The news is by your side.

Advertisement

خلا کے لیے پہلی کامیاب کمرشل پرواز

نیویارک: امریکا کی نجی کمپنی کا راکٹ امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا کے دو خلا بازوں کو لے کر خلائی اسٹیشن پر پہنچ گیا۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکا کی نجی کمپنی ’اسپیس ایکس‘ کا راکٹ ناسا کے دو خلا بازوں کو  لے کر گزشتہ روز بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کی طرف روانہ ہوا۔

اب سے کچھ دیر قبل راکٹ خلائی اسٹیشن پر کامیابی سے اتر گیا۔ خلا بازوں کے مطابق اسپیس ایکس نے پہلی کمرشل پرواز چلا کر نئی تاریخ رقم کی اور اب ایک نئے دور کا آغاز ہوگیا ہے۔

اسپیس ایکس کمپنی کے دو مدار پر مشتمل فالکن نائن راکٹ پر ناسا کے خلا باز ڈگلس ہرلی اور رابرٹ بیہنکن سوار ہوئے ہیں۔ راکٹ کو ہفتے کی رات امریکی ریاست فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس اسٹیشن سے بغیر کسی رکاوٹ کے چھوڑا گیا۔

راکٹ نے 19 گھنٹے کا سفر کرنے کے بعد خلا میں کامیاب لینڈنگ کی۔

اس مشن کے کمانڈر اور خلا باز ہرلی نے روانگی کے وقت خلا بازوں کو کنٹرول روم سے پیغام جاری کیا کہ ’ہمیں اس موم بتی کو جلا کر ایک نئی تاریخ رقم کرنا ہے‘۔

اسپیس ایکس کی روانگی کے ساتھ ہی پرائیویٹ اداروں کے لیے بھی خلا میں جانے کے دروازے کھل گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دس سال بعد یہ پہلا موقع ہے کہ امریکی خلا باز امریکی سر زمین سے خلا کے لیے روانہ ہوئے۔  یہ وہی لانچنگ پیڈ ہے جہاں سے نیل آرم اسٹرانگ اپالو گیارہ کے ذریعے پہلی مرتبہ چاند پر پہنچے تھے۔

خلابازوں کی روانگی کے وقت وہاں پر لوگوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بطور مہمان خصوصی شریک تھے جنہیں اس پروگرام کے حوالے سے آگاہ بھی کیا گیا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بریفنگ کے دوران خلابازوں کی راونگی کا خیر مقدم اور خوشی کا اظہار کیا۔

اسپیس ایکس کے مطابق خلائی جہاز پہلے بدھ کو روانہ ہونا تھا مگرموسم کی خرابی کے باعث عین موقع پر ناسا نے اس کی روانگی موخر کر دی تھی۔

Image

خلا بازوں کے لیے فالکن نائن میں خصوصی طور پر ڈیزائن کردہ کپیسول رکھا گیا، جس میں تمام ضروری سہولیتں فراہم کی گئی ہیں۔

یاد رہے کہ امریکا کے خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا نے 2013 میں خلائی اسٹیشن تک انسانوں کو لے جانے کی اجازت دی۔ اس مقصد کے تحت تین ارب ڈالرز کی فنڈنگ کی گئی جس میں اسپیس ایکس کی ڈیزائنگ، تعمیر، آزمائش اور دوبارہ قابل استعمال کیپسول کی تیاری شامل تھی۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں