The news is by your side.

Advertisement

قطری شہزادے کوسوالنامہ بھیجنےپرجےآئی ٹی ممبران میں اتفاق نہ تھا‘ واجد ضیاء

اسلام آباد : سابق وزیراعظم نوازشریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کل صبح 10 بجے تک ملتوی ہوگئی۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کررہے ہیں۔

سابق وزیراعظم نوازشریف، ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن صفدر احتساب عدالت میں پیش ہوئے۔

خواجہ حارث کی  واجد ضیاء پرجرح

استغاثہ کے گواہ واجد ضیاء نے عدالت کو بتایا کہ حماد بن جاسم کو13مئی2017 کوخط لکھا گیا، انہیں2 خطوط کے مندرجات کی تصدیق کے لیے طلب کیا، انہیں بیان ریکارڈ کرانے کے لیے طلب کیا۔

جے آئی ٹی سربراہ نے کہا کہ ہم نےانہیں متعلقہ دستاویزات اورریکارڈکےساتھ طلب کیا تھا، ہم نے خطوط کی بنیاد پرنہیں بلکہ ریکارڈ، ٹرانزیکشن، بینک ریکارڈ کا کہا تھا۔

واجد ضیاء نے کہا کہ حماد بن جاسم کوکہا کوئی معاہدہ دیں جوخطوط کے متن کی تصدیق کرے، میں نے حماد بن جاسم سے سپورٹنگ مواد مانگا تھا۔

استغاثہ کے گواہ نے عدالت کوبتایا کہ 24مئی2017 کوحماد بن جاسم نے 13مئی2017 کے خط کا جواب دیا، کوئی شک شبہ نہیں جوابی خط حماد بن جاسم نے ہی لکھا تھا، انہوں نے کہا کہ خطوط کی تصدیق کردی اب آنے کی ضرورت نہیں ہے۔

جے آئی ٹی سربراہ نے کہا کہ 24مئی2017 کوحماد بن جاسم کو ایک اورخط لکھا، 24 مئی والے خط میں بیان اور پہلے خطوط کے متن کی تصدیق کے لیے طلب کیا۔

واجد ضیاء نے عدالت کو بتایا کہ قطری شہزادے کوسوالنامہ بھیجنے پرجے آئی ٹی ممبران میں اتفاق نہ تھا، اہم معاملہ تھا اس لیے سپریم کورٹ کے پاناما عمل درآمد بنچ کوخط لکھا۔

استغاثہ کے گواہ نے کہا کہ رجسٹرار نے فون پر بتایا اہم معاملہ ہے جے آئی ٹی خود فیصلہ کرے، جے آئی ٹی خط میں یہ نہیں لکھا اتفاق نہ ہونے پر سپریم کورٹ کو آگاہ کیا۔

جے آئی ٹی سربراہ نے کہا کہ حماد بن جاسم نے کہا تھا پاکستان نہیں آسکتا، انہوں نے تجویز دی جے آئی ٹی ارکان قطر

آجائیں، حماد بن جاسم نے کہا کہ سوالنامہ بھجوا دیں، جے آئی ٹی ٹیم میں سوالنامہ پراتفاق نہ ہوسکا، جے آئی ٹی نے فیصلہ کیا سوالنامہ ابھی نہیں بھیجا جائے۔

خواجہ حارث اورنیب پراسیکیوٹر میں تلخ جملوں کا تبادلہ

نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر نے کہا کہ خواجہ حارث گواہ کوالجھانے کے لیے غیرضروری سوالات کررہے ہیں جس پرخواجہ حارث نے کہا کہ کیاعدالت بے بس ہے کہ گواہ عدالت کوڈکٹیٹ کرے گا۔

خواجہ حارث نے کہا کہ میں نےایسے پراسیکیوٹرنہیں دیکھے جوغیرضروری مداخلت کریں جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ایسے پراسیکیوٹراس لیےنہیں دیکھے کیونکہ مرضی کا پراسیکیوٹرنہیں ہے۔

سابق وزیراعظم کے وکیل نے سوال کیا کہ آپ نے یہ فیصلہ کیسے کیا کہ گواہ کوسوالنامہ نہیں بھجوانا جس پر جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاء نے جواب دیا کہ میں نے اپنی زندگی میں کبھی گواہ کوایڈوانس سوالنامہ نہیں بھیجا۔

خواجہ حارث نے کہا کہ کوئی قانون بتا دیں جوایڈوانس میں سوالنامہ بھیجنے سے منع کرتا ہو جس پراستغاثہ کے گواہ نے جواب دیا کہ کوئی قانون ایڈوانس میں سوالنامہ بھیجنے کی اجازت بھی نہیں دیتا۔

نوازشریف کے وکیل نے کہا کہ آپ نے کبھی کسی ہائی پروفائل کیس کی تفتیش کی جس پرواجد ضیاء نے جواب دیا کہ بینظیرقتل کیس، غداری کیس، وارکرائم ٹریبونل میں تفتیشی افسررہا۔

سابق وزیراعظم کے وکیل نے کہا کہ آپ نے29 سال کی سروس میں پولیس رول1861 پڑھے جس پر جے آئی سربراہ نے جواب دیا کہ کوئی رول ایڈوانس سوالنامہ بھیجنے کی اجازت دیتا ہے نہ روکتا ہے۔

ایون فیلڈ ریفرنس: جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا پر جرح

خیال رہے کہ گزشتہ روز سابق وزیراعظم نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے استغاثہ کے گواہ واجد ضیاء پر جرح کرتے ہوئے سوال کیا تھا کہ کیا آپ نے ایون فیلڈ پراپرٹیز سے متعلق نوازشریف کی ملکیت کی کوئی دستاویزات پیش کیں۔

جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاء نے جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ نہیں ایسی دستاویزات ہمارے پاس نہیں اور نہ ہی پیش کیں، ایون فیلڈ پراپرٹیز، نیلسن اور نیسکول کی ملکیت تھیں۔

خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ ایسی دستاویز پیش کریں جس سے ثابت ہو نواز شریف بینفیشل اونر ہیں جس پر واجد ضیاء کا کہنا تھا کہ ایسی دستاویزات نہیں جن سے ثابت ہو کہ نواز شریف بینفیشل اونر ہیں۔

بعدازاں احتساب عدالت نے شریف خاندان کے ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کل صبح 10 بجے تک ملتوی کردی۔

ایون فیلڈ ریفرنس : شریف خاندان کےخلاف واجد ضیاء کا بیان قلمبند

یاد رہے کہ 27 مارچ کوشریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس میں جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاء کا بیان قلمبند کیا گیا تھا جبکہ عدالت نے نیب کی جانب سے اضافی دستاویزات کو ریکارڈ کا حصہ بنانے کی درخواست منظورکی تھی۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں