The news is by your side.

Advertisement

کرونا وائرس: اٹلی میں صرف ایک دن میں ہلاکتیں 800 سے تجاوز کر گئیں

اسپتالوں میں گنجائش کم پڑنے پر بزرگوں کی جگہ نوجوانوں کو داخل کرنے کی تجویز

روم: اٹلی میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران جان لیوا کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد میں 31 فیصد اضافہ ہوگیا اور ہلاک افراد کی تعداد صرف ایک دن میں 196 سے 827 ہوگئی۔

اٹلی اس وقت جان لیوا کرونا وائرس سے متاثر ہونے والا چین کے بعد دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے، اٹلی میں وائرس کا یہ پھیلاؤ صرف گزشتہ ایک ہفتے کے اندر ہوا ہے۔

وائرس کے بدترین پھیلاؤ کے سبب میڈیکل فارمیسیز کے علاوہ دیگر تمام دکانیں اور کاروبار بند کروا دیے گئے ہیں۔ پورا ملک سنسان ہوگیا ہے اور سڑکیں خالی ہیں۔

دو روز قبل اٹلی میں لاک ڈاؤن کا اعلان کیا گیا تھا جس کے تحت اندرون ملک ایک سے دوسرے شہر غیر ضروری سفر پر پابندی عائد کردی گئی تھی، تمام عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کردی گئی، کھیلوں کے مقابلے بشمول فٹبال میچز منسوخ کردیے گئے اور تمام تعلیمی ادارے بند کردیے گئے تھے۔

اطالوی میڈیا کے مطابق لاک ڈاؤن کا اعلان ہوتے ہی لاکھوں افراد نے سپر اسٹورز پر یلغار کردی تاکہ اشیائے ضروریہ خرید کر ذخیرہ کی جاسکیں۔

لاک ڈاؤن کے باعث اب 6 کروڑ افراد قرنطنیہ کی صورتحال میں ہیں، حکام کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کی یہ صورتحال فی الحال 3 اپریل تک کے لیے نافذ کی گئی ہے۔

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق اٹلی نے کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے چین سے بھی مدد مانگ لی ہے، چین کرونا وائرس پر قابو پانے کی کوششوں کے لیے اٹلی کو 1 ہزار وینٹی لیٹرز، 20 لاکھ ماسک، 20 ہزار حفاظتی لباس اور 50 ہزار ٹیسٹ کٹس فراہم کرے گا۔

اب تک پورے اٹلی میں 12 ہزار افراد وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق اسپتالوں کو تجویز دی جارہی ہے کہ وہ کرونا کے مریضوں کو پہلے آنے کی بنیاد پر داخل کرنے کے بجائے وائرس کی شدت کے پیش نظر مریض داخل کریں۔

یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اگر اسپتالوں میں گنجائش کم پڑ گئی تو پھر مجبوراً وائرس کا شکار بزرگ افراد کی جگہ نوجوانوں کو ترجیح دی جائے گی اور انہیں علاج کے لیے اسپتال میں داخل کیا جائے گا۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں