The news is by your side.

Advertisement

کورونا ویکسین کی انسانوں پر آزمائش شروع

لندن :‌آکسفورڈ یونیورسٹی برطانیہ میں کووڈ 19 ویکسین کی انسان پر آزمائش کا آغاز ہو گیا۔

تفصیلات کے مطابق انسانوں پر ویکسین کی آزمائش کا مرحلہ آج سے بیک وقت تین اداروں میں شروع ہو گیا ہے جس کے لیے 18 سے 55 سال تک کے 500 افراد کا سخت اسکریننگ کے بعد انتخاب کیا گیا ہے۔

ان افراد نے آن لائن درخواست جمع کروا کر رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات پیش کی ہیں، آزمائش میں حصہ لینے والے افراد کے لیے مکمل صحت مند ہونے کی شرط رکھی گئی ہے، ان میں کسی قسم کی الرجی، کینسر یا کورونا وائرس کی علامات بالکل نہیں ہونی چاہیئں۔

تحقیق کاروں کا منصوبہ ہے کہ وہ اس آزمائش کے لیے ایک ہزار سے زائد افراد کو رجسٹرڈ کریں گے جنہیں دو گرپوں میں تقسیم کر کے الگ الگ قسم کی ویکسین لگائی جائیں گی۔

ٹرائل میں حصہ لینے والوں کو متعدد بار ریسرچ سینٹر بلایا جائے گا اور انہیں سفری اخراجات کے ساتھ ساتھ دیگر اخراجات کے لیے 625 پاؤنڈ تک فراہم کیے جائیں گے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی اور امپیریل کالج کو کورونا ویکیسن کی ریسرچ کے لیے مزید 41ملین فنڈز کی توثیق کی گئی ہے جس کا مقصد ویکسین کے تحقیقی مرحلے کو جلد از جلد مکمل کرنے کو یقینی بنانا ہے۔

دونوں تحقیقی ٹیمیں بڑی محنت اور پرجوش انداز میں کام کر رہی ہیں۔

اس حوالے سے سیکرٹری صحت میٹ ہین کاک نے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ کامیاب تحقیق کے لیے تمام وسائل استعمال کریں گے اور ویکسین کی مینوفیکچرنگ میں بھی سرمایہ کاری بڑھائی جائے گی۔

ان کا کہنا ہے کہ ویکسین کی ایجاد میں پہلا ملک کہلوانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائیں گے جب کہ آئندہ ستمبر تک ویکسین کی ایک ملین ڈوز تیار کرنے کا دعوی کیا گیا ہے۔


دوسری جانب کورونا وائرس ویکسین کی آزمائش کے لیے خود کو رضاکارانہ طور پر پیش کرنے والے شخص نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ انہیں ٹرائل کے بعد سائیڈ افیکٹ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

سیموئن کورٹی نامی شخص نے مارننگ شو میں بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں لگ رہا ہے کہ آج جب ان پر ویکسین کی آزمائش کی جائے گی تو وہ بخار میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ویکسینیشن کے مضر صحت اثرات ہلکے یا بدترین بھی ہوسکتے ہیں، چند دن بخار بھی ہو سکتا ہے اور سر درد کے ساتھ ساتھ کھانسی بھی ہو سکتی ہے۔

سیموئن کورٹی کو لگتا ہے کہ کورونا ویکیسن کی آزمائش پر انہیں فلو اور مختلف جسمانی اعضا میں دردوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

مسٹر کورٹی نے واضح کیا کہ وہ سیکڑوں رضاکاروں میں سے ایک ہیں جنہوں نے اس آزمائش میں حصہ لیا تاکہ معلوم کیا جاسکے کہ یونیورسٹی آف آکسفورڈ کا ٹرائل محفوظ ہے یا نہیں، اس کی تصدیق ہونے کے بعد کوویڈ 19 کے مریضوں پر دوا کو آزمانے اور علاج کرنے کے لئے استعمال کیا جاسکے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں