The news is by your side.

Advertisement

کورونا کی نئی قسم اومیکرون مزید شدت سے سامنے آگئی

کورونا وائرس کی بہت زیادہ تیزی سے پھیلنے والی قسم اومیکرون جس کو بی اے ون بھی کہا جاتا ہے، اب دنیا بھر میں لگ بھگ تمام کوویڈ کیسز کا باعث بن رہی ہے۔

مگر سائنسدانوں کی جانب سے اومیکرون کی ذیلی قسم یا جینیاتی طور پر اس سے ملتی جلتی ایک اور قسم بی اے ٹو کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔

اب ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ بی اے ٹو اومیکرون تیزی سے تو پھیلتی ہے مگر اس سے متاثر ہونے والے افراد میں بیماری کی شدت بھی زیادہ ہوتی ہے جبکہ کوویڈ 19 سے بچاؤ کے چند اہم ہتھیاروں کےخلاف مزاحمت کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔

جاپان میں لیبارٹری تجربات کے دوران دریافت ہوا کہ بی اے ٹو ممکنہ طور پر کوویڈ 19 کی سابقہ اقسام بشمول ڈیلٹا کی طرح بہت زیادہ بیمار کرسکتی ہے۔

اومیکرون کی طرح بی اے ٹو ویکسینز سے پیدا ہونے والی مدافعت سے کافی حد تک بچنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے مگر بوسٹر ڈوز سے بیماری کا امکان 74 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ یہ نئی قسم چند ٹریٹمنٹس بشمول مونوکلونل اینٹی باڈی کے خلاف بھی مزاحمت کرسکتی ہے۔

بی اے 2 میں بھی بہت زیادہ میوٹیشنز ہوئی ہیں اور اس میں ایسی درجنوں جینیاتی تبدیلیاں موجود ہیں جو اسے اوریجنل اومیکرون قسم سے مختلف بناتی ہیں اور ایلفا، بیٹا، گیما اور ڈیلٹا اقسام بھی مختلف بناتی ہیں۔

ٹوکیو یونیورسٹی کی اس تحقیق میں شامل ماہرین نے بتایا کہ نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ بی اے ٹو کو اومیکرون کی قسم تصور نہ کیا جائے اور اس پر باریک بینی سے نظر رکھی جائے۔

انہوں نے کہا کہ شاید آپ جانتے ہوں کہ بی اے ٹو کو اسٹیلتھ اومیکرون بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ اس کی نوعیت پی سی آر ٹیسٹوں میں ظاہر نہیں ہوتی بلکہ اس کی شناخت کے لیے ایک اضافی قدم اور سیکونس کی ضرورت ہوتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بی اے ٹو کی شناخت پہلی چیز ہے جس کو متعدد ممالک کو اپنانا چاہیے خیال کیا جاتا ہے کہ بی اے ٹو اومیکرون کے مقابلے میں 30 سے 50 فیصد زیادہ متعدی ہے اور اب تک اس کے کیسز 74 ممالک میں دریافت وچکے ہیں۔

امریکا میں 4 فیصد نئے کووڈ کیسز بی اے ٹو کا نتیجہ ہیں مگر یہ کم از کم 10 ممالک میں بالادست قسم ہے مگر حقیقی دنیا میں اس سے ہونے والی بیماری کی شدت کے حوالے سے شواہد ملے جلے ہیں، جن ممالک میں یہ نئی قسم پھیل رہی ہے وہاں ہسپتالوں میں داخلے کی شرح کم ہورہی ہے۔

اس نئی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ بی اے ٹو اوریجنل اومیکرون کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے اپنی نقول خلیات میں بناتی ہے جبکہ یہ بہت تیزی سے خلیات کو ایک دوسرے سے جوڑتی ہے۔

ایسا کرنے سے وائرس کو اومیکرون کے مقابلے میں خلیات کے زیادہ برے مجموعے بنانے کا موقع ملتا ہے، ڈیلٹا بھی اس حوالے سے بھی کافی بہترین کام کرنے والی قسم ہے اور پھیپھڑوں کے لیے اسے تباہ کن بنانے والی بھی یہ ایک وجہ ہے۔

تحقیق کے دوران جب چوہوں کو اومیکرون اور بی اے ٹو سے بیمار کیا گیا تو بی اے ٹو سے وہ زیادہ بیمار ہوئے اور پھیپھڑوں کے افعال زیادہ بدتر ہوگئے۔

نتائج سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اومیکرون کی طرح بی اے ٹو بھی ویکسینیشن کرانے والے افراد کے خون میںموجود اینٹی باڈیز سے گزر سکتی ہے اور اس بیماری سے پہل ےمتاثر ہونے والے افراد میں موجود اینٹی باڈی کے خلاف مزاحمت کرتی ہے۔

مگر اچھی خبر یہ ہے کہ جو افراد حال ہی میں اومیکرون سے متاثر ہوئے اور ان کی ویکسینیشن ہوچکی تھی تو ان کو اس نئی قسم سے زیادہ بہتر تحفظ حاصل ہوجاتا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج ابھی کسی طبی جریدے میں شائع نہیں ہوئے بلکہ پری پرنٹ سرور بائیو ریکسیو پر جاری کیے گئے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں