The news is by your side.

Advertisement

کیا یہ آکاس بیل ہے؟

تحریر: شہناز احد

یہ کون ہے جو بحر سے برِّاعظم اور برِّاعظم سے بحر، شمال سے جنوب، جنوب سے شمال، مشرق سے مغرب اور مغرب سے مشرق، اوپر سے نیچے، نیچے سے اوپر کسی شناختی کارڈ، پاسپورٹ، ویزے کے بغیر دندناتا ہوا پھر رہا ہے؟

ساری سرحدیں اور بندشیں پھلانگتا ہوا، ابھی اِدھر، کبھی اُدھر۔ نہ ہاتھ آئے، نہ دکھائی دے۔

اسے ہوائی جہاز، ریل گاڑی، بحری جہاز، موٹر کار، سائیکل، موٹر سائیکل کسی ذریعہ سفر کی حاجت نہیں۔ پورا گلوبل ولیج لرزہ بر اندام ہے۔ ہمارا وہ گاؤں جس پر ہمیں بڑا ناز تھا۔ جس میں رہنے اور جینے کے ہم نے نت نئے ڈھنگ، نرالے ڈھب نکالے اور ناز و انداز اپنائے۔

چھوٹی چھوٹی باتوں پر ہم انسان اپنے جیسے دوسرے انسانوں سے جانور سے بدتر سلوک کرتے تھے۔ اس نے تمام اقوامِ عالم سے وہی سلوک کیا۔

انسانی ہاتھوں، چہروں پر سوار، اپنی نمو کے لیے انسانوں کا خون پیتا، ان کی سانسوں سے الجھتا یہ کون ہے؟

یہ گورے، کالے پیلے، سانولے، ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی، بدھسٹ، فاشسٹ، سوشلسٹ، کمیونسٹ کسی شناخت، کسی علامت میں کوئی دل چسپی نہیں رکھتا۔

اسے تو جیسے اپنی بقا، اپنی نشوونما، اپنے پھلنے پھولنے کی فکر ہے۔ اسے تو ہمارا وجود جکڑ کر، ہمارا اندر تہس نہس کر کے، ہمیں موت کے منہ میں دھکیل کر بس اپنے جینے کا سامان کرنا ہے۔

کیا یہ کوئی آکاس بیل ہے؟

 


(بلاگر صحافتی، سماجی تنظیموں کی رکن، کڈنی فاؤنڈیشن آف پاکستان کی عہدے دار ہیں۔ مختلف معاشرتی مسائل اور صحتِ عامہ سے متعلق موضوعات پر لکھتی ہیں)

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں