The news is by your side.

Advertisement

بھارت کے ایک اسپتال میں کرونا مریضوں سے متعلق بھیانک انکشاف

بنارس: بھارتی ریاست اترپردیش کے ایک اسپتال کی عمارت میں کرونا متاثرہ اور عام مریضوں کا ایک ساتھ علاج ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

تفصیلات کے مطابق بھارتی شہر بنارس کی ہندو یونی ورسٹی کے سر سندر لال اسپتال کی بلڈنگ میں کرونا کے متاثرین اور اور نارمل مریضوں کا ایک ہی جگہ علاج جاری ہے۔

اسپتال کے ڈاکٹرز اور طبی اہل کار خود بھی اس معاملے پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں، انھوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ موجودہ صورت حال میں بڑے پیمانے پر کرونا وائرس پھیل سکتا ہے۔

میڈیا کا کہنا ہے کہ ایک طرف کرونا کی دوسری لہر کے پیش نظر حکومت تعلیمی اداروں اور دیگر بھیڑ والے مقامات سے متعلق گائیڈ لائن جاری کر کے ان پر عمل کرنے کی ہدایت جاری کر رہی ہے، دوسری طرف ہندو یونی ورسٹی کے اسپتال میں اس کے بر خلاف عمل جاری ہے۔

اسپتال کے ایک سینئر ڈاکٹر نے مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ اسپتال انتظامیہ کے اقدام سے ہاسٹل کے طلبہ بھی کرونا وائرس کا شکار ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سے یونی ورسٹی بند کی جا چکی ہے، تاہم اسپتال انتظامیہ اپنے اقدام پر نظر ثانی کے لیے تیار نہیں۔

رپورٹس کے مطابق اسپتال کی عمارت میں 30 سے زائد کرونا کے مریض زیر علاج ہیں، اسی بلڈنگ میں نارمل او پی ڈی بھی جاری ہے، ساتھ ہی بلڈنگ میں سینٹرلائز اے سی ہے، جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر کرونا وائرس کے پھیلنے کا خطرہ برقرار ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں