The news is by your side.

Advertisement

سائبر سیکیورٹی: گھر سے کام کرنے والے 50 فیصد افراد اپنی کمپنیوں کے لیے خطرہ

ریاض: سائبر سیکیورٹی فراہم کرنے والی ایک کمپنی کا کہنا ہے کہ گھر سے کام کرنے والے 50 فیصد عرب شہری ڈیجیٹل سیکیورٹی سسٹم کے حوالے سے کوئی معلومات نہیں رکھتے، اس سے ان کی کمپنیوں کے ڈیٹا کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔

سعودی ویب سائٹ کے مطابق عرب ممالک کے لیے سائبر سیکیورٹی فراہم کرنے والی کمپنی نے اپنی ایک سروے رپورٹ میں کہا ہے کہ گھروں سے کام کرنے والے 50 فیصد عرب ڈیجیٹل سیکیورٹی سسٹم سے واقف ہی نہیں۔

سروے رپورٹ میں ماہرین نے توجہ دلائی کہ دنیا بھر میں گھروں سے کام کرنے والے 45 فیصد عرب ملازم ایسے ہیں جنہیں گھر سے کام کرنے کے زمانے میں ڈیجیٹل سیکیورٹی سے متعلق احتیاطی تدابیر کی بابت کمپنیوں نے کچھ نہیں بتایا۔

سروے میں یہ جاننے کی کوشش کی گئی ہے کہ گھروں سے کام کرنے والے ملازم لیپ ٹاپ اور نیٹ ورک پر ڈیجیٹل ہیکنگ کی بڑھتی ہوئی وارداتوں سے خود کو کس طرح بچا رہے ہیں یا انہوں نے اس حوالے سے کیا تیاری کی ہے۔

بیشتر ملازمین نے رائے عامہ کے جائزے میں اعتراف کیا کہ انہیں یہ بھی پتہ نہیں کہ ڈیجیٹل ہیکنگ سے اپنے لیپ ٹاپ اور کمپیوٹرز کو بچانے کے لیے کیا کچھ کیا جاسکتا ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ورک فرام ہوم کے دوران ملازمین کے لیپ ٹاپ یا کمپیوٹرز پر ڈیجیٹل ہیکرز کوئی واردات کرتے ہیں تو ایسی صورت میں کاروباری عمل متاثر ہوگا اور اس سے کمپنی کا ڈیٹا تباہ اور بہت سے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

ماہرین نے ایک اور تشویش ناک اطلاع یہ دی ہے کہ آن لائن کام کرنے والے 54 فیصد افراد نے بتایا کہ ان کے لیپ ٹاپ سیکیورٹی سسٹم سے آراستہ نہیں، حالانکہ کمپنیوں کے لیپ ٹاپز میں اس قسم کے انتظامات کیے جاتے ہیں۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ سروے کے نتائج سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ عرب ملازمین کے یہاں ڈیجیٹل سیکیورٹی سسٹم میں بڑی کمی ہے جس سے متعلقہ ملازمین کی کمپنیاں خطرات سے دو چار ہو سکتی ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں