The news is by your side.

Advertisement

مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کشیدگی کو 116 روز، اسکول نذر آتش

سرینگر: مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کشیدگی کو 116 دن ہوگئے۔ بھارتی مظالم کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر بھارتی فورسز کے تشدد سے متعدد افراد زخمی ہوگئے۔ نامعلوم افراد نے ایک اور اسکول کو آگ لگا دی۔

تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں زندگی مفلوج ہوئے 116 روز ہوگئے۔ تعلیمی ادارے بند، کاروباری مراکز معطل اور دکانوں پر تالے پڑے ہیں۔ ٹریفک سے خالی سڑکوں پر بندوق بردار بھارتی فوجیوں کا راج ہے۔

سرینگر سمیت مقبوضہ وادی میں بھارتی مظالم کے خلاف مظاہرے بھی جاری ہیں۔ فورسز کے تشدد سے متعدد مظاہرین زخمی ہوگئے۔ احتجاج کو دبانے کے لیے سیکیورٹی فورسز کے اضافی دستے تعینات کردیے گئے۔

مقبوضہ کشمیر میں کشمیری 3 ماہ سے نماز جمعہ سے محروم *

مقبوضہ وادی میں اسکولوں کو نذر آتش کرنے کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا۔ اب تک جلائے جانے والے اسکولوں کی تعداد 27 ہوگئی۔

اس سے قبل اسیر حریت لیڈر یاسین ملک نے رہائی کے بعد میڈیا سے گفتگو کی جس میں ان کا کہنا تھا کہ دہلی کو پاکستان کا شکر گزار ہونا چاہیئے کہ وہ کشمیر کی تحریک کی اسلحے سے مدد نہیں کرتا، بصورت دیگر بھارت کو کم از کم 20 ہزار مسلح حریت پسندوں کا سامنا کرنا پڑتا جو اس کے لیے ناممکن ہے۔

ان کا کہنا تھا، ’گزشتہ ایک سال میں لگ بھگ 100 کے قریب جوانوں نے بھارتی فورسز سے اسلحہ چھینا اور مسلح جدو جہد کا راستہ اپنایا ہے جس کے لیے دہلی پاکستان کو مورد الزام ٹہراتا ہے‘۔

یاسین ملک گزشتہ کئی روز سے قید میں تھے اور دوران علاج غلط انجکشن لگنے پر ان کی طبعیت ناساز ہوگئی تھی جس کے بعد بھارتی حکومت نے ہفتے کے روز انہیں چشمہ شاہی سب جیل سے رہا کیا تھا۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں