The news is by your side.

Advertisement

تاریخ میں پہلی بار تیل کی عالمی قیمت منفی 37.63 ڈالر فی بیرل ہوگئی

نیو یارک : کورونا وائرس کی وجہ سے عالمی سطح پر ہونے والے لاک ڈاؤن کے باعث تیل کی کھپت نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے جس کی وجہ سے قیمتیں منفی سے بھی نیچے چلی گئی ہیں اور اب کمپنیاں لوگوں کو تیل خریدنے کے پیسے دینے لگیں گی۔

تفصیلات کے مطابق دنیا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت منفی سطح تک گر گئی ہے، تیل ساز کمپنیاں مئی میں تیل ذخیرہ کرنے کی سہولیات اور زخائر بھر جانے کے خطرے کے پیش نظر خریداروں کو خود سے پیسے ادا کر رہی ہیں۔

امریکہ کی تیل کمپنیوں کے مروجہ معیار ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کے مطابق تیل کی قیمت منفی 37.63 ڈالر فی بیرل کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔

کورونا وائرس کی وبا کے باعث دنیا بھر میں لاک ڈاؤن کے وجہ سے عالمی سطح پر تیل کی کھپت اور طلب میں بہت کمی آئی اور تیل کی منڈی کریش کر گئی ہے۔ جس کے نتیجہ میں تیل ساز کمپنیوں کو کرائے پر ٹینکرز لے کر اضافی تیل کو ذخیرہ کرنا پڑ رہا ہے اور اس سبب امریکی تیل کی قیمت منفی سطح تک گر گئی ہے۔

پیر کے روز عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں انتہائی گراوٹ کی وجہ ایک تکنیکی بنیاد بھی بنی کیونکہ تیل کی تجارت اس کی مستقبل کی قیمت سے حساب سے کی جاتی ہے اور مئی تک کے کیے گئے معاہدہ منگل کو ختم ہو رہے ہیں۔

لہذا تیل ساز کمپنیاں ان معاہدوں کے تحت خریدے گئے تیل کو متعلقہ ممالک کے حوالے کرنا چاہتی ہیں تاکہ انھیں اس کو ذخیرہ کرنے کے لیے اضافی اخراجات برداشت نہ کرنا پڑیں۔

عالمی سطح پر تیل کی صنعت کواس وقت تیل کی گرتی ہوئی مانگ اور تیل پیدا کرنے والے ممالک کے درمیان اس کی پیداوار کو کم کرنے پر اختلافات جیسے مسائل کا شکار ہے، عالمی سطح پر اب بھی خام تیل کی رسد دنیا کی ضرورت سے کہیں زیادہ ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں