امریکا سے تنازع، ترک کرنسی کی قدر میں مزید کمی واقع: lira: turkey: us
The news is by your side.

Advertisement

امریکا سے تنازع، ترک کرنسی کی قدر میں مزید کمی واقع

انقرہ: امریکا اور ترکی کے مابین تجارتی تعلقات میں کشیدگی کے باعث ترکی کرنسی کی قدر میں مزید کمی واقع ہوگئی۔

تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی کی فولاد اور المونیم کی امریکا درآمد کی جانے والی مصنوعات پر بہت زیادہ نئے درآمدی ٹیکس عائد کیے تھے، جس کے بعد ترک کرنسی لیرا کی قدر میں ریکارڈ کمی واقع ہوئی تھی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق عالمی مالیاتی منڈیوں میں ترک کرنسی لیرا کی قدر تقریباً پانچ فیصد مزید کم ہوئی ہے، اور لیرا کی قدر امریکی ڈالر کے مقابلے میں چالیس فیصد کم ہو چکی ہے، جس کے باعث ترک حکام کو تشویش ہے۔

دوسری جانب امریکا اور ترکی کے درمیان حالیہ تجارتی جنگ سے متعلق ترک وزیر خزانہ بیرات البیراق نے فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں اپنے فرانسیسی ہم منصب ’لیمیری‘ سے ملاقات کی۔

امریکا سے تنازع ترک کرنسی پر اثرانداز ہونے لگا، لیرا کی قدر میں ریکارڈ کمی

ترک وزیر خزانہ کا اس موقع پر کہنا تھا کہ اُن کا ملک جلد ہی کرنسی کے بحران پر قابو پا لے گا، ترکی کو امریکا کی جانب سے اقتصادی جنگ کا سامنا ہے، حالات جلد سنبھل جائیں گے۔

خیال رہے کہ امریکا اور ترکی کے درمیان تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں، اس کی وجہ ترکی میں ایک امریکی پادری کی گرفتاری بنی تھی، جسے اپنے خلاف دہشت گردی کے الزامات کا سامنا ہے، ٹرمپ انتظامیہ کا مطالبہ ہے کہ اس پادری کو رہاکیا جائے۔

یاد رہے کہ گذشتہ دنوں امریکا نے دہشت گردوں سے رابطے کے الزام میں گرفتار امریکی پادری کو رہا نہ کرنے کی صورت میں ترکی پر مزید اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی دی تھی۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 10 اگست کو یہ اعلان کیا تھا کہ وہ ترکی سے امریکا میں دھاتوں اور دھاتی مصنوعات کی درآمدات پر عائد کردہ محصولات کو دوگنا کر رہے ہیں، جس کے بعد ترک کرنسی لیرا کی قدر میں ریکارڈ کمی واقع ہوئی تھی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں