پاکستان دنیا کے سب سے زیادہ ماحولیاتی خطرے سے دوچار ممالک میں شامل ہے۔ ہر سال بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور بدلتے ہوئے بارش کے پیٹرن ہمارے کسانوں، خاص طور پر کپاس کے کاشت کاروں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
کپاس ایک حساس فصل ہے، جو تاخیر سے کاشت ہونے کی صورت میں کم پیداوار، زیادہ کیڑوں کے حملے (جیسے پنک بول ورم) اور بیماریوں کے پھیلاؤ کا شکار ہو جاتی ہے۔ لیکن اس کا ایک آسان اور مؤثر حل موجود ہے – جلد کاشت!
مارچ اور اپریل میں کپاس کی کاشت سے کسان 14 سے 35 فی صد تک زیادہ پیداوار حاصل کر سکتے ہیں۔ پھول بڑے، نشوونما بہتر اور بیماریوں کا دباؤ کم ہوتا ہے۔ جو کسان 15 اپریل تک کپاس کاشت کرتے ہیں، وہ فی ایکڑ 1,50,000 روپے تک کما سکتے ہیں۔ پنجاب حکومت پہلے ہی ان کسانوں کے لیے 25,000 روپے کی مالی امداد فراہم کر رہی ہے جو 15 فروری سے 31 مارچ کے درمیان کپاس کاشت کریں گے۔
ٹیکسٹائل انڈسٹری کی ضرورت
لیکن یہ صرف کسانوں کی مدد کا معاملہ نہیں – یہ پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرنے کا موقع ہے۔ ہماری ٹیکسٹائل انڈسٹری – جو ملک کا سب سے بڑا صنعتی شعبہ ہے – مکمل طور پر کپاس پر منحصر ہے۔ جلد کاشت ہونے والی کپاس اعلیٰ معیار کی ہوتی ہے، جو ہماری ٹیکسٹائل ملوں کو بہترین خام مال فراہم کرتی ہے۔ اس کا مطلب زیادہ برآمدات، زیادہ روزگار، اور مضبوط زرمبادلہ کے ذخائر ہیں۔ اس سے ہماری کپاس کی درآمد پر انحصار بھی کم ہوگا۔
کپاس صرف ایک فصل نہیں – یہ ہماری زمین، ہماری فیکٹریوں اور ہماری معیشت کی جان ہے۔ آج فیصلہ کریں – جلد کاشت کریں، زیادہ کمائیں، اور پاکستان کی معیشت کو سپورٹ کریں!
معاشی تحقیقاتی ادارے کی رپورٹ
معاشی تحقیقاتی ادارے اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈویلپمنٹ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اپریل کے وسط تک اپریل کی کاشت بہتر پیداوار دے سکتی ہے، کپاس کی فصل کو موسمیاتی تبدیلیوں کے نقصان سے بچانے کےلیے جلدی کاشت بہتر ہے، اور کپاس کی دیر سے بوائی کے موسمیاتی اثرات خطرناک ہو سکتے ہیں۔
ای پی بی ڈی کے مطابق کپاس کی دیر سے بوائی سے گلابی سنڈی کے حملوں کا خدشہ بڑھ جاتا ہے، اور یہ فی ایکڑ پیداوار متاثر کر سکتی ہے، کپاس کی بوائی 15 اپریل تک کی جائے تو پیداوار میں 14 سے 35 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے، اور کسان ڈیڑھ لاکھ روپے فی ایکڑ تک منافع حاصل کرسکتا ہے۔
ای پی بی ڈی کے مطابق کپاس کی بروقت بوائی کے لیے پنجاب حکومت کا 25 ہزار روپے کا اعلان خوش آیند ہے، کپاس کی بہتر پیداوار معاشی ترقی کے لیے بہتر ہے، اس سے روزگار میں اضافہ ہو سکتا ہے، اور کپاس کی بہتر پیداوار غربت میں کمی کا سبب بن سکتی ہے۔