The news is by your side.

Advertisement

کرونا وائرس کے مریض کی موت سے قبل آخری فیس بک پوسٹ کیا تھی؟

ٹیکسس: امریکا میں کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والے ایک شخص نے اپنی موت سے قبل فیس بک پر پچھتاوے سے بھری پوسٹ لگائی جس میں اس نے سماجی فاصلوں کے اصول کی خلاف ورزی کرنے پر افسوس کا اظہار کیا۔

امریکی ریاست کیلی فورنیا میں 51 سالہ شخص ٹومی میکائس نے ایک پارٹی میں شرکت کی تھی جس کے ایک ہفتے بعد اس میں کرونا وائرس کی علامات ظاہر ہونا شروع ہوئیں۔

منگل کے روز اس نے اپنا کرونا وائرس کا ٹیسٹ کروایا جس کا مثبت نتیجہ اسے جمعرات کے روز موصول ہوگیا۔

ٹومی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر اپنی پوسٹ میں سخت پچھتاووں کا اظہار کیا، اپنی پوسٹ میں انہوں نے لکھا کہ وہ چند روز قبل باہر گئے تھے جہاں سے وہ کرونا وائرس کا شکار ہوگئے۔

انہوں نے لکھا کہ واپس آکر انہوں نے اپنی والدہ اور بہنوں کی صحت کو بھی خطرات لاحق کردیے، آپ میری طرح بے وقوف مت بنیں اور باہر نکلتے ہوئے ماسک کا استعمال ضرور کریں۔

ٹومی کی ٹیکسس میں مقیم بھانجی لوپیز نے بتایا کہ ابتدا میں ہمیں لگا کہ ان کی حالت ذیابیطس کی وجہ سے خراب ہوئی ہے لیکن جلد ہی علم ہوگیا کہ وہ کرونا وائرس کا شکار ہوچکے ہیں۔

لوپیز کے مطابق منگل کے روز ٹیسٹ کروانے اور جمعرات کے روز اس کا نتیجہ مثبت آنے کے بعد، اتوار کے روز انکل نے ہمیں فون کیا اور بتایا کہ انہیں سانس لینے میں بہت تکلیف کا سامنا ہے، انہوں نے ایمبولینس بلوائی ہے اور وہ اسپتال جا رہے ہیں۔

بھانجی کا کہنا ہے کہ ابتدا میں اسپتال میں انہیں آکسیجن دی گئی، تاہم ان کی حالت بگڑتی گئی جس کے بعد انہیں وینٹی لیٹر پر منتقل کیا گیا۔ اس کے ایک گھنٹے کے اندر اندر وہ چل بسے۔

لوپیز کے مطابق اس پارٹی میں صرف ایک شخص وائرس سے متاثرہ تھا لیکن اس نے ماسک نہیں پہن رکھا تھا، میرے انکل کے علاوہ پارٹی میں شرکت کرنے والے مزید 14 افراد بھی وائرس کا شکار ہوگئے ہیں، اگر یہ سب ماسک پہن کر رکھتے تو ایسا نہ ہوتا۔

خیال رہے کہ امریکا اس وقت کرونا وائرس کے مریضوں اور ہلاکتوں کے حوالے سے دنیا بھر میں پہلے نمبر پر ہے، اب تک 25 لاکھ سے زائد امریکی شہری کرونا وائرس کا شکار ہوچکے ہیں جبکہ وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 1 لاکھ 28 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں