The news is by your side.

Advertisement

کرونا کا مقابلہ سیاست، کاروبار اور کرپشن سے!

تحریر: عمیر حبیب

اسپتالوں میں ڈاکٹر اور پیرا میڈیکل اسٹاف کرونا سے لڑتے ہوئے اپنی زندگیاں قربان کررہے ہیں اور گویا حالتِ جنگ میں ہیں۔

ڈاکٹروں نے حکومت سے حفاظتی لباس اور ضروری اسباب و وسائل کی فراہمی یقینی بنانے کی درخواست اور عوام سے اپیل کی ہے کہ لاک ڈاؤن اور سماجی فاصلے سے متعلق ہدایات پر سختی سے عمل کریں، لیکن ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اسپتالوں میں گنجائش گھٹ رہی ہے اور کیسز بڑھ گئے تو متاثرہ افراد کو طبی سہولیات فراہم کرنا ممکن نہیں ہوگا اور انھیں مجبوراً پیچھے ہٹنا پڑے گا۔

موجودہ حالات میں اگر پاکستان کا دیگر ممالک سے تقابل کیا جائے تو حکومتیں لاک ڈاؤن کے علاوہ میڈیکل سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔ اس سلسلے میں مقامی سطح پر وینٹیلیٹروں کی تیاری اور خریداری سمیت بڑی تعداد میں ماسک اور دستانے وغیرہ اسپتالوں میں پہنچائے جارہے ہیں۔پرتگال کی حکومت نے چین سے 500 وینٹیلیٹروں کا معاہدہ کیا ہے، لندن نے یورپ اور چین سے میڈیکل آلات کا معاہدہ کیا ہے۔ غرض کہ دنیا اس وبا کے ممکنہ پھیلاؤ اور انسانی جانوں کے ضیاع کے خدشات کے پیشِ نظر ایسے معاہدوں اور خریداری کا سلسلہ تیز کررہی ہے، مگر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے ملک میں یہ سنگین معاملہ بھی سیاست کی نذر ہورہا ہے۔

صوبوں کے پاس صحت اور علاج معالجے کے لیے بجٹ موجود ہے، مگر اس کا استعمال نجانے کہاں اور کیسے ہورہا ہے۔ صوبہ سندھ کی بات کریں تو حکومت اپنے فرائض کی انجام دہی سے قاصر نظر آتی ہے، کبھی خبر ملتی ہے لاکھوں ٹن گندم راستے سے غائب ہوگئی ہے تو کبھی معلوم ہوتا ہے کہ راشن کی تقسیم میں خورد برد کی گئی ہے۔ لوگوں‌ نے سنا کہ ناقص اور زائد المیعاد اشیائے خورد و نوش غریب اور راشن سے محروم افراد تک پہنچا کر “نیکیاں” کمانے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان حالات میں‌ بھی اگر ہم ایسی لوٹ مار اور اپنے اکاؤنٹ بھرنے سے باز نہیں‌ آئے تو پھر ہمارا اللہ ہی حافظ ہے۔

دوسری طرف آسٹریلیا کے تحقیقاتی ادارے کی ایک رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا کہ دنیا بھر میں کرونا سے صحت یاب مریضوں کا خون ڈارک ویب پر منہگے داموں فروخت ہورہا ہے کیوں کہ ایسے افراد کا خون (پلازما) متاثرہ مریض کی قوتِ مدافعت بڑھا سکتا ہے۔ دنیا بھر میں اس وقت پلازما تھراپی کی جارہی ہے، مگر ماہرین کے مطابق یہ فوری اور مؤثر طریقہ علاج نہیں ہے۔ البتہ ڈارک ویب پر صحت یاب مریضوں کے خون کی فی بوتل قیمت 2500 ڈالر وصول کی جارہی ہے۔ یہ خرید و فروخت قانونی طور پر جرم اور طبی نقطہ نگاہ سے خطرناک بھی ہے۔

غرض کہ جہاں اس وبا پر قابو پانے کی کوشش کی جارہی ہے، وہیں اس پر دھندا بھی عروج پر ہے اور اس امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستان میں بھی اس سے کچھ مختلف ہی سہی مگر ایسے جرائم ہورہے ہوں گے جن پر بَروقت گرفت، تحقیق اور ثبوت ملنے کی صورت میں تفتیش ضروری ہے۔ اس حوالے سے ایک عام جرم غیر رجسٹرڈ لیبارٹریوں کا کرونا ٹیسٹ کی سہولت فراہم کرنا ہے۔

پچھلے دنوں قرنطینہ مراکز میں صفائی ستھرائی کے فقدان اور متاثرہ مریضوں کو سہولیات کی عدم فراہمی کا معاملہ سامنے آیا تھا، جس کے بعد لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ جب خصوصی طور پر بنائے گئے ان مراکز کا یہ حال ہے تو سرکاری اسپتالوں میں انتظامات کیسے ہوں گے اور کیا اس طرح صوبائی حکومتیں کرونا پر قابو پاسکتی ہیں؟

وفاق سمیت صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ وہ اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے، صحت کے شعبے کے لیے مختص بجٹ کا شفاف طریقے سے ضروری استعمال کریں اور ڈاکٹروں سمیت پیرا میڈیکل اسٹاف کی درخواستوں اور ان کی اپیلوں پر سنجیدگی کا مظاہرہ کریں۔ ساتھ ہی لاک ڈاؤن پر سختی سے عمل درآمد کروانے کے لیے ایسی تجاویز زیرِ بحث لائی جائیں جن سے عوام کو فوری ریلیف مل سکے۔

(بلاگر علم و ادب کے شیدا اور مطالعے کے عادی ہیں۔ سماجی موضوعات، خاص طور پر عوامی ایشوز پر اپنے تجربات اور مشاہدات کو تحریری شکل دیتے رہتے ہیں۔)

Comments

یہ بھی پڑھیں