The news is by your side.

Advertisement

کورونا سے صحتیاب مریضوں کو نئی مشکل کا سامنا، تحقیق میں انکشاف

نوول کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 نظام تنفس کو متاثر کرتی ہے جس کے دوران اکثر مریضوں کو خشک کھانسی اور سانس لینے میں مشکلات کے ساتھ بخار کا سامنا ہوتا ہے۔

اسپتال میں علاج یا قرنطینہ میں رہنے کے دوران ہونے والے علاج کے بعد بھی متاثرہ مریض کو آنے والے وقت میں مزید پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

اس حوالے سے بیلجیئم میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کوویڈ کی طویل المعیاد علامات یا لانگ کوویڈ سے متاثر افراد کے دل کو نقصان پہنچنے کا خطرہ اس صورت میں بڑھ جاتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ی ہخطرہ اس وقت اور بڑھ جاتا ہے جب جسمانی سرگرمیوں کے باعث ان کو سانس لینے میں مشکلات کا سامنا بیماری کے ایک سال بعد بھی ہوتا ہو۔

یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو

یونیورسٹی ہاسپٹل برسلز کی تحقیق میں میڈیکل اسکینز سے دریافت ہوا کہ ہسپتال سے ڈسچارج ہونے کے ایک سال بعد بھی سانس لینے میں مشکلات کا سامنا کرنے والے کووڈ مریضوں میں دل کی شریانوں سے جڑے مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، چاہے ان میں اس کی کوئی تاریخ نہ بھی ہو۔

تحقیق میںاس بات کی تصدیق کی گئی ہےکہ لانگ کوویڈ کا سامنا کرنے والے اور صحت یاب ہونے والے  افراد کے دل کو نقصان کا سامنا ہوسکتا ہے۔

محققین نے بتایا کہ نتائج سے یہ وضاحت کرنے میں مدد ملتی ہے کہ لانگ کووڈ کے کچھ مریضوں کو ایک سال بعد بھی سانس لینے میں مشکلات کا سامنا کیوں ہوتا ہے اور کیوں دل کی کارکردگی یا افعال میں کمی آتی ہے۔

اس تحقیق میں محققین نے کووڈ کے 66 ایسے مریضوں کے ڈیٹا کی جانچ پڑتال کی جن میں دل یا پھیپھڑوں کے امراض کی تاریخ نہیں ہوئی تھی، یہ سب مریض مارچ اور اپریل 2020 میں کووڈ کے باعث اسپتال میں زیرعلاج رہے تھے۔

ان مریضوں کے پھیپھڑوں کے افعال اور طویل المعیاد علامات کا جائزہ ہسپتال سے ڈسچارج ہونے کے ایک سال بعد ایک خصوصی ایکسرے آلے کے ذریعے لیا گیا۔

ان مریضوں کی دل کی صحت کی جانچ پڑتال کے لیے الٹرا ساؤنڈز اور ایک زیادہ جدید امیجنگ تیکنیک کی مدد لی گئی، ایسے مریض جن کو بیماری کے ایک سال بعد بھی سانس کے مسائل کا سامنا تھا، ان کے اسکینز میں دل کو پہنچنے والے نقصان کا علم ہوا۔

محققین نے بتایا ہے کہ مذکورہ نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ کوویڈ کے ایک تہائی سے زیادہ ایسے مریض جن میں دل یا پھیپھڑوں کے امراض کی تاریخ نہیں تھی، ہسپتال سے ڈسچارج ہونے کے ایک سال بعد بھی سانس لینے میں مشکلات کا سامنا کررہے تھے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ کارڈک الٹرا ساؤنڈ میں ان افراد کے دل کے افعال گہرائی میں جاکر جائزہ لینے پر ہم نے نمایاں نقصان کا مشاہدہ کیا، جس سے سانس کے مسائل کے تسلسل کی ممکنہ وضاحت ہوتی ہے۔

ایک تخمینے کے مطابق کووڈ کو شکست دینے والے 10 سے 30 فیصد مریضوں کو بیماری کے 6 ماہ بعد بھی لانگ کووڈ کی کم از کم ایک علامت کا سامنا ہوتا ہے۔

محققین کے مطابق نئی امیجنگ تیکنیکس سے لانگ کووڈ کے مریضوں میں دل کے افعال میں خرابیوں کی جلد شناخت کرنے مین مدد مل سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کووڈ کی مختلف اقسام اور ویکسینیشن کے اثرات پر مزید تحقیق سے ہمارے نتائج کو جانچنے کی ضرورت ہے تاکہ مریضوں کو زیادہ بہتر علاج فراہم کیا جاسکے۔ اس تحقیق کے نتائج یورپین سوسائٹی آف کارڈیالوجی کے یورو ایکو 2021 اجلاس میں پیش کیے گئے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں