عدالت کا پنجاب کابینہ سے فوری ڈیم کی منظوری لینے کا حکم -
The news is by your side.

Advertisement

عدالت کا پنجاب کابینہ سے فوری ڈیم کی منظوری لینے کا حکم

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں ڈڈوچہ ڈیم کی تعمیر سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے فوری طور پر پنجاب کابینہ سے ڈیم کی منظوری لینے کی ہدایت کردی۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں ڈڈوچہ ڈیم کی تعمیر سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کی۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ وقت نہیں دیں گے پہلے ہی معاملے میں تاخیر کی گئی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہم ایک ایک ڈیم تعمیر کر کے دیں گے، ہمیں آبی وسائل تعمیر کرنے ہیں۔ ڈیمز کی تعمیر میں بیورو کریسی کے معاملات رکاوٹ نہیں بننے دیں گے، ڈڈوچہ ڈیم کی تعمیر میں کس نے رکاوٹ ڈالی ذمہ داران کا تعین کیا جائے۔

سیکریٹری آبپاشی نے کہا کہ ڈیم کا معاملہ محکمہ آبپاشی پنجاب نے ٹیک اوور کر لیا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے جو پلان دیا اور رقم بتائی اس میں آدھی خرچ ہوگی، رقم ٹھیکیداروں، انجینیئرز اور بیورو کریسی کی جیبوں میں جائے گی۔ دیامر بھاشا ڈیم بنانے کاارادہ کیا تو کہا گیا کہ کمیشن کو کنٹرول کرلیں۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ کا اثاثہ زمین ہے اور پانی ہے، پارٹنر شپ میں دوسرے فریق کا حصہ پانی کی شرح کے حساب سے ہوگا۔ پانی کی شرح فیصد طے کر لیں اور انہیں ڈیم بنانے دیں۔

سیکریٹری نے کہا کہ ڈیم کی استعداد 25 ملین گیلن یومیہ ہے، ڈیم راولپنڈی کو پانی کی سپلائی کے لیے بنایا جانا ہے۔

عدالت نے کہا کہ پانی کی شرح طے کرلیں یہ کتنا پانی لیں گے اور راولپنڈی کو کتنا ملے گا، پونی قیمت اور ایک سال میں ڈیم بنانے کو تیار ہیں تو مسئلہ کیا ہے۔

سیکریٹری نے کہا کہ ایسا فیصلہ کابینہ کو کرنے دیں تاکہ یہ باقاعدہ پالیسی بن جائے، چیف جسٹس نے کہا کہ کابینہ کا فوری اجلاس بلا کر فیصلہ کر لیں۔

سیکریٹری نے کہا کہ زمین حاصل کرنے اور ڈیم کے لیے تیاری کرلی ہے، ڈیم کے لیے 6 بلین روپے دستیاب ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ 27 اگست 2015 کا آرڈر ہے لیکن ابھی تک ڈیم تعمیر نہیں ہوا۔ تین سالوں میں ایک ایک دن کا حساب لیں گے، حکومت میں کون ہے ہمیں اس سے غرض نہیں۔

عدالت نے کہا کہ ڈڈوچہ ڈیم پبلک پرائیویٹ شپ کا معاملہ حکومت کو ارسال کیا جائے، منگل کے روزعدالت کو حکومت کے فیصلے سے آگاہ کیا جائے۔

کیس کی مزید سماعت منگل تک ملتوی کردی گئی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں