The news is by your side.

Advertisement

مشہور شاعر داغ دہلوی کی “دولت” سے بھری ہوئی 5 الماریاں!

حضرت مرزا داغ دہلوی کو بھی مطالعے کا بڑا شوق تھا۔ جو نئی کتاب بھی شایع ہوتی، وہ فوراً اسے خرید لیتے اور اس کے مطالعے میں مصروف ہو جاتے۔

مطالعہ وقفے وقفے سے کرتے، لیکن کتاب کو پوری پڑھ کر چھوڑتے۔ انھوں نے اپنے دولت کدے کا ایک بڑا کمرا کتب خانے کے لیے وقف کر رکھا تھا جس میں چار پانچ الماریاں کتابوں سے پُر تھیں اور ہر الماری میں دو دو ڈھائی ڈھائی سو کتابیں ہوتی تھیں۔

وہ کتابوں کی جلدیں قیمتی بندھواتے اور ہر کتاب پر مالکِ کتاب کی حیثیت سے اپنا نام بھی ڈلواتے۔ اساتذۂ اردو اور فارسی کے پورے کلیّات اور دواوین ان کے کتب خانے میں موجود تھے۔

کتب خانے کی فہرست مجلّد تھی۔ مرزا صاحب اپنے احباب اور شاگردوں کو کتابیں مستعار بھی دیتے رہتے، لیکن اُن کا اندراج ایک علاحدہ رجسٹر میں کر دیتے۔

اس رجسٹر کی تنقیح ہر دوسرے تیسرے مہینے ہوتی رہتی اور اگر کوئی کتاب کسی کے پاس رہ جاتی تو تقاضا کر کے منگوا لیتے۔

(علم و ادب کے شائق، مختلف ادبی واقعات، یادوں اور تذکروں کو کتابی شکل میں‌ محفوظ کرنے والے عبدالمجید قریشی کی ایک خوب صورت کاوش “کتابیں‌ ہیں‌ چمن اپنا” بھی ہے، جس میں‌ استاد شاعر داغ دہلوی کے کتب خانے کا ذکر بھی ہے اور یہ سطور اسی کتاب سے لی گئی ہیں)

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں