The news is by your side.

کرونا وائرس: طبی ماہرین نے حاملہ خواتین کیلئے خطرے کی گھنٹی بجادی

واشنگٹن : طبی ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ کرونا وائرس کی لپیٹ میں آنے والی حاملہ خواتین میں فشار خون بڑھنے کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔

امریکا کے وائنی اسٹیٹ یونیورسٹی اسکول آف میڈیسین کی جانب سے اس حوالے سے تحقیق کی گئی، جس کے نتائج طبی جریدے امریکن جرنل آف اوبیسٹرک اینڈ گائنالوجی میں شائع ہوئے۔

تحقیق میں ماہرین نے کہا ہے کہ اگر حاملہ خواتین کرونا وائرس کا شکار ہوجائیں تو ان میں بلڈ پریشر بڑھنے کی شرح 62 فیصد تک بڑھ جاتی ہے اور اس سے ماں اور بچے کو شدید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہوتا ہے۔

محققین کے مطابق یہ پیچیدگی عموماً حمل کی دوسری سہ ماہی یا بچے کی پیدائش کے فوری بعد سامنے آتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ حمل کے 20 ویں ہفتے میں فشار خون میں اچانک اضافہ ہوجاتا ہے جس کی علامات سردرد، چہرے اور ہاتھوں پر سوجن، بینائی دھندلانا، سینے میں تکلیف اور سانس لینے میں مشکلات ہوتی ہیں۔

محققین نے کہا کہ مہلک وبا کی وجہ سے ایس 2 ریسیپٹر نامی پروٹین میں تبدیلی آتی ہے، جس سے ایس ٹو کے فشار خون ریگولیٹ کرنے کے افعال بدل جاتے ہیں۔

خیال رہے کہ ایس 2 ریسیپٹر انسانی خلیات میں داخلے کا ذریعہ بنتا ہے مگر یہ ریسیپٹر آنول میں خون کی روانی قائم کرنے کے لیے بھی بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق اس صورتحال کو طبی زبان pre-eclampsia میں کہا گیا ہے، جس کے باعث ہر سال 76 ہزار خواتین اور 5 لاکھ بچے موت کے منہ جاتے ہیں۔

اس تحقیق میں 7 لاکھ 90 ہزار سے زیادہ حاملہ خواتین پر ہونے والی 28 تحقیقی رپورٹس کا جامع تجزیہ کیا گیا تھا جن میں سے 15 ہزار 524 خواتین میں کووڈ کی تشخیص ہوئی۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق تمام مریض خواتین میں یہ اثر ایک دوسرے سے مختلف ہوسکتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں