The news is by your side.

Advertisement

کورونا وائرس ہوا کے ذریعے پھیلنے کا سنسنی خیز انکشاف

نئی دہلی : کورونا وائرس کی وبا دنیا بھر میں خطرناک صورت حال اختیار کرچکی ہے جس کے باعث ہر ملک نے وبا کی روک تھام کے لئے رہنما ہدایات جاری کی ہیں اور عوام سے احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کی اپیل بھی کی جاتی رہی ہے۔

دنیا بھر کے صحت مراکز کی جانب سے جاری کی گئی رہنما ہدایات میں ابھی تک یہی کہا جاتا رہا ہے کہ کورونا وائرس ہوا کے ذریعے نہیں پھیلتا لہٰذا اگر کسی متاثرہ شخص کے نزدیک نہیں جائیں گے یا کسی ایسی چیز کو نہیں چھوئیں گے جس پر وائرس موجود ہو تو وائرس نہیں پھیلے گا۔

ابھی تک سائنسدانوں کا یہی خیال تھا کہ مہلک کورونا وائرس ہوا کے ذریعے نہیں پھیلتا لیکن میڈیکل جریدہ “دی لینسٹ”کا دعویٰ ہے کہ یہ وائرس ہوا سے بھی پھیلتا ہے اور اس کی دس وجوہات بھی بیان کی ہیں۔

طبی جریدے “دی لینسٹ” نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ وائرس کا پھیلاؤ ہوا کے ذریعے بھی ہو رہا ہے، لہٰذا سیکورٹی پروٹوکول میں تبدیلی کی اشد ضرورت ہے۔

مذکورہ رپورٹ انگلینڈ، امریکہ اور کینیڈا کے چھ ماہرین کی جانب سے تیار کی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہوا کے ذریعے کورونا وائرس نہیں پھیلتا، یہ ثابت کرنے کے لئے مکمل ثبوت نہیں ہیں جبکہ سائنسدانوں کا ایسا ہی خیال ہے۔

کسی سپر اسپریڈر ایونٹ کے بعد کورونا وائرس بہت تیزی کے ساتھ پھیلتا ہے، اس طرح کا پھیلاؤ قطروں کے بجائے ہوا کے ذریعے ہونا زیادہ آسان ہے۔

ہوٹلوں میں قرنطینہ کے دوران ملحقہ کمروں میں رہنے والے لوگوں کے درمیان وائرس کا پھیلاؤ دیکھا گیا ہے جبکہ یہ لوگ ایک دوسرے کے کمرے میں نہیں گئے۔

ماہرین کا دعویٰ ہے کہ تمام کوویڈ-19 کیسز میں 33 فیصد سے 59 فیصد معاملوں میں علامات ظاہر نہیں ہو رہی۔ اس طرح کے انفیکشن کی وجہ ہوا کے ذریعے وائرس کا پھیلاؤ ہوسکتا ہے۔

وائرس باہر کے بجائے اندر زیادہ پھیل رہا ہے، اندر اگر ہوا کے آنے جانے کے لئے پوری جگہ ہو تو پھر یہ کم پھیل رہا ہے۔ پی پی ای کٹ استعمال کرنے والے طبی اہلکار بھی وائرس کی زد میں آ رہے ہیں، ایسا غالباً اس لئے ہو رہا ہے کیونکہ ان کٹوں میں ہوا کے ذریعے آنے والے وائرس سے حفاظت کا کوئی طریقہ نہیں ہوتا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس ہوا میں موجود پایا گیا ہے، لیب میں وائرس کم از کم 3 گھنٹے تک ہوا میں رہا، کورونا کے مریضوں کے کمروں اور کار میں ہوا کے نمونوں میں وائرس پایا گیا ہے۔

کورونا کے مریضوں والے اسپتالوں کے ایئر فلٹرز اور بلڈنگ ڈکٹس میں وائرس پایا گیا ہے، ایسا صرف ہوا کے ذریعے پھیلنے کی وجہ سے ہی ہوسکتا ہے۔

ماہرین نے پایا کہ انفیکشن والے پنجروں میں بند جانوروں میں بھی وائرس کی علامات ظاہر ہوئی ہیں، ایسا ہوا کے ذریعے ہی ہوا ہوگا۔

اگر ماہرین کے نئے دعوے کو ثابت اور قبول کرلیا گیا تو کورونا کے خلاف جنگ کی حکمت عملی کا دنیا بھر میں بہت بڑا اثر پڑ سکتا ہے، اس کی وجہ سے لوگ کو اپنے گھروں میں بھی شاید ہر وقت ماسک پہننا پڑ سکتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں