The news is by your side.

Advertisement

لیگی رہنما دانیال عزیزکا گن کلب کے منیجرپربہیمانہ تشدد

اسلام آباد : گن کلب کے منیجر پر ن لیگ کے رہنما دانیال عزیز کا مبینہ تشد سامنے آیا ہے، اسلام آباد کے گن کلب کے منیجر یاسر جاوید نے بتایا کہ دانیال عزیز کے غیر قانونی احکامات نہ ماننے پر لاتوں اور گھونسوں سے مارا گیا۔ تھانہ آبپارہ میں مقدمے کے اندراج کے لئے درخواست دے دی ہے، انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ مجھے اور میری فیملی کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے، تحفظ فراہم کیا جائے۔

تفصیلات کے مطابق نوازلیگ کے رہنما دانیال عزیز جو مذکورہ گن کلب کے ایڈمنسٹریٹر بھی ہیں نے کلب کے منیجر کو تشدد کا نشانہ بنایا، منیجر یاسر جاوید نے اے آر وائی نیوز کو بتایا کہ میں نے ان کے غلط احکامات کو ماننے سے انکار کیا تھا جس پر طیش میں آکر انہوں نے مجھے پہلے تو غلیظ گالیاں دیں اس کے بعد جب میں جانے لگا تو دروازے پر آکر مجھے لاتوں اور گھونسوں سے مارنا شروع کردیا۔

اس کے بعد وہاں موجود دیگر سیکریٹریز نے بھی مجھ پر تشدد کیا، جس کی وجہ سے میرے سر پر شدید چوٹیں آئیں ہیں اورسر کے متاثرہ حصے پر سوجن آگئی ہے۔

یاسر بتایا کہ دانیال عزیز نے مجھے کہا کہ ہم آپ کا تبادلہ کر رہے ہیں لہٰذا آپ اپنے عہدے کا چارج چھوڑ دیں جس پر میں نے کہا کہ یہ فیصلہ منیجنگ بورڈ کرے گا آپ اکیلے یہ فیصلہ نہیں کر سکتے، اس لیے میں آپ کا یہ حکم نہیں مان سکتا ، جس پر وہ سیخ پا ہوگئے۔

اے آر وائی نیوز کے نمائندے ذوالقرنین حیدر کے مطابق منیجر یاسر جاوید نے بتایا کہ دانیال عزیز نے مجھے دھمکیاں دیں کہ تم جانتے نہیں کہ میں تمہارے ساتھ کیا کرسکتا ہوں۔

یاسر جاوید نے اپنا میڈیکل چیک اپ کرانے کے بعد تھانہ آبپارہ میں مقدمے کے اندراج کیلئے درخواست جمع کرادی ہے۔ درخواست میں مدعی نے اپنی جان اور اپنے اہل خانہ کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔

پولیس نے یاسر جاوید کو یقین دہانی کرائی ہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں میں دانیال عزیز کیخلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ پولیس کا مزید کہنا ہے کہ گن کلب کے دیگر افسران و اہلکاروں سے بھی بیان لیا جائے گا کہ آیا یاسر پر تشددد کیا بھی گیا ہے یا نہیں، جس کے بعد ایف آئی آر درج کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

نمائندہ اے آرائی نیوز نے بتایا کہ جب اس سلسلے میں دانیال عزیز سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تو ان کا موبائل فون آف تھا۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں