The news is by your side.

Advertisement

کورونا پہلے سے زیادہ خطرناک شدت سے آنے والا ہے، سائنسدانوں کا دعویٰ

ٹوکیو : کورونا وائرس مزید خطرناک اور شدید علامات لے کر آنے والا ہے، اس بات کا انکشاف جاپانی سائنسدانوں نے اپنی تحقیق میں کیا ہے۔

دنیا بھر میں تباہی مچانے اور متعدد ممالک کی معیشت کو تہس نہس کرنے والا کورونا وائرس اب پہلے سے زیادہ خطرناک صورتحال اختیار کرنے کی جانب گامزن ہے۔

اس حوالے سے جاپانی سائنسدانوں پر مشتمل ایک گروپ نے پیش گوئی کی ہے کہ اس وقت دنیا بھر میں غالب آئے ہوئے کورونا وائرس کے نئے جرثوموں کا ظہور ہونے والا ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق وائرس کی یہ قسم زیادہ شدید، تیزی سے منتقل ہونے والی اور انتہائی خطرناک متغیر اقسام کے طویل مدت تک پھیلے رہنے کا باعث بن سکتی ہے۔

اس گروپ میں گریجویٹ یونیورسٹی فار ایڈوانسڈ اسٹڈیز سوکینڈائی کے پروفیسر ساساکی آکیرا شامل ہیں، گروپ نے وبائی جرثوموں کے تغیرات اور انسانی قوتِ مدافعت کا تجزیہ کرنے کے لیے ریاضیاتی طریقۂ کار کا اطلاق کیا۔

جب انسان مناسب قوت مدافعت حاصل کرتا ہے تو وائرسوں سمیت جرثومے بے اثر ہوجاتے ہیں لیکن وہ بار بار متغیر ہوکر جسم کے مدافعتی نظام سے بچ سکتے ہیں۔

مذکورہ گروپ کے مطابق اس کی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ زیادہ مقدار میں تیزی سے پھیل سکنے والے جرثومے انسانی قوت مدافعت سے بچنے اور تیزی سے منتقل ہونے کی زیادہ صلاحیت رکھتے ہیں۔

اس طرح کے جرثومے جن افراد میں داخل ہو جاتے ہیں، ان میں شدید بیماریاں پیدا کرسکتے ہیں، ممکنہ طور پر زیادہ کثرت سے پھیل سکتے ہیں۔

پروفیسر ساساکی کے مطابق بہت سی مختلف وبائی بیماریاں اب بھی موجود ہیں کیونکہ ان کے جرثوموں نے انسانی مدافعتی نظام کو ختم کردیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس مفروضے کی بنیاد پر مختلف اقدامات کیے جانے چاہئیں کہ کورونا وائرس ایسا ہی جرثومہ بن سکتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں