The news is by your side.

Advertisement

کرونا ویکسین تیار کرنے والے اداروں کے سامنے بڑی مشکل کھڑی ہوگئی

لندن: کروناویکسین تیار کرنے والے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ وبائی مرض سے لڑنے والے مریضوں میں قوت مدافعت مختصر مدت تک رہتی ہے جو ویکسین بنانے والے اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ کرونا کے شکار مریضوں میں قوت مدافعت کا سلسلہ مختصر مدتی کے بجائے اسے بڑھانے کے لیے ایک بہت ہی مؤثر ترین ویکسین کی ضرورت ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق ایسی ویکسین کی تیاری ایک بڑا چیلنج ہے جو مریضوں میں مدافعاتی نظام کو طویل مدت تک رکھنے کے علاوہ مستقبل میں وبائی مرض سے بچائے رکھے۔ چین، جرمنی اور برطانیہ میں ماہرین کی تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی کہ کرونا مریضوں کے مدافعاتی نظام میں از خود اینٹی باڈیز بنتے ہیں لیکن وہ مختصر مدت تک رہتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہی صورت حال ویکسین بنانے والوں کے لیے ایک بڑا چیلنج کھڑا کررہی ہے کیوں کہ طویل مدت تک قوت مدافعت کو مضبوط بنانے ایک بہت ہی مشکل طلب مرحلہ ہے۔

کرونا ویکسین بنانے والوں کو غیر متوقع چیلنجز کا سامنا

برطانوی ڈاکٹر ڈینیل الٹمین نے بتایا کہ مریضوں میں ازخود اینٹی باڈیز بنانے کی صلاحیت ہوتی ہے لیکن وہ تیزی سے گھٹ سکتی ہے جو قوت مدافت کی کمزوری ہے۔

پروفیسر اسٹیفن گریفن کا کہنا تھا کہ ہمیں ایک پراثر ویکسین تیار کرنی ہوگی جو مدافعتی نظام کو طویل کردے گی یا پھر موجودہ ممکنہ ویکسین کی خوراکیں مریضوں کو روزانہ کی بنیاد پر دینا ہوں گی جو معمولی معاملہ نہیں ہے۔

رپورٹ کے مطابق اسٹرا زینیکا نامی کمپنی کی جانب سے تیار کردہ ویکسین کے انسانوں پر تجربے کے دوران ویکسین کی ایک خوراک کے بجائے دو خوراک سے مریضوں میں قوت مدافت میں مثبت نتیجہ سامنے آیا۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں