The news is by your side.

Advertisement

پڑوسی کی شکایت پر خاتون نے بیٹے سمیت خود کشی کیوں کی

ممبئی : بھارت میں اندوہناک واقعہ پیش آیا ہے، محض پڑوسی کی شکایت کرنے پر بیوہ خاتون نے اپنے چھوٹے بیٹے سمیت بارہویں منزل کود کر خود کشی کرلی، خاتون کے ساس سسر بھی کچھ روز قبل کورونا سے ہلاک ہوگئے تھے۔

عالمی وبا کورونا وائرس نے اب تک لاکھوں افراد کی جان لے لی تو بے شمار لوگوں کو دنیا میں بالکل اکیلا کردیا، ایک ایسا ہی واقعہ ممبئی اندھیری کے چاندیولی علاقہ میں رہنے والے ایک خاندان کے  ساتھ پیش آیا۔

مذکورہ علاقے کے ایک فلیٹ میں ریشما تینترل نامی خاتون رہائش پذیرتھیں جس میں ان کے شوہر اور بیٹے کے علاوہ ساس، سسر بھی رہتے تھے، گزشتہ دنوں اپریل کے مہینے میں کورونا سے ان کے ساس اور سسر کا انتقال ہوگیا اور پھر اس کے بعد ان کے شوہر شرد کا 23 مئی کو انتقال ہو گیا۔

اس دن کے بعد سے ریشما اور ان کا بیٹا گروڑ گھر میں اکیلے رہ گئے تھے لیکن اچانک 21 جون کو ریشما نے اپنے بیٹے کے ساتھ اپنے فلیٹ کی12ویں منزل سے کود کر خود کشی کرلی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق مقامی پولیس حکام نے بتایا کہ پولیس کو ان کے گھر سے ایک خود کشی کا نوٹ ملاہے جس میں ریشما نے لکھا ہے کہ ان کی بلڈنگ میں گیارہویں منزل پر رہنے والے ان کے پڑوسی نے ان کو پریشان کر رکھا تھا جس کی وجہ سے  تنگ آکر خود کشی کررہی ہوں۔

پولیس کے مطابق ریشما کا بیٹا کھیلتا تھا تو نیچے فلیٹ والوں کو شور سھے پریشانی ہوتی تھی جس کی وجہ سے ان لوگوں نے کئی مرتبہ سوسائٹی آفس اور تھانے میں بھی شکایت کی تھی۔ سوسائٹی کے ذمہ داران نے ریشما اور ان کے پڑوسی ایوب خان سے بات چیت کے ذریعہ معاملہ کو حل کرنے کے لئے کہا تھا اس بار بار کی شکایت کی وجہ سے ریشما نے یہ انتہائی قدم اٹھایا۔

پولیس افسر نے بتایا کہ خودکشی کے نوٹ کی بنیاد پر ایوب خان اور اس کے گھر والوں کے خلاف مقدمہ درج کر کے ایوب خان کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ باقی ملزمان کو ابھی تک گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔ مقتولہ کی لاش ان کے بھائی کی بیرون ملک آمد کے بعد حوالے کردی جائے گی۔

واضح رہے کہ متوفیہ ریشما صحافی رہ چکی تھی اور اب وہ صرف ایک گھریلو خاتون تھیں جبکہ ان کے شوہر ایک آن لائن ٹریڈنگ کمپنی میں چیف بزنس افسر تھے۔ ریشما نے 30 مئی کو ایک بہت جذباتی پوسٹ فیس بک پر تحریر کی تھی جس میں انہوں نے اپنے شوہر، اپنے تعلقات اور اپنی زندگی کے بارے میں بہت جذباتی انداز میں لکھا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں