The news is by your side.

Advertisement

کرونا لاک ڈاؤن: بھارت میں ماں بیٹا بھوک کی شدت سے ہلاک

نئی دہلی : لاک ڈاؤن کے دوران 75 سالہ ماں بیٹے سمیت بھوک کی شدت سے دم توڑ گئی، اپوزیشن جماعتوں نے مودی سرکار کو موت کا ذمہ دار ٹھراتے ہوئے غریبوں میں راشن فراہم نہ کرنے کا الزام لگا دیا۔

بھارت میں گزشتہ کئی مہینوں سے کرونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن کا سلسلہ جاری ہے، جس کی وجہ سے غریب طبقہ بری طرح متاثر ہورہا ہے اور بھوک سے مرنے کے واقعات خبروں کی زینت بن رہے ہیں۔

جبل پور کے علاقے رانجھی سے تعلق رکھنے والے کال خاندان میں بھی بھوک سے مرنے کا افسوس ناک واقعہ پیش آیا جس میں ایک 75 سالہ خاتون اپنے 55 سالہ بیٹے کے ہمراہ دنیا سے رخصت ہوگئی۔

پڑوسیوں کا کہنا ہے کہ گومتی کال نامی خاتون کئی ماہ سے بڑھاپے کی وجہ سے پینشن نہیں لے پارہی تھی اور ان کا بیٹا بھی لاک ڈاؤن کی وجہ سے بے روزگار ہوچکا تھا جس کے باعث اکثر گومتی کال کے گھر فاقے ہوتے تھے۔

پڑوسیوں کا کہنا ہے کہ ماں بیٹے اشیائے خورد و نوش کی عدم موجودگی کے باعث اجتماعی طور پر مفت فراہم کیا جانے والا کھانا کھاکر گزر بسر کرتے تھے لیکن وبائی صورتحال کے باعث وہ بھی بند ہوچکا تھا جس نے گومتی پال اور ان کے بیٹے کو کئی کئی روز بھوکا رہنے پر مجبور کردیا تھا۔

پڑوسیوں نے انہیں کہہ رکھا تھا کہ وہ کھانے پینے کی اشیاء مانگ سکتے ہیں لیکن وہ کبھی کبھار ہی کچھ مانگتے تھے، ایک ان کا 55 سالہ بیٹا پڑوسیوں سے آٹا ادھار مانگ کر لایا اور اس کے کچھ روز بعد گھر سے بدبو آنے لگی۔

پڑوسیوں سے میونسپلٹی حکام کو مطلع کیا، جس پر ریسکیو اہلکاروں نے گھر کی تلاشی لی تو 75 سالہ خاتون مردہ حالت میں ملی جبکہ بیٹا تشویش ناک حالت میں پایا گیا۔

ریسکیو اہلکاروں نے 55 سالہ شخص کو اسپتال منتقل کیا تاہم وہ راستے میں ہی دم توڑ گیا۔

ماں اور بیٹے کا پوسٹ مارٹم تاحال نہیں ہوا لیکن پڑوسیوں کا کہنا ہے کہ دونوں کی موت بظاہر بھوک کی شدت سے ہوئی ہے۔

بزرگ ماں بیٹے کی موت پر اپوزیشن جماعتوں نے مودی سرکار کو موت کا ذمہ دار ٹہراتے ہوئے کہا کہ حکومت پر الزام لگایا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی غریبوں کو راشن فراہم کرنے کے قابل نہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں