The news is by your side.

Advertisement

کورونا مریض صحتیابی کے بعد بھی خطرے کی زد میں رہتا ہے، ماہرین کا انکشاف

ویانا : کوویڈ نائنٹین کی بیماری سے صحت یابی کے بعد بھی مریض کو کئی روز بعد سانس کی مشکلات درپیش رہتی ہیں، اکثر مریض خشک کھانسی اور بخار میں بھی مبتلا پائے گئے ہیں۔

اس بات کا انکشاف آسٹریا میں ہونے والی ایک تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ نوول کورونا وائرس نظام تنفس کو متاثر کرتا ہے جس کے دوران اکثر مریضوں کو خشک کھانسی اور سانس لینے میں مشکلات کے ساتھ بخار کا سامنا ہوتا ہے یعنی اس سے پھیپھڑے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

غیر ملکی خبر  رساں ادارے کے مطابق اب سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ کووڈ 19 کے صحتیاب مریضوں کو ہفتوں بعد بھی پھیپھڑوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے جبکہ سانس نہ لینے کی شکایت اور کھانسی جیسی علامات کا سامنا ہوسکتا ہے۔

کورونا وائرس سے جسمانی صحت پر طویل المعیاد اثرات کے حوالے سے محققین کی جانب سے کئی ماہ سے خدشات سامنے آرہے ہیں، یہاں تک معتدل حد تک بیمار افراد کی جانب سے کئی ہفٹوں بلکہ مہینوں تک علامات کو رپورٹ کیا جاتا ہے۔

اب آسٹریا میں ہونے والی ایک نئی تحقیق میں کورونا وائرس سے متاثر ہوکر ہسپتال میں زیرعلاج رہنے والے ایسے مریضوں کا جائزہ لیا گیا تھا جو صحتیاب ہوگئے تھے۔

تحقیق کے ابتدائی نتائج میں انکشاف ہوا کہ ہسپتال سے فارغ ہونے کے 6 ہفتوں بعد بھی 88 فیصد مریضوں کے پھیپھڑوں میں شیشے پر غبار جیسا پیٹرن دریافت ہوا جس سے عضو کو نقصان پہنچنے کا عندیہ ملتا ہے جبکہ 47 فیصد مریضوں نے سانس لینے میں مشکلات کی شکایت کی ہے۔12ہفتوں بعد یہ شرح بالترتیب 56 اور 39 فیصد رہی۔

انسبروک یونیورسٹی کی تحقیق میں شامل ڈاکٹر سبینا شانک نے بتایا کہ کووڈ 19 سے صحت یاب ہونے والے افراد کو ہفتوں بعد بھی پھیپھڑوں کے افعال میں تنزلی کا سامنا ہوتا ہے تاہم انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وقت کے ساتھ ساتھ کسی حد تک بہتری دیکھنے میں آتی ہے۔

تحقیقی نتائج میں عندیہ دیا گیا کہ اگرچہ کوویڈ 19 سے ریکوری کا عمل طویل ہوسکتا ہے مگر یہ بیماری وقت کے ساتھ پھیپھڑوں میں خراشیں بڑھانے کے عمل کو متحرک نہیں کرتی۔ اس تحقیق کے نتائج یورپین ریسیپٹری سوسائٹی انٹرنیشنل کانگریس میں پیش کیے گئے۔

تحقیق میں شامل 86 میں سے 18 مریض آئی سی یو میں زیرعلاج رہے تھے جبکہ مریضوں کی اوسط عمر 61 سال تھی۔ ان میں سے 60 فیصد سے زیادہ مرد تھے جبیکہ 50 فیصد کے قریب تمباکو نوشی کے عادی تھے جبکہ 65 فیصد زیادہ جسمانی وزن یا موٹاپے کے شکار تھے۔

ان مریضوں کے مختلف ٹیسٹ کیے گئے، پھیپھڑوں کے افعال کی جانچ پڑتال اور طبی معائنہ ڈسچارج کے 6 ہفتوں بعد کیا گیا اور یہ عمل 12 ہفتوں بعد پھر دہرایا گیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں