The news is by your side.

Advertisement

عوام احتیاط کریں گے تو کرونا وائرس سے نمٹ سکتے ہیں، وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ عوام احتیاط کریں گے تو کرونا وائرس سے نمٹ سکتے ہیں، احتیاط کے بغیر کرونا وائرس سے نمٹنے میں مشکلات ہوسکتی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چین میں کرونا وائرس پھیلا تو پاکستانی طلبا کی واپسی کے لیے دباؤ آیا، چین نے بھی ہمیں کہا کہ پاکستانی طلبا کو نہ لے جائیں جس پر عمل کیا، چین کو مبارک باد دیتا ہوں کہ انہوں نے وائرس پر کنٹرول کرلیا، پاکستان میں ایک بھی کیس چین سے نہیں آیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ ایران میں کرونا وائرس بڑھا تو ان کی نمٹنے کی صلاحیت ختم ہوگئی، عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہوں ایران پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں، کرونا وائرس ایک عالمی وبا ہے ایسے میں ایران پر پابندیاں ختم ہونی چاہئیں، ایران کرونا وائرس سے نمٹنے کی کوششیں کررہا ہے.

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے اقدامات اٹھا رہے ہیں، دیگر ممالک کے تجربات دیکھ لیں انہوں نے بھی آئسولیشن کا راستہ اپنایا ہے، ایک دوسرے سے فاصلے کو اپنا کر ہی دنیا میں وائرس پر کںٹرول کیا جارہا ہے، کئی ممالک میں لاک ڈاؤن ہے، لوگوں کو گھروں تک محدود کردیا گیا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ این ڈی ایم اے کی جانب سے ہنگامی اقدامات اٹھائے جارہے ہیں، بیرون ممالک سے ضروری سامان منگوایا جارہا ہے، دوسرا خطرہ خوف ہے یعنی عوام میں خوف سے بہت نقصان ہوگا، خوف سے نمٹنے کے لیے میڈیا نے اہم کردار ادا کرنا ہے، بریکنگ نیوز کے بجائے عوام کو صرف حقائق بتائے جائیں، پیمرا اس حوالے سے چینلز کو کوڈ آف کنڈکٹ دے گا، چینل مالکان کو درخواست کروں گا خوف کی فضا پیدا نہ کی جائے۔

وزیراعظم نے کہا کہ افرا تفری کا ماحول بنا تو پھر بہت نقصان ہوگا، خدا نخواستہ ایسی صورتحال نہیں کہ لوگ ذخیرہ اندوزی شروع کردیں، ہم نے افواہوں کو ختم کرنا ہے مل کر کرونا وائرس سے نمٹنا ہے، چین میں بھی قوم نے مل کر کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے 2 مختلف اسٹریٹیجی سامنے آرہی ہیں، ایک اسٹریٹیجی کہ کراچی میں ایک قسم کا لاک ڈاؤن کیا گیا ہے، جس طرح کراچی میں مکمل لاک ڈاؤن کا سوچا گیا ہے ہم اس سے پیچھے ہیں، ہم نے کرکٹ میچز بند کردئیے، اسکول بند ہیں، شاپنگ مالز بند کردئیے، جہاں لوگ زیادہ جمع ہوتے تھے ان جگہوں کو ہم نے بند کردیا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ مکمل لاک ڈاؤن کریں گے تو ڈیلی ویجز سے لوگوں کو نقصان ہوگا، ہمارے پاس مکمل لاک ڈاؤن کے لیے وسائل بھی نہیں ہیں، کوشش کریں گے کرونا کے معاشی اثرات سے بھی نمٹیں، مالی امدادی پیکیج کا اعلان منگل کو کریں گے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں