The news is by your side.

Advertisement

کرونا وائرس کا ایک اور نقصان سامنے آگیا

کرونا وائرس کے طویل المدتی اثرات آہستہ آہستہ سامنے آرہے ہیں اور حال ہی میں ماہرین نے دریافتت کیا کہ کرونا وائرس کی وجہ سے ذہنی مسائل میں اضافہ ہورہا ہے۔

حال ہی میں سنگاپور میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق سے علم ہوا کہ ہر 3 میں سے 1 بالغ فرد بالخصوص خواتین، جوان اور غریب طبقے سے تعلق رکھنے والوں کو کووڈ 19 کے نتیجے میں ذہنی مسائل کا سامنا ہورہا ہے۔

طبی جریدے جرنل پلوس ون میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ لاک ڈاؤنز، قرنطینہ اور سماجی دوری کے اقدامات نے ذہنی دباؤ کو بڑھا کر لوگوں میں ذہنی بے چینی، ڈپریشن اور بے خوابی جیسے مسائل میں اضافہ کردیا ہے۔

تحقیق میں کہا گیا کہ ان عوامل کو سمجھنا ذہنی صحت کے پروگرامز کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

اس تحقیق کے دوران 68 تحقیقی رپورٹس کا تفصیلی تجزیہ کیا گیا جن میں 19 ممالک کے 2 لاکھ 88 ہزار سے زائد افراد شامل تھے اور ان عناصر کا تجزیہ کیا گیا جو ذہنی بے چینی اور ڈپریشن کا خطرہ عام آبادی میں بڑھاتے ہیں۔

محققین نے دریافت کیا کہ خواتین، نوجوان اور غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کوویڈ، دیہی آبادی اور کوویڈ کے زیادہ خطرے سے دوچار افراد اس بیماری سے جڑے ڈپریشن یا ذہنی بے چینی سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

تحقیق میں دیکھا گیا کہ خواتین میں نفسیاتی مسائل کا امکان مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق خواتین کے لیے طبی سہولیات کی فراہمی کو زیادہ ترجیح نہ دینا ممکنہ طور پر ان میں منفی ذہنی اثرات کا باعث بنتا ہے، 35 سال سے کم عمر افراد میں ذہنی مسائل کا تجربہ دیگر کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے، تاہم اس کی وجہ واضح نہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں