The news is by your side.

Advertisement

کورونا وائرس کس طرح پھیلا؟ عالمی ادارہ صحت نے وضاحت کردی

جنیوا : عالمی ادارہ صحت اور چین کی کورونا وائرس کی ابتدا سے متعلق ایک مشترکہ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ وائرس کی چمگادڑوں سے انسان میں منتقلی ممکنہ طور پر دوسرے جانوروں کے ذریعے ہوسکتی ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ  اس بات کا بھی قوی امکان ہے کہ یہ وائرس کسی لیب سے نہیں پھیلا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو پیر کو موصول ہونے والی رپورٹ میں محققین نے چار امکانات بیان کیے ہیں جس کی وجہ سے سارس کو ٹو نمودار ہوا۔ اس فہرست میں سب سے پہلے لکھا ہے کہ وائرس کسی دوسرے جانور سے منتقل ہو سکتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وائرس کا چمگادڑوں سے انسانوں میں منتقل ہونا ممکن ہے اور “کولڈ چین” کھانے کی اشیا سے بھی اس کی منتقلی ممکن ہے لیکن اس کے امکانات بہت کم ہیں۔ وائرس کی قریبی قسم جس کی وجہ سے کوورونا وائرس پیدا ہوا، چمگادڑوں میں پائی گئی ہے۔

تاہم رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق چمگادڑوں میں پیدا ہونے والے وائرس اور سارس-کو-ٹو کے درمیان ارتقائی فاصلے کئی دہائیوں کا ہے۔

اس جیسا وائرس پنگولین میں بھی پایا گیا ہے اور منک اور بلیوں کو بھی کوورنا وائرس ہو سکتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وائرس کی منتقلی ان جانوروں سے بھی ممکن ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اس تحقیق میں دیئے گئے نتائج متوقع تھے اور اب بھی بہت سے سوالوں کے جواب نہیں ملے ہیں۔

لیکن رپورٹ میں ٹیم کی جانب سے اخذ کیے گئے نتائج کی وجوہات دی گئی ہیں، محققین نے وائرس کے لیب سے پھیلاؤ کے علاوہ اس پر ہر طرح سے مزید تحقیق کی پیشکش کی ہے۔

رپورٹ کے اجرا میں کئی بار تاخیر ہوئی ہے جس سے سوال اٹھے تھے کہ آیا چین کی جانب سے نتائج کو بدلنے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ وبا کا الزام اس پر نہ جائے۔

عالمی ادارہ صحت کے ایک افسر نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ انہیں توقع ہے کہ یہ رپورٹ اگلے کچھ دنوں میں اجراء کے لیے تیار ہو گی۔

عالمی ادارہ صحت کے رکن ملک کے جنیوا میں موجود سفیر کی جانب سے ایسوسی ایٹڈ پریس کو موصول ہونے والا مسودہ رپورٹ کا حتمی ورژن ہے۔

یہ بات واضح نہیں کہ کیا رپورٹ کو جاری کرنے سے قبل اس میں رد و بدل کیے جانے کے امکانات ہیں یا نہیں۔ رپورٹ دینے والے سفیر نے شناخت ظاہر کرنے پر رضامندی نہیں دی کیونکہ انہیں رپورٹ کو شائع ہونے سے پہلے جاری کرنے کی اجازت نہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں