The news is by your side.

Advertisement

انڈونیشیا کی علماء کونسل نے کرپٹو کرنسی کو حرام قرار دیدیا

جکارتہ : انڈونیشیا کی علماء کونسل نے بٹکوائن سمیت ہر قسم کی کرپٹو کرنسی کی تجارت اسلامی قوانین کے برخلاف قرار دے دی۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق انڈونیشیا آبادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا مسلمان ملک ہے جہاں مسلمانوں کی آبادی 20 کروڑ 70 لاکھ ہے اور مسلم اکثریتی ملک میں دیگر ممالک کی طرح کرپٹو کرنسی کے ذریعے تجارت کا رجحان بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

انڈونیشیا کے وزیر تجارت کے مطابق رواں برس ابتدائی پانچ ماہ میں انڈونیشیا میں کرپٹو کرنسی کے ذریعے تجارت کا حجم 26 ارب امریکی ڈالر ریکارڈ کیا گیا ہے، ڈیجیٹل کرنسی کے بڑھتے ہوئے اس رجحان کو دیکھتے ہوئے انڈونیشیا کے مرکزی بینک نے اپنی بھی ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرنے پر غور شروع کیا تھا۔

مرکزی بینک کے کرپٹو کرنسی متعارف کرانے پر غور کرنے کے اعلان کے بعد علماء کونسل نے ڈیجیٹل کرنسی کے حرام ہونے کا فتویٰ جاری کیا۔

کرپٹو کرنسی کے ذریعے تجارت کو روکنے کےلیے انڈونیشیا کی علماء کونسل نے بٹکوائن سمیت ہر قسم کی ڈیجیٹل کرنسی کو اسلامی قوانین سے متصادم قرار دیا ہے۔

انڈونیشین علماء کونسل کی جانب سے فتویٰ جاری کیا گیا ہے کہ کرپٹو کرنسیوں کی تجارت جوئے جیسی ہے اور جوا اسلام میں حرام ہے جس کی وجہ ڈیجیٹل اثاثوں کے طور پر کرپٹو کرنسیوں کی خرید و فروخت میں بے یقینی کے عنصر پایا جانا ہے اور ایسا جوئے میں ہوتا ہے، اسی پہلو سے یہ عمل حرام ہے۔

واضح رہے کہ علماء کونسل کو انڈونیشیا کا سب سے طاقتور ادارہ سمجھا جاتا ہے، جس نے کرپٹو کرنسی کے حرام ہونے سے قبل مشہور آن لائن گیم پب جی اور آن لائن قرضوں کو غیر اسلامی قرار دیا تھا، حتیٰ کہ علماء کونسل نے کرونا ویکسین کے استعمال کو بھی ناجائز قرار دیا تھا اگر اس میں خنزیر سے حاصل کردہ مصنوعات شامل کی گئی ہوں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں