محمد بن سلمان پر تنقید، سعودی تاجر دہشت گردی اورغداری کے مقدمے گرفتار Essam al-Zamil
The news is by your side.

Advertisement

محمد بن سلمان پر تنقید، سعودی تاجر دہشت گردی اورغداری کے مقدمے گرفتار

ریاض : ولی عہد محمد بن سلمان اور حکومتی پالیسیوں کو ہدف تنقید بنانے کے جرم سعودی تاجر گرفتار، ریاستی حکام نے دہشت گردی اور غداری کا مقدمہ درج کردیا۔

تفصیلات کے مطابق سعودی عرب کے حکام نے سعودی تاجر کو ریاست کے ولی عہد محمد بن سلمان بن عبد العزیز کو تنقید کا نشانہ بنانے کے جرم میں گرفتار کرکے جیل منتقل کیا گیا تھا جہاں انہیں شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

نجی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ اعصام الزامل کو شام و عراق میں سرگرم دہشت گرد تنظیم داعش اور قطری حکومت سے تعلقات کے جرم میں گرفتار کرکے دہشت گردی اور غداری کا مقدمہ درج کیا گیا۔

سعودی میڈیا کا کہنا تھا کہ گرفتار تاجر کو مذکورہ مقدمات کے تحت سزائے موت یا عمر قید ہوسکتی ہے۔

غیر ملکی میڈیا نیوز ایجنسی کے مطابق بیرون ملک سے تعلیم حاصل کرنے والے سعودی شہری نے خود اپنا کاروبار کھڑا کیا تھا، اعصام کو گذشتہ برس ایک درجن افراد کے ہمراہ گرفتار کیا گیا تھا۔

عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ اعصام الزامل معروف کاروباری شخصیت ہونے ساتھ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر کاروبار کے حوالے مشورے دیا کرتے تھے جو ان کی وجہ شہرت تھی۔

عرب خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ اعصام الزامل رواں برس امریکا سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرکے تعلیم مکمل کرنا چاہتے تھے تاہم گذشتہ سال ستمبر میں محمد بن سلمان کے وژن 2030 پر تنقید کرنے کے جرم میں پولیس حکام نے انہیں گرفتار کرلیا۔

عرب میڈیا کا کہنا تھا کہ سعودی تاجر اعصام الزامل پر شہریوں کو بادشاہت کے خلاف اکسانے کا عائد کیا گیا ہے، تاہم اہل خانہ کی جانب سے تمام الزامات کی تردید کرتے بیان جاری ہوا ہے کہ پولیس حکام نے اعصام کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا ہے جس کے باعث ان کی حالت تشویش ناک ہے۔

خیال رہے کہ سعودی حکومت کی جانب سے گذشتہ کچھ عرصے سے سوشل میڈیا پر حکومتی پالیسی اور شاہی خاندان کو ہدف تنقید بنانے والے افراد کے خلاف کریک ڈاؤن کا سلسلہ جاری ہے۔

سعودی حکام نے رواں ماہ اعلان کیا تھا کہ جو بھی شہری ریاست کے امن و استحکام کو سبوتاژ کرنے والے اور نا مناسب مواد کی تشہیر کرنے والے سوشل میڈیا صارفین کو 5 برس قید اور 8 لاکھ ریال جرمانے کا سامان کرنا پڑے گا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں