The news is by your side.

Advertisement

جاپانی دوا سے کورونا کا علاج، برطانوی تحقیق میں نیا دعویٰ

لندن : برطانیہ میں مقیم ایک تحقیقی ٹیم کے مطابق جاپان میں تیار کی گئی گٹھیا کی ایک دوا کووِیڈ 19 کے انتہائی علیل مریضوں کی جان بچانے کی شرح میں خاطر خواہ بہتری لاسکتی ہے۔

امپیریل کالج لندن کے محققین اور دیگر نے جوڑوں میں درد اور ورم کی بیماری گٹھیا کے علاج کے لیے ٹوسیلی زُماب کے نام سے بھی مشہور دوا اکٹیمرا کے انسانوں پر تجربات کے نتائج کا اعلان کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ موازنے کے لیے دستیاب 400 افراد کے ایک کنٹرول گروپ میں شرحِ اموات 35.8 فیصد تھی جبکہ یہ دوا لینے والے 350 کے قریب افراد میں یہ شرح 7 پوائنٹس سے زائد کم ہو کر 28 فیصد رہ گئی۔

مذکورہ گروپ نے کہا ہے کہ جوڑوں کے درد اور ورم کی بیماری گٹھیا کی ایک اور دوا کے بھی ملتے جلتے اثرات سامنے آئے ہیں۔

اکٹیمرا جاپان کی اوساکا یونیورسٹی اور چُوگائی فارماسیوٹیکل نے تیار کی ہے, توقع ہے کہ یہ دوا انسان کے مدافعتی نظام کو نسبتاً زیادہ ردعمل ظاہر کرنے سے روکنے میں مدد دیتی ہے۔

برطانوی حکومت نے اپنی ویب سائٹ پر کہا ہے کہ وہ انتہائی نگہداشت کے وارڈز میں داخل کووڈ 19 کے مریضوں کے علاج کے لیے مذکورہ ادویات کے استعمال کی اجازت دے رہی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں