ہی ممالک کے طبی ماہرین نے شہریوں کو گھروں سے بلا ضرورت نکلنے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے پر زور دیا ہے۔

کرونا وائرس پھیلنے کے بعد اس کی روک تھام کے لیے رواں برس مارچ میں دنیا کے بیشتر ممالک کی حکومتوں نے لاک ڈاؤن نافذ کیا تھا اور شہریوں کو ہدایت کی تھی کہ وہ وبا سے محفوظ رہنے کے لیے زیادہ سے زیادہ وقت گھروں میں گزاریں۔

چینی ماہرین نے کرونا کے پیش نظر ایک ایسا اسمارٹ شہر تیار کرنے پر کام شروع کردیا جسے کرونا پروف قرار دیا جارہا ہے۔ ماہرین کا دعویٰ ہے کہ اس طرز کا شہر مستقبل میں کسی بھی وبا کی روک تھام میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے کیونکہ اس کی تعمیر کے وقت ایسا ڈیزائن تشکیل دیا گیا ہے۔

ماہرین نے چین کے دارالحکومت بیجنگ کی حدود سے باہر واقع شیونگ آن نامی علاقے میں شہر کی تعمیر کا آغاز کردیا جو فلیٹس پر مشتمل ہے۔

ان اپارٹمنٹس میں ایسے بلاک تیار کیے جائیں‌ گے جو لاک ڈاؤن میں بھی شہریوں کو اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے میں مدد فراہم کریں گے۔

ہر فلیٹ میں ایک بڑی بالکونی ہے جو باہر سڑک تک جارہی ہے، علاوہ ازیں یہاں ایک علاقہ مختص کر کے اتنے بڑے دفاتر تعمیر جائیں‌ گے جہاں سماجی فاصلے کو برقرار رکھنا بہت آسان ہوگا۔

یہاں سبزیوں کے باغات، گرین ہاؤسز اور چھتوں پر سولر پاور آلات نصب کیے گئے ہیں تاکہ رہائشیوں کو بجلی کی فراہمی اور غذا کے حوالے سے کسی بھی چیز کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

جدید اور نئے شہر کا خیال بارسلونا سے تعلق رکھنی والی کمپنی گوال آرٹ کے آرکیٹیکٹر نے پیش کیا۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ مذکورہ علاقے کے رہائشی وائرس سے محفوظ رہیں گے اور انہیں لاک ڈاؤن میں بھی کسی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

کمپنی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ “ہم اس طرز کے شہروں اور عمارات کی تعمیرات کو جاری نہیں رکھ سکتے کیونکہ مستقبل میں اس قسم کے منصوبوں کے لیے ہمارے پاس اخراجات کی قلت ہے، ہمارے منصوبے میں ضروریات کو پورا کرنے کا حل دیا گیا ہے، یہاں بسنے والے شہری کو نئی زندگی ملے گی اور وہ پریشانی کے بغیر اچھے دن گزار سکے گا”۔

رہائشیوں کے لیے فلیٹس کے ساتھ ساتھ ہر عمارت کے بلاک میں دفاتر، دکانیں، بچوں کا اسکول، سوئمنگ پول اور ایک فائر اسٹیشن بھی موجود ہوگا جبکہ ہنگامی حالات میں یہاں کے باغات میں سبزیوں کی کاشت بھی ممکن ہوگی کیونکہ ہر فلیٹ کی چھت پر کاشت کاری کے لیے جگہ مختص کی جائے گی۔

گرین ہاؤسز میں ایل ای ڈی لائٹنگ اور ہائیڈروفونک ہیٹنگ کی سہولیات فراہم کی جائیں گی تاکہ جڑی بوٹیوں کے باغات سے ادویات تیار کی جاسکیں۔ تھری ڈی پرنٹرز سے ہنگامی حالات میں خراب اشیا کی مرمت کی جاسکے گی۔

شہر میں پارکنگ کے لیے بھی جگہ مختص کی گئی ہے جبکہ یہاں کی بیشتر گلیوں میں راہ گیروں اور سائیکل چلانے والوں کو ہی داخلے کی اجازت ہوگی، اگر پبلک ٹرانسپورٹ جیسے بس کی بات کی جائے تو یہاں اُن کی تعداد کم ہی ہوگی جبکہ الیکٹریکل گاڑیوں کے علاوہ کسی بھی گاڑی کے داخلے کو اجازت نہیں ہوگی۔

گھروں میں کھانا منگوانے والے شہریوں کو ڈرونز کے ذریعے آرڈر پہنچائے جائیں گے جبکہ طبی معلومات کے لیے الرٹس بھی فراہم کیے جائیں گے۔

چینی میڈیا رپورٹ کے مطابق چین کے صدر شی جنگ پنگ بھی اس نئے شہر کی تعمیر کے حامی ہیں تاکہ بیجنگ پر سے دباؤ کم ہوسکے جبکہ وہاں کے رہائشی ہائی اسپیڈ ریل لنکس اور 5 جی براڈ بینڈ سے محظوظ ہوسکیں۔

آنے والے برسوں میں اس شہر کی تعمیر پر 500 ارب ڈالرز مختص کیے جائیں گے۔ چینی صدر پرامید ہیں کہ یہاں کی بیشتر صنعتیں جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس ہوں گی اور یہ شہر مستقبل میں کیلی فورنیا کی سیلیکون ویلی کا مقابلہ کرسکے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں