The news is by your side.

Advertisement

کورونا ویکسین کی آزمائش، رضاکار کیا کہتے ہیں؟

آکسفورڈ:‌کورونا وائرس ویکسین کی آزمائش کے لیے خود کو رضاکارانہ طور پر پیش کرنے والے شخص نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ انہیں ٹرائل کے بعد سائیڈ افیکٹ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

برطانوی میڈیا کے مطابق سیموئن کورٹی نامی شخص نے مارننگ شو میں بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں لگ رہا ہے کہ آج جب ان پر ویکسین کی آزمائش کی جائے گی تو وہ بخار میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ویکسینیشن کے مضر صحت اثرات ہلکے یا بدترین بھی ہوسکتے ہیں، چند دن بخار بھی ہو سکتا ہے اور سر درد کے ساتھ ساتھ کھانسی بھی ہو سکتی ہے۔

سیموئن کورٹی کو لگتا ہے کہ کورونا ویکیسن کی آزمائش پر انہیں فلو اور مختلف جسمانی اعضا میں دردوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

مسٹر کورٹی نے واضح کیا کہ وہ سیکڑوں رضاکاروں میں سے ایک ہیں جنہوں نے اس آزمائش میں حصہ لیا تاکہ معلوم کیا جاسکے کہ یونیورسٹی آف آکسفورڈ کا ٹرائل محفوظ ہے یا نہیں، اس کی تصدیق ہونے کے بعد کوویڈ 19 کے مریضوں پر دوا کو آزمانے اور علاج کرنے کے لئے استعمال کیا جاسکے گا۔

رضاکار کا کہنا ہے کہ وہ اس اسکیم کا ایک بہت چھوٹا سا حصہ ہیں اگر ہماری حفاظت کو یقینی بنایا گیا تو دیکھتے دیکھتے کمیونٹی کے دیگر افراد بھی اس آزمائش میں اپنا حصہ ملانے کے لیے تیار ہو جائیں گے۔

اس آزمائش میں خود کو پیش کرنے والے 500 رضاکاروں کی اسکریننگ آکسفورڈ یونیورسٹی کے قریب جینر انسٹیٹیوٹ میں کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ برطانیہ میں کورونا ویکسین کی انسانوں پر آزمائش کے لیے 500 افراد نے آن لائن درخواست جمع کروا کر رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات پیش کی ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں