The news is by your side.

Advertisement

کرونا وائرس کیسے مدافعتی نظام کو شکست دیتا ہے؟ اہم تحقیق منظر عام پر

دنیا میں تباہی پھیلانے والے کرونا وائرس کے بارے میں آئے روز نئی ریسرچ سامنے آرہی ہے، مگر اب سائنسدانوں نے اہم انکشاف کر ڈالا ہے، یہ انکشاف امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا ہے۔

پٹسبرگ یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ کرونا نے اپنے جینیاتی سیکونس کے معمولی حصوں کو ڈیلیٹ کرکے اسپائیک پروٹینز کی ساخت کو بدلا ہے، اسی بدلاؤ کے باعث نئے کرونا وائرس (سارس کوو 2) انسانی جسم کے اندر جاکر اپنے اسپائیک پروٹینز (اس کے باہری حصے میں کانٹوں جیسے حصے) کو استعمال کرکے خلیات میں داخل ہوتا ہے اور اپنی نقول بنانا شروع کردیتا ہے۔

آسان الفاظ میں وائرس نے اپنے اسپائیک پروٹینز کی ساخت کو ایسا بدلا ہے کہ وہ ہمارے مدافعتی نظام کو بے بس کردے اور اس کا نتیجہ اس کی نئی اقسام کی شکل میں نکلا۔

نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ سیکونس کے ان حصوں میں ڈیلیٹیشن کے نتیجے میں اسے ناکارہ بنانے والی اینٹی باڈیز اب اسے جکڑنے سے قاصر ہوجاتی ہیں، اس عمل کے نتیجے میں جو تبدیلیاں آئئیں وہ نئی اقسام کے جینیاتی مواد میں تبدیل ہوگئیں۔پنجاب میں کورونا

اس تحقیق کے ابتدائی نتائج گذشتہ سال نومبر میں پری پرنٹ سرور میں شائع ہوئے تھے اور اس وقت سے محققین کی جانب سے وائرس میں آنے والی تبدیلیوں کا مشاہدہ کررہے ہیں، جس دوران دنیا میں اس کی نئی اقسام ابھر کر سامنے آئی ہیں۔

سب سے پہلے برطانیہ اور جنوبی افریقا میں اس وائرس کی نئی اقسام کو دیکھا گیا جن کے جینیاتی سیکونس میں ڈیلیٹیشن کے عمل کو دیکھا گیا محققین نے اینٹی باڈیز کے خلاف مزاحمت کرنے والی تبدیلیوں کا سب سے پہلا مشاہدہ ایک کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے مریض میں کیا، جو کووڈ 19 کا 74 دن تک شکار رہ کر ہلاک ہوگیا تھا۔

اس طویل وقت کے دوران وائرس اور مدافعتی نظام کے درمیان چوہے بلی کا کھیل جاری رہا اور وائرس کو موقع ملا جس سے جینیاتی تبدیلیوں کا عمل تیز ہو اور وائرل جینوم میں ایسی میوٹیشنز ہوئیں جو دنیا کے لیے باعث تشویش بن گئیں۔کورونا کیسز

پٹسبرگ یونیورسٹی کی اس تحقیق کا آغاز دوہزار بیس کے موسم گرما کے دوران ہوا تھا اور ان کا خیال تھا کہ یہ نیا وا ئرس جینیاتی طور پر زیادہ مستحکم ہے، مگر جیسے جیسے تحقیقاتی ٹیم نے ڈیٹا بیس کی جانچ پڑتال کی، انہوں نے زیادہ ڈیلیٹیشن کو دریافت کیا اور ایک پیٹرن ان کی نظر میں ابھرنے لگا، یہ عمل تمام سیکونسز میں یکساں حصوں میں ہورہا تھا، وہ حصے جن کی ساخت میں تبدیلی سے وائرس کی خلیات پر حملہ آور ہونے اور اپنی نقول بنانے کی صلاحیت متاثر نہیں ہوتی۔

محققین کا کہنا تھا کہ اس پیٹرن کو دیکھ کر ہم پیشگوئی کرسکتے ہیں، اگر ایسا چند بار ہوا ہے تو ایسا مستقبل میں بھی ہوسکتا ہے، اس تحقیق کے دوران ہی اکتوبر میں محققین نے کرونا کی نئی برطانوی قسم یا بی 1.1.7 کو بھی دیکھا، جو اس وقت منظرعام پر نہیں آیا تھا، بلکہ اس کا کوئی نام بھی نہیں تھا، مگر اس کا جینیاتی سیکونس ڈیٹا سیٹس میں موجود تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  کرونا وائرس، ان 15 علامات کو معمولی نہ سمجھیں

محققین کا کہنا تھا کہ متعدد مختلف طریقوں سے وائرس کے پیچھے جاکر ہی ہم اس کی ساخت کی تبدیلی کو شکست دے سکتے ہیں، مختلف اینٹی باڈیز کا امتزاج، نانوباڈیز کا امتزاج، مختلف اقسام کی ویکسینز سے، اگر کوئی بحران ہووتا ہے تو ہمیں ان بیک اپ کے بارے میں علم ہونا چاہیے۔

اگرچہ تحقیق میں بتایا گیا کہ کس طرح یہ نیا وائرس ممکنہ طور پر موجودہ ویکسینز اور علاج سے بچنے کی کوشش کرسکتا ہے، تاہم یہ جاننا ناممکن ہے کہ ایسا کب تک ہوگا، اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل سائنس میں شائع ہوئے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں