The news is by your side.

Advertisement

شدید گرمی کی لہر: سمندری طوفان وایو کراچی کے جنوب سے 475 کلومیٹر دور

کراچی : محکمہ موسمیات کا کہنا ہے سمندری طوفان وایو مغرب کی جانب بڑھنے لگا ہے اور کراچی کےجنوب سے 475 کلو میٹر دور ہے جبکہ وایو گجرات کے علاقے کچھ سے سترہ اوراٹھارہ جون کو ٹکرا سکتا ہے تاہم طوفان کی شدت کم ہوجائے گی۔

تفصیلات کے مطابق محکمہ موسمیات کی جانب سےساتواں ٹروپیکل سائیکلون الرٹ جاری کردیا گیا ، جس میں بتایا گی مشرقی وسطی سمندر سے 6گھنٹے کی رفتارسے سمندری طوفان مغرب کی جانب رواں دواں ہے، وایوکراچی کےجنوب میں475کلومیٹردورہے تاہم کراچی میں سمندری ہوائیں معطل ہیں اور شہر شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق سائیکلون کےمرکزمیں ہواؤں کی رفتار120سے130کلومیٹرفی گھنٹہ ہے تاہم ہوائیں کبھی145 کلومیٹرکوبھی چھورہی ہیں۔

میٹ آفس کا کہنا ہے 18سے24گھنٹےمیں طوفان مغرب کی جانب مڑجائے گا ، مغرب کی جانب جانےکےبعدطوفان کارخ شمال مشرق کی جانب ہوگا، شمال مشرق کی طرف طوفان کی شدت کم ہوگی اورکمزور ہوگا۔

چیف میٹرولوجسٹ نے بتایا آئندہ 2 دن کے دوران سائیکلون سمندری میں ہی موجود رہے گا، یہ طوفان سمندر میں ٹھہراو کے بعد وہیں ختم ہوجائے گا۔

بحیرہ عرب میں آنے والے طوفان وایو کے باعث کراچی میں تین روز سے جاری شدید گرمی کی لہر برقرار ہے، شہرقائد میں آج بھی درجہ حرارت بھی چالیس تک جانےکاامکان ہے۔

محکمہ موسمیات کےمطابق شہرقائد میں ہیٹ ویو کاسلسلہ سولہ جون تک جاری رہےگا، بیس جون سےبونداباندی ہوگی اور جولائی میں مون سون کاآغازہوگا۔

کراچی میں شدید گرمی سےشہریوں کابرا حال ہے، شہر کےمختلف مقامات پر پولیس کے ہیٹ ویو سے بچنے کیلئے کیمپ قائم کئے گئے ہیں۔

وایو طوفان سندھ کی ساحلی پٹی پر اثرات نمایاں ہیں ، سمندر میں طغیانی کے باعث سجاول کی ساحلی تحصیل جاتی اور شاہ بندر میں کئی دیہات زیرآب آگئے ہیں اور متاثرہ علاقوں میں زمینی رابطہ کٹ گیا۔ علاقہ مکین کشتیوں میں پناہ لینےپرمجبورہیں۔

سمندری طوفان وایو 17 اور18 جون کوگجرات سے ٹکرا سکتا ہے ، بھارتی محکمہ موسمیات


دوسری جانب بھارتی محکمہ موسمیات کا کہنا ہے سمندری طوفان وایودوبارہ رخ تبدیل کرکے گجرات کے علاقے کچھ سے سترہ اوراٹھارہ جون کو ٹکرا سکتا ہے تاہم طوفان کی شدت کم ہوجائے گی۔

یاد رہے سمندری طوفان کوگجرات سے ٹکراناتھا تاہم طوفان کا رخ اومان کی طرف ہوگیا تھا، طوفان کے خدشے کےباعث گجرات میں تین لاکھ افراد کومحفوظ مقامات پرمنتقل کیاگیا ہے۔تعلیمی ادارے بھی بند رہے۔

گجرات اوردیگرساحلی علاقوں میں بدستورایمرجنسی نافذ ہے، ماہی گیروں کوسمندرمیں نہ جانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں