The news is by your side.

Advertisement

درگاہ شاہ نوارنی حملہ، خود کش دھماکا کرنے والے کا سر مل گیا

حب : درگاہ شاہ نوارانی میں خود کش حملے کے بعد سکیورٹی اور تفتیشی اداروں نے شواہد جمع کرکے تحقیقات شروع کردی ہے، خود کش دھماکا کرنے والے کا سر مل گیا ہے۔

تفصیلت کے مطابق درگاہ سکیورٹی اور تفتیشی اداروں نے درگاہ شاہ نورانی سے شواہد جمع کر کے تحقیقات شروع کردی ہے، ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملے میں آٹھ کلو بارودی مواد میں بال بیرنگ اور نائن ایم ایم بلٹس کا استعمال کیا گیا جبکہ خود کش دھماکا کرنے والے کا سر مل گیا۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ زیادہ ہلاکتیں بال بیرنگ لگنے سے ہوئیں، تحقیقات کے مطابق سیکیورٹی کا موثر انتظام نہیں تھا ، طبی سہولتوں کی عدم دستیابی کے باعث اموات ذیادہ ہوئیں۔

دوسری جانب دھماکے کا مقدمہ سارون لیویز تھانے میں درج کرلیا گیا ہے، مقدمے میں قتل، اقدام قتل سمیت دہشت گردی کی مختلف دفعات شامل ہیں، سیکیورٹی خدشات کے باعث شاہ نورانی میں دفعہ ایک سو چوالیس نافذ کردی گئی ہے، دھماکے کے بعد شاہ نورانی درگاہ عارضی طورپرزائرین کیلئے بند کردیا گیا۔

آئی جی ایف سی میجر جنرل شیر افگن کا کہنا ہے کہ فی الحال یہ نہیں کہا جا سکتا کہ منصوبہ بندی کب اور کہاں کی گئی، شاہ نورانی درگاہ کی مکمل صفائی کر کے اسے انتظامیہ سے حوالے کر دیا گیا ہے۔

وزیر داخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ حملے میں بیرونی ہاتھ ملوث ہو سکتا۔

اس سے قبل شاہ نورانی دھماکےمیں تحقیقاتی ٹیم نے ابتدائی رپورٹ تیارکرلی، رپورٹ کے مطابق حملہ آور کم عمرافغان باشندہ تھا، جس نے شام پانچ بجکر پچاس منٹ پر خود کو دھماکا خیز مواد سے اڑا لی۔


مزید پڑھیں : درگاہ شاہ نورانی میں دھماکا،65افراد جاں بحق، 100 سے زائد زخمی


یاد رہے کہ درگاہ شاہ احمد نورانیؒ کے احاطے میں دھماکے کے نتیجے میں 65 افراد جاں بحق اور 100 سے زائد زخمی ہوگئے تھے، دھمال والے مقام پر دھماکا ہوا، دھماکے کے وقت وہاں پر عوام کی بہت بڑی تعداد موجود تھی۔

ڈپٹی کمشنر خضدارسہیل رحمان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ دھماکاشام ساڑھے چھ بجے ہوا، ابتدائی تفتیش کےمطابق خودکش بمبارنےآٹھ کلوبارود استعمال کیا، خودکش حملہ آور لڑکا تھا،  امدادی ٹیموں نے کراچی سول اسپتال میں چھتیں میتوں اور بیالیس زخمیوں کو کراچی منقل کیا، جہاں لاشوں کو شناخت کے بعد ورثا کے حوالے کیا جا رہا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں