The news is by your side.

Advertisement

بھارتی گجرات میں گائے ذبح کرنے پر عمر قید کی سزا تجویز

نئی دہلی: بھارتی ریاست گجرات میں ریاستی حکومت نے گائے ذبح کرنے والوں کے خلاف سخت ترین اقدامات کرتے ہوئے ذبح کرنے والے کے لیے عمر قید کی سزا تجویز کردی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی کی آبائی ریاست گجرات میں گائے کے تحفظ کا قانون پہلے سے موجود ہے اور ریاست کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اس قانون کو مزید سخت کرنے پر غور کر رہی ہے۔

ریاست گجرات کے وزیر اعلیٰ وجے روپانی اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ انہوں نے گائے کے تحفظ کے لیے سپریم کورٹ میں مقدمہ لڑا اور اس کے تحفظ کا بل لے کر آئے۔ اب وہ اس قانون کو مزید سخت کریں گے تاکہ کوئی بھی گائے کو ذبح کرنے کی ہمت نہ کرے۔

مودی کے بے لچک پالیسی

یاد رہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی 2001 سے 2014 تک ریاست گجرات کے وزیر اعلیٰ رہے تھے اور ان کے دور میں گجرات میں گائے ذبح کرنے، گائے کے گوشت کی نقل و حمل اور اس کی فروخت پر مکمل پابندی عائد تھی۔

مودی کی وزارت اعلیٰ کے دوران سنہ 2011 میں تحفظ جنگی حیات ایکٹ بھی نافذ کیا گیا تھا جس کے تحت گائے ذبح کرنے والے شخص پر 7 سال قید کی سزا اور 50 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔

اب وزیر اعلیٰ وجے روپانی کا کہنا ہے کہ وہ اس ایکٹ میں ترمیم کا بل پیش کریں گے جس میں گائے ذبح کرنے یا گائے کا گوشت سپلائی کرنے والے شخص کو عمر قید کی سزا دینے اور اس کی گاڑی کو مستقل طور پر ضبط کر لینے کی تجویز پیش کی جائے گی۔

بھارت میں ریاستی حکومت کا یہ فیصلہ مسلمان دشمنی کی بدترین مثال ہے۔ دو روز قبل ریاستی انتخابات میں بی جے پی نے یوپی اور اترا کھنڈ میں ایک بار پھر دو تہائی اکثریت حاصل کر لی ہے تاہم بی جے پی کی حریف جماعت بہوجن سماج پارٹی کی رہنما مایا وتی کا کہنا ہے کہ بی جے پی نے انتخابات میں دھاندلی کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یو پی کے مسلمان مودی کو کیسے ووٹ دے سکتے ہیں۔ یہ فتح دھاندلی کے بغیر ممکن نہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں