The news is by your side.

Advertisement

امریکا پر خطرناک سائبر حملے، اہم راز فاش ہونے کا خدشہ

واشنگٹن : امریکہ کے سرکاری اور نجی اداروں کو باقاعدہ مہم کے تحت سائبر حملوں کا نشانہ بنانے کا انکشاف ہوا ہے, جس کے نتیجے میں 30 ہزار اداروں کا ڈیٹا غیر محفوظ ہوگیا ۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق گزشتہ چند دنوں میں کم از کم 30 ہزار امریکی اداروں کو سائبر حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے جن میں سرکاری ادارے بھی شامل ہیں۔

کمپیوٹر سیکیورٹی کے ماہر برائن کریبز کے مطابق اس مہم کے تحت مائیکرو سافٹ کے ایکسچینج سافٹ ویئر میں خامیوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ای میلز چرائی گئی ہیں اور کمپیوٹر سرورز کو متاثر کیا گیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے سائبر سیکیورٹی کے ان حملوں کو فعال خطرہ قرار دیا ہے۔ ترجمان جینیفر پساکی کا کہنا تھا کہ سائبر حملے سے متعدد افراد کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

گزشتہ روز مائیکروسافٹ کمپنی کی جانب سے سافٹ ویئر میں خامیوں کی نشاندہی کے بعد سائبر حملوں کی تعداد میں ایک دم اضافہ ہو گیا تھا۔

متاثر ہونے والی 30ہزار کمپنیوں میں چھوٹے کاروباری اداروں کے علاوہ مقامی حکومتوں کے دفاتر بھی شامل ہیں۔

مائیکروسافٹ نے رواں ہفتے کے آغاز میں کہا تھا کہ حکومت کی سرپرستی میں ہیکنگ گروپ حملے جاری رکھے ہوئے ہے، جو ایکسچینج ای میل سروس کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ڈیٹا چوری کر رہا ہے۔

مائیکروسافٹ کے مطابق ہافنیئم نامی ہیکنگ گروہ اس کام میں انتہائی مہارت رکھتا ہے۔ مائیکرو سافٹ نے مزید کہا ہے کہ یہ گروہ چین میں موجود ہے لیکن امریکہ میں لیز شدہ نجی کمپیوٹر سرورز کے تحت حملے کر رہے ہیں۔

ماضی میں بھی ہافنیئم نامی یہ گروہ یونیورسٹیوں، تھنک ٹینکس، این جی اوز، دفاعی کنٹریکٹر، وبائی امراض کے محققین اور لا فرمز کو سائبر حملوں کا نشانہ بنا چکا ہے۔

کمپیوٹر سیکیورٹی کے ماہر برائن کریبز کا کہنا تھا کہ مذکورہ ہیکرز نے دنیا بھر میں ہزاروں کی تعداد میں کمپیوٹرز کو اپنے قابو میں کیا ہوا ہے۔

واضح رہے کہ رواں سال جنوری میں امریکی حساس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سولر ونڈز ہیک کا ذمہ دار روس کو ٹھہرایا تھا۔

سولر ونڈز نامی سافٹ ویئر کے تحت امریکی محکمہ خزانہ اور کامرس کے علاوہ دیگر اداروں کو سائبر حملوں کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں