The news is by your side.

Advertisement

کرونا وائرس کی تباہ کاریاں، دنیا کا پہلا وزیراعظم مستعفی

پرش ٹینا: کرونا وائرس کی وبا پر قابو پانے میں ناکامی کے بعد کوسوو کے وزیر اعظم کو اپنے عہدے سے ہاتھ دھونا پڑ گئے۔

برطانوی میڈیا رپورٹ کے مطابق کوسوو میں کرونا وائرس پھیلنے اور ملک میں مسلسل لاک ڈاؤن کی وجہ سے وزیراعظم البن کرتی کو اپوزیشن اور اپنی جماعت کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا تھا۔

آج ہونے والے اسمبلی اجلاس میں وزیر اعظم البن کرتی کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی جسے اراکین نے کثرت رائے سے منظور کیا۔

رپورٹ کے مطابق عدم اعتماد کی قرارداد منظور ہونے کے بعد وزیراعظم کرتی کو اپنے عہدے سے ہاتھ دھونا پڑ گئے۔

مزید پڑھیں: کروناوائرس: سعودی ولی عہد کا اہم اقدام

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکومت کی اتحادی جماعت کے رکن نے ایوان میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور انہیں کرونا پھیلنے کا قصور وار قرار دیا۔

بعد ازاں رکن اسمبلی نے قرار داد پیش کی جس کی اپوزیشن اور حکومتی بینچوں پر بیٹھے اراکین نے حمایت کی۔ رپورٹ کے مطابق اتحادی جماعتوں کو  وزیراعظم کرتی کے کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اقدامات سے اختلاف تھا۔

یاد رہے کہ کرتی نے دو ماہ قبل ہی بطور وزیراعظم اپنے عہدے کا حلف اٹھایا تھا اور ابھی وہ معاملات کو دیکھ ہی رہے تھے کہ اس دوران ملک میں کرونا کے کیسز سامنے آگئے۔ رپورٹ کے مطابق کوسوو میں کرونا کے 70 کیسز سامنے آئے ہیں جس کے بعد حکومت نے مختلف شہروں کو لاک ڈاؤن کر دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: دنیا کے لیے بڑی خوش خبری، 1 لاکھ افراد صحت یاب ہو گئے

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق کرونا کی وجہ سے سامنے آنے والی صورت حال کے بعد ملک میں فوری انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں، امکان ہے کہ پارلیمنٹ کے اندر ہی تبدیلی لائے جائے گی اور پھر کوئی نیا وزیراعظم منتخب کیا جائے گا۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں