The news is by your side.

Advertisement

’کرونا وائرس گھر میں دگنی تیزی سے پھیلتا ہے‘

نیویارک / بیجنگ: امریکا اور چین کے سائنسی ماہرین نے کہا ہے کہ گھروں میں کرونا وائرس سارس کے مقابلے میں دگنی رفتار سے بھی تیزی سے پھیلتا ہے۔

فرانسیسی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکا اور چین کے محققین نے کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے حوالے سے تحقیق کی، اس مطالعے کا مقصد کرونا کے کیسز میں کمی لانا اور نتائج کی بنیاد پر مزید اقدامات کرنا تھا۔

چین کے شہر گوانگ زو میں محققین نے کورونا کے 350 مریضوں اور ان کے دو ہزار کے قریب عزیز و اقارب کی تفصیلات جمع کیں اور معلوم کرنے کی کوشش کی کہ وائرس ایک متاثرہ شخص سے دوسرے کو کتنا متاثر کرتا ہے؟۔

تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جو لوگ کرونا مریضوں کے ساتھ نہیں رہے اور آپس میں ملاقات کرتے رہے اُن کے متاثر ہونے کی شرح 2.4 فیصد تھی جبکہ گھر میں قرنطینہ ہونے والے افراد کی شرح 17.1 فیصد رہی۔

ماہرین کے مطابق گھر میں 60 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں میں زیادہ انفیکشن پایا گیا اور 20 برس سے کم عمر میں سب سے کم انفیکشن پایا گیا۔

ماہرین نے تحقیق کے نتائج جنوری اور فروری میں جمع کی جانے والی تفصیلات کی بنیاد پر تیار کیے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ نتائج کو موجودہ حالات کے مطابق ابھی دوبارہ دیکھا جائے گا۔

تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کرونا کی علامات ظاہر ہونے سے قبل اپنے گھر والوں یا ساتھ رہنے والوں کو متاثر کرنے کی شرح اس سے بھی زیادہ 39 فیصد ہے۔

تحقیق کے مطابق گھروں میں اس کو پھیلنے سے روکنے کا طریقہ قرنطینہ ہے جسے اختیار کرنے سے اس کی دوسروں میں منتقلی 20 سے 50 فیصد روکی جا سکتی ہے۔

گوانگ زو سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے چن لونگ جنگ کا کہنا ہے کہ ’علامات ظاہر ہونے سے قبل وائرس کے تیزی سے پھیلنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مریض کے جاننے والے قرنطینہ کریں تاکہ اسے مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ ’تحقیقی نتائج سے یہ معلوم ہوا کہ وائرس بہت شروع میں ہی منتقل ہو سکتا ہے اور اس سے پہلے کہ متاثرہ کو مرض کا علم ہو جب تک یہ دوسروں میں پھیل چکا ہوتا ہے‘۔

Comments

یہ بھی پڑھیں