The news is by your side.

Advertisement

مصطفی کمال کے خلاف غیر قانونی الاٹمنٹ کا ریفرنس قابل سماعت قرار

مجھے اب کوئی امید نظر نہیں آتی کہ ملک میں کچھ بہتری ہوگی

کراچی: احتساب عدالت نے پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفیٰ کمال کیخلاف سرکاری اراضی کی غیر قانونی الاٹمنٹ کا ریفرنس قابل سماعت قرار دے دیا ،مصطفی کمال پر کلفٹن میں پلاٹوں کی غیر قانونی الاٹمنٹ کا الزام ہے۔

تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت میں ساحل سمندر پر غیرقانونی طور پر الاٹمنٹ کیس کی سماعت ہوئی، چیئر مین پی ایس پی مصطفی کمال، سابق ڈی جی ایس بی سی اے افتخار قائمخانی اور دیگر ملزمان عدالت میں پیش ہوئے۔

عدالت نے سابق ڈی جی ایس بی سی اے افتخار قائمخانی، داوٴد جان، زین ملک و دیگر کی جانب سے ریفرنس کے ناقابل سماعت ہونے کی درخواست پر فیصلہ سنا دیا، فیصلے میں ملزمان کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ریفرنس قابل سماعت قرار دے دیا۔

عدالت نے ریفرنس کی مزید سماعت 4 دسمبر تک ملتوی کردی، مصطفی کمال اور سابق ڈی جی ایس بی سی اے افتخار قائمخانی سمیت دیگر ملزمان پر کلفٹن میں پلاٹوں کی غیر قانونی الاٹمنٹ کا الزام ہے۔

بعد ازاں پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفیٰ کمال نے عدالت میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرے اوپر لگائے گئے الزامات کا  کوئی سر پیر نہیں ہے، سندھ میں کتوں کے کاٹنے سے درجنوں لوگ مر رہے ہیں اور سندھ حکومت اپنی اجارہ داری قائم کرنے میں لگی ہوئی ہے۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ کل وزیر اعظم کی تقریر سے مایوسی ہوئی، مجھے اب کوئی امید نظر نہیں آتی کہ ملک میں کچھ بہتری ہوگی، فیصلہ عدالتوں کا تھا مگر وزیر اعظم کہتے ہیں کہ انہوں نے رحم کیا ، حکومت سے وابستہ تمام امیدیں ختم ہوگئیں، تب عدالتی نظام بہتر تھا، جب حکومت کی حمایت میں فیصلے آرہے تھے۔

پی ایس پی چیئرمین نے کہا سندھ کے بچوں کو کتے کاٹ رہے ہیں، ویکسین نہیں ہے، لوگ بیماریوں سے مر رہے ہیں، مہنگائی عروج پر پہنچ گئی ہے، بانی ایم کیو ایم نے بھارت میں سیاسی پناہ کی درخواست دی ہے، بابری مسجدکے فیصلے کو صحیح کہہ رہے ہیں، 3 سال قبل میری کی گئی پریس کانفرنس بالکل صحیح ثابت ہوئی۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں