site
stats
دوام

آفاقی عشق کی لازوال داستاں – دوام

DAWAAM

“جی مجھے یاد آیا کچھ عرصے پہلے تک آپ لوگوں سے فیس بک پر طویل مباحثے ہوا کرتے تھے ۔۔۔ آپ سے مل کر خوشی ہوئی”۔
“کہیے یہاں کیسے آنا ہوا ؟؟ “۔۔ارمان نے خوش اخلاقی سے جواب دیا
“ہم یہاں کنٹیسٹ کے لیے منتہیٰ کی پینٹنگ جمع کروانے آئے تھے “۔۔ فاریہ نے مڑ کر دیکھا منتہیٰ باہر جاچکی تھی ۔۔
“آج تیری خیر نہیں بچو “۔۔۔ اُس نے اب منتہیٰ کا فل ریکارڈ لگانا تھا ۔۔
“ہم بھی ارمان کی پینٹنگ جمع کروانے آئے تھے “۔۔۔ “یہ ارحم تنویر تھا “۔۔ فاریہ کو پہچاننے میں دیر نہیں لگی
“اوہ ریئلی پھر تو زبردست کنٹسیٹ رہے گا “۔۔فاریہ حسبِ عادت منٹوں میں ایکسائٹڈ ہوئی ۔۔
“آپ لوگ کیا کپمیٹیشن کے لیے لاہور آ ئی ہیں ۔۔ ارحم نے دریافت کیا ‘ فاریہ کی طرح اسے بھی فرینک ہونے میں دیر نہیں لگتی تھی”۔ جبکہ ارمان ریزرو تھا۔


اسی ناول کی گزشتہ اقساط پڑھنے کے لیے کلک کریں


“نہیں ہم تو اب یہیں پائے جاتے ہیں پنجاب یونیورسٹی میں ۔۔ آپ کے پاپا سر یوسف بہت ہی متاثرکُن شخصیت رکھتے ہیں “۔۔اب کے اُس کا مخاطب ارمان تھا ۔
“تھینکس ۔اینڈ وش یو بیسٹ آف لک ۔۔ ”
فاریہ کو ایک دم منتہیٰ یاد آ ئی ۔۔ تیزی سے شکریہ اور الوداعی کلمات کہتے ہوئے اُس نے باہر دوڑ لگائی ۔
حسبِ توقع مینا عریب قریب کہیں بھی نہ تھی ۔۔ فل سپیڈ میں بھاگ کر فاریہ مین انٹرینس تک پہنچی ۔منتہی گیٹ سے باہر ایک طرف جاتی نظر آ ئی۔۔
“ایک تو تم انتہائی فضول لڑکی ہو فاریہ نے پھولی سانس کو بمشکل ہموار کیا ۔۔۔ ”
“تم سے کم “۔۔ سپاٹ چہرے کے ساتھ مختصر جواب آ یا
“خوش فہمی ہے تمہاری ہونہہ ۔۔۔۔ تم پانچ منٹ انتظار نہیں کر سکتی تھیں ۔۔؟؟”
“پانچ منٹ انتظار میں نے کیا تھا فاریہ بی بی” ۔۔ مینا نے اُسے جتایا ۔۔
وہ مجھے پتا ہے کہ تم وہاں کیوں رکی تھیں ۔۔ ویسے تمہاری اطلاع کے لیئے عرض ہے کہ فاریہ تو ارمان یوسف کو بھول گئی تھی لیکن منتہیٰ دستگیر اُسے سیکنڈوں میں یاد آئی ۔۔فاریہ نے شرارت سے دیدے نچائے ۔۔
کیا۔۔۔ تم نے اُسے میرے بارے میں بتایا ؟؟ منتہیٰ کا پارہ آسمان کو پہنچا
ہاں تو اِس کیا حرج تھا ۔۔ فیس بک پر تو وہ تمہیں جانتا ہی تھا نہ ۔۔تم فیک نہیں جو میں چھپاتی ۔۔۔
اُف۔۔ فاریہ تم انتہائی درجے کی احمق اور ڈفر لڑکی ہو ۔۔ مینا کا بس نہیں چل رہا تھا کی فاریہ کو کچا چبا جائے۔۔
“اچھا چلو غصہ تھوک دو ۔۔۔ آ ؤ تمہیں یہاں مزیدار آئس کریم کھلاتی ہوں “۔۔فاریہ پر مینا کی ڈانٹ پھٹکار کا کچھ خاص
اثر نہیں ہوتا تھا۔
سو وہ اسے کھینچتی ہوئی میٹرو سٹیشن کی جانب چل دی

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ویک اینڈ پر شام پانچ بجے وہ الحمرا ء ہال میں پہنچیں تو ہال بھانت بھانت کے لوگوں سے اٹا اٹ بھرا ہوا تھا ، جن میں سے
کوئی بھی ان کا شناسا نہ تھا ، سو ایک اِدھر اُدھر مٹر گشت کرتی ہال کی سیر کرتی رہی۔
فاریہ بہت ایکسائیٹڈ تھی جبکہ منتہیٰ کو کچھ زیادہ پرامید نہیں تھی ، پینٹنگ ہمیشہ سے اس کا شوق رہا تھا ، مگر وہ بہرحال پروفیشنل پینٹرنہ تھی ، اس لیے جب رزلٹ اناؤنس ہوا تو اسے حیرت کا جھٹکا لگا ۔
“فرسٹ پرائز “۔ فاریہ کا تو بس نہیں چل رہا تھا کہ خوشی سے نعرے لگائے ۔۔۔اُس کی ایکسائٹمنٹ دیکھ کر اب منتہیٰ جلدی یہاںسے نکلنے کے چکر میں تھی۔۔۔کہ پیچھے سے آتی آواز نے اُن کے قدم روکے۔
“ہیلو مس فاریہ ۔۔ یہ ارحم تنویر تھا ۔۔ کیسی ہیں آپ لوگ ؟؟ ”
“ارے آپ لوگ فرسٹ پرائز جیت کر بھی اتنی جلدی جا رہی ہیں ۔۔غالباٌآپ لوگوں کے علم میں نہیں کہ یہاں لوگ منہ مانگے داموں پینٹنگز خرید لیا کرتے ہیں “۔ اَرحم نے انہیں آگاہ کرنا ضروریسمجھا۔
اور منتہیٰ کے تو پاؤں کو لگی سر تک جا پہنچی ۔۔
“مسٹر ایکس وائی زیڈ ۔۔ہمارا اپنی پینٹنگ سیل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ۔۔”
“”دنیا میں ہر چیزبکنے کے لیے نہیں ہوتی ۔۔ کچھ چیزیں اَن مول ہوتی ہیں ۔۔
درشتی سے اَرحم کو جھڑکتی وہ آگے بڑھ چکی تھی ۔۔
پلیز آپ مائنڈ مت کیجیے گا یہ میری فرینڈ خاصی بد لحاظ ہے ۔۔ فاریہ نے ایکسکیوز کی ۔
“اِٹس اُوکے ۔۔ میرے پاس مائنڈ ہی نہیں”۔ اَرحم نے دانت نکالے۔۔
“اچھا پھر تو آپ ہمارے ہی قبیلے سے ہیں۔۔ آپ سے مل کر خوشی ہوئی ۔ “آج آ پ کے دوست ساتھ نظر نہیں آ رہے ۔۔؟؟
“ارمان ۔۔وہ ابھی تو یہیں تھا “۔۔ اَرحم نے اِدھرُ ادھر نظر دوڑائی ۔۔
ویسے آپکی دوست کی پینٹنگ تھی بہت زبردست اِنھیں پروفیشنلی اِس طرف آنا چا ہیئے ۔۔
“یہ جو میری دوست منتہیٰ ہے نہ۔۔اللہ نے اِسے ٹھونس ٹھونس کے صلاحیتیں دی ہیں ماشاء اللہ ۔۔”
اُوہ آئی سی ۔۔
Then  she  really  deserve  such  flatulence
اَرحم نے دانت نکالے ۔۔ٹھیک اُسی وقت فاریہ کے سیل پر مینا کا ٹیکسٹ آ یا ۔
“اب اگر میں اکیلی چلی گئی تو تمہیں ٹریٹ سے ہاتھ دھونے پڑیں گی “۔۔ اور فاریہ نے اللہ حافظ کہتے ہوئے باہر دوڑ لگائی ۔۔
“اُن کی شرط لگی تھی کہ جیتنے پر مینا ٹریٹ دے گی” ۔ اور اسے پتا تھا دو سیکنڈ بھی لیٹ ہوئی تو منتہیٰ بی بی نے ارادہ بدل دینا ہے۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پہلے سمسٹر میں فور پوائنٹ زیرو جی پی اے کے ساتھ منتہیٰ کی کلاس میں پوزیشن کچھ اور مستحکم ہو چکی تھی ۔۔۔سو ایک نئے جوش کے ساتھ دوسرے سمسٹر کے آغازکے لیے منتہیٰ مستعد تھی ، اس دفعہ کچھ اور لائق اساتذہ نے کلاسز لینی تھیں جن میں ڈاکٹر یوسف بھی شامل تھے۔

“آپ میں سے کوئی جانتا ہے کہ کائنات کی حقیقت کی بارے میں آئن سٹا ئن کا مشہور قول کون سا ہے؟”
سر یوسف نے ساری کلاس کی طرف استفہامیہ انداز میں دیکھا ۔۔ پہلا بلند ہونے والا ہاتھ حسبِ سابق منتہیٰ کا تھا ۔۔ “یس۔ یُو۔ مِس۔”سر نے اُسے اشارہ کیا ۔
“سر آ ئن سٹائن کا کہنا تھا کہ کائنات کی سب سے بڑی قابلِ فہم حقیقت یہ ہے کہ۔ یہ نا قابلِ فہم ہے ۔۔”
“رائٹ یو نو واٹ کہ آئن سٹا ئن نے صرف ۲۶ برس کی عمر میں اپنا وہ پہلا ریسرچ پیپر لکھا تھا جو بالاخر کوانٹم فزکس اور آسٹرونامی کی بنیاد بنا ۔۔ حالانکہ اُس وقت نہ تو ٹیکنالوجی کی اتنی سہولیات میسر تھیں نا ہی اُس کے پاس کوئی باقاعدہ لیبارٹری تھی ۔۔ اِس کے با وجودآئن سٹائن کی تھیوریز ا س حد تک درست ہیں کہ آج “ہبل اور کیک “جیسی پاورفل ٹیلی سکوپس کے ذریعے ہونے والی تحقیقات سے اِن تھیوریز کی تصدیق ہو رہی ہے جس کی تازہ ترین مثال “لیگو پراجیکٹ”ہے جس میں خوش قسمتی سے ہمارے دو ہم وطن بھی شامل تھے۔
Sir!  Would  you  further  explain  Einstein  Gravitational  waves??
سر نے منتہیٰ کی پسند کا موضوع چھیڑا تھا سو اُس کی دلچسپی عروج پر تھی ۔
شیور ۔۔ ایسا ہے کہ لیگو کی ٹیم نے کئی برس کی اَن تھک محنت کے بعد دو انتہائی زیادہ ماس والے بلیک ہولزدریافت کیے جو آپس میں مدغم ہورہے تھے اِس سے جو گریویٹیشنل ویوز ڈیٹیکٹ کی گئی اِن سے نا صرف آئن سٹائن کی تھیوریز کی تصدیق ہوئی بلکہ ِ انہوں نے آسٹرونامی میں ایک نئی جہت متعارف کروائی۔
“اِن موجوں کے ذریعے پہلی تصدیق تو یہ ہوئی کہ کائنات کی ابتدا سنگولیریٹی یعنی بگ بینگ سے ہوئی ۔۔مزید یہ کہ ہم انِ موجوں کے ذریعے ماضی میں جا سکتے ہیں اور اپنے سوال کا جواب تلاش کر سکتے ہیں کہ کا ئنات کی ابتدا کب اور کیسے ہوئی ؟؟”
“یہ وہ سوال ہے جس نے ماہرِ فلکیات ہی نہیں ہر اُس شخص کے دماغ کو جکڑا ہوا ہے جو صرف کھانے، پینے ، سونے جاگنے اور ز ندگی سے لطف اٹھانے کے لیے نہیں جیتا بلکہ اُس کا ذہن اپنے ماحول ، خدا کی اِس وسیع کائنات ، اجرامِ فلکی غرض یہ کہ ہر شے کی حقیقتکو سمجھنے کی جستجوکرتا ہے ۔”
“عموماًسائنس اور مذہب دو بالکل الگ تھلگ ایسے آ پشنز تصور کیے جاتے ہیں جو ایک دوسرے کی ضد ہیں ۔حا لانکہ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ آ پ قرآن پڑھیے ۔۔ اللہ تعالیٰ نے سب سے زیادہ جس کائناتی مظہر پر غور و فکر کے بارے میں کہا ہے وہ اجرامِ فلکی ہیں ، بار بار ایک ہی سورت میں ۔۔ کچھ سورتوں بعد لوٹ کر پھر انہی چاند، سورج ، ستاروں کا ذکر آ جا تا ہے۔میں مذ ہبی آدمی ہر گز نہیں ہوں اور نہ ہی میں نے فزکس کو اسلام سے ریلیٹ کر کے پڑھنے کی کوشش کی ہے۔۔۔ کیو نکہ عموماٌآسٹرونامی کو ما بعد الطبعیات ۔۔حقیقت سے ما وراء علوم میں شمار کیا جاتا ہے ۔۔”
سر کیا میں مداخلت کر سکتا ہوں ؟؟ یہ فواد تھا
“یس یو کین “۔۔ سر نے خوش دلی سے اجازت دی
“سر ایسا ہے کہ جب ہم سائنس کو اسلام سے ریلیٹ کر کے پڑھتے ہیں تو یو نو واٹ کہ یہ مطالعہ ہمیں دہریت کی طرف
لیکر جاتا ہے کیونکہ آسٹرو فز کس خدا کے وجود کا انکاری ہے ۔۔”
Good  point  you raise …
سر کے لہجے میں ستائش تھی ۔۔ لیکن میں چاہوں گا کہ اِس کا جواب اپنی اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق آپ لوگ خود سوچیں “یہ آ پ لوگوں کی کل کی اسائنمنٹ ہے انشاء اللہ کل اِس کو ڈسکس کریں گے “۔۔ سر یوسف نے مسکراتے ہوئے پوری کلاس کے فق چہروں کو دیکھا ۔۔”لیکن اِن میں ایک چہرہ بالکل پر سکون تھا ۔۔”

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

چند ماہ بعد۔۔ اُن کا تیسرا ٹا کرہ یونیورسٹی آف پنجاب کے سٹیلائٹ ریسرچ اینڈ ڈیویلپمنٹ سینٹر کی ایک ورک شاپ میں ہوا ۔۔”
سپارکویہ سینٹر پنجاب میں سپیس سے متعلق واحد سورس ہے جو سپارکو کے تعاون سے قائم کیا گیا ہے۔۔ چند دن پہلے ان
کے آفیشل فیس بک پیج پر قدرتی آ فات میں کارگر ریموٹ سینسنگ کی تککنیکس پر ہونے والی ایک ورک شاپ کا ایونٹ منتہی ٰ کی نظر سے گزرا تھا ۔ اس کا ایک بڑا مسئلہ ٹا ئمنگ تھا وہ سب پیریڈز چھوڑ سکتی تھی لیکن سر یوسف کا پیریڈ ۔۔۔ نا ممکن۔۔ ۔۔۔ اب تو کسی صورت بھی نہیں جب سر نے اتنے دلچسپ موضوع پر اسائنمنٹ دی ہوئی تھی ۔
ڈیپارٹمنٹ کی سیڑھیوں پر وہ سب سے الگ بیٹھی اِسی اُدھیڑ بن میں لگی ہوئی تھی جبکہ فاریہ ، انعم ، سمین او ر باقی کلاس فیلوز فضول گپیں ہانک رہے تھے۔
“مسٹر فواد۔ کیا آپ ہمیں اپنا پوائنٹ آ ف ویو بتانا پسند کریں گے تاکہ ہم بھی اسائنمنٹ بنا سکیں “۔۔ یہ انعم تھی
“بالکل نہیں مفت میں تو میں کسی کو پانی بھی نہیں پلاتا “۔۔ فواد نے دانت نکالے
“چل اوئے! تجھے ہر وقت کھانے پینے کی پڑی رہتی ہے تجھے کہا کس نے تھا سر سے یہ سوال پوچھنے کو؟ “منیب نے فواد کو ایک دھپرسید کی۔۔۔
“لو کہنا کس نے تھا ۔۔ تم لوگ خود کبھی کورس کے علاوہ فزکس سے متعلق کچھ پڑھ لیا کرو “۔۔ فواد نے برا سا منہ بنایا
“اُف۔۔ کورس کی بکس کیا کم ہیں دماغ کی چولیں ہلانے کو ۔۔ میں تو اُس وقت کو کوستی ہوں جب بی ایس میں فزکس رکھاتھا ۔۔” بھلا فاریہ کب کسی سے پیچھے رہنے والی تھی ۔
اور اِن سب کی فضول بکواس سے لا تعلق بیٹھی منتہیٰ جو گوتم بدھ کی طرح گہری سوچ میں غرق تھی یکدم چونک کر اٹھی
“اے مینا تم کہاں چلیں فاریہ نے پیچھے سے آواز لگائی “۔۔
“میں ذرا ڈیپارٹمنٹ لائبریری تک جا رہی ہوں تم لوگ باتیں کرو “۔مڑے بغیر جواب دیکر منتہیٰ نے قدم بڑھائے ۔
یار فاریہ تو منتہیٰ سے پوچھ نہ اُ س کو لازمی جواب کا آتاہوگا ۔۔ سمین نے فاریہ کے کان میں سرگوشی کی
“پتا تو ضرور ہوگا میری جان پر وہ گھُنی بتائے گی کب ۔۔ ”
تم رات کو اُس کی اسائنمنٹ پار کرکے نوٹس لے لینا، پھر فرسٹ پیریڈ ڈراپ ۔۔ ہم کچھ نا کچھ بنا ہی لیں گے ۔۔ سمین نے اسےراہ دکھائی ۔۔۔
“بی بی سمین ابھی تو میری شادی بھی نہیں ہوئی اتنی جلدی قتل ہونے کا میرا کوئی ارادہ نہیں “۔۔ فاریہ نے صاف انکار کیا ۔۔ وہ منتہیٰ کی رگ رگ سے واقف تھی ۔
ویسے یار سر یوسف اتنے زِیرک ہیں کہ چیٹنگ پکڑ ہی لیں گے ۔۔ بہتر ہے کہ ہم اپنے ننھے منے دماغوں پر کچھ زور ڈالیں ۔تھوڑی مدد گوگل انکل کر دیں گے ۔۔ انعم نے جیسے فیصلہ صادر کیا۔
چلو آ ؤ کچھ پیٹ پوجا کریں تاکہ دماغ کچھ سوچنے کے قابل ہوں اور سب کینٹین کی طرف چل دیں۔۔
ٹھیک اسی وقت منتہیٰ نے سر یوسف کے آفس میں داخل ہونے کی اجازت مانگی۔
“سر کیا میں اندر آ سکتی ہوں؟؟”
سر یوسف جو اپنے لیپ ٹاپ پر مصروف تھے ۔۔ انہوں نے چونک کر سر اٹھایا ۔ “یس پلیز ”
سر مجھے آپ سے کچھ ضروری بات کرنی ہے ۔۔ میں آپ کا زیادہ ٹائم نہیں لوں گی۔۔ جسٹ فائیو منٹس پلیز ۔۔
۔۔سر نے خوش دلی سے کہا
Okay Go ahead
“سر کل سپارکو کے ریسرچ سینٹر میں ایک ورک شاپ یونیورسٹی ٹائمنگ میں ہے ۔ میں آ پ کا پیریڈ ہر گز مس نہیں کرنا چاہتی اورجو اسائنمنٹ آپ نے دی ہے اُس کے بعد تو کسی صو رت بھی نہیں ۔۔ لیکن میں ورکشاپ بھی اٹینڈ کرنا چاہتی ہوں ۔”
“اِٹس اے نائس چانس فار می”۔۔وہ ایک لمحے کو توقف کے لیے تھمی اور سر کو دیکھا جو پوری طرح اسی کی طرف متوجہ تھے۔
“سر کیا آپ یہ ڈسکشن ایک دن کے لیے ملتوی کر سکتے ہیں ؟؟ اب کے لہجے میں قدرے گھبراہٹ تھی۔”
اور ڈاکٹر یوسف کے لبوں پر بے اختیار ایک گہری مسکراہٹ آئی تھی ۔
ایسے سٹوڈنٹس ہمیشہ سے اُن کی خاص توجہ کا مرکز ہوتے تھے جو لرننگ کا ایک چھوٹا سا موقع بھی ضائع نہیں جانے دیتے ۔ایک بہترین استاد جانتا ہے کہ اُس کی کلاس میں کتنے طلبہ ایسے ہیں جو ڈگری کے لیے پڑھ رہے ہیں جن کی تعداد عموماٌزیادہ ہوتی ہے ، اِن سے کچھ کم، شوق اور لگن کے ساتھ اپنے سبجیکٹ سے اٹیجڈ ہو کرپڑھتے ہیں۔ جن کا مقصد صرف ڈگری حاصل کرنا نہیں ہوتا بلکہ ایک ایسی ڈگری جو نا صرف ان کے مستقبل کو تابناک بنانے میں کارگو ثابت ہو ،بلکہ جس سے اُن کے دل و دماغ پر آگاہی کے نئے دَر بھی واہوں جبکہ ایسے سر پھرے سٹوڈنٹس کی تعدادآ ٹے میں نمک کے برابرہوتی ہے جو صرف اور صرف اپنی علم کی پیاس بجھانے کےلیے پڑھتے ہیں ۔۔وہ ڈگریوں اورسرٹیفیکیٹس کے انبار میں بھی خود کو بحرِ علم کے کنارے کھڑا پیاسا ہی تصور کرتے ہیں ۔۔اور منتہی ٰکی صورت میں سر یوسف کو بھی ایک ایسا ہی نادر شاگرد نظر آ رہاتھا ۔
yes, I can but on a condition ..!!
اُن کی گہری نظریں منتہیٰ کے چہرے پر تھیں ۔۔ اُوکے تھینک یو سر۔ آ ئی ول ٹرائی مائی بیسٹ ۔۔
سر یوسف نے ایک سادہ کاغذ اور پین اسکے سامنے رکھتے ہوئے کہا ۔۔ آپ کے پاس پانچ منٹ ہیں آ پ کو اسائنمنٹ کا مختصرلیکن مدلل جواب ابھی یہیں میرے سامنے لکھنا ہے ۔ سر یوسف نے اپنی رسٹ واچ دیکھی۔
بغیر کسی گھبراہٹ کے منتہیٰ نے کاغذ اپنے سامنے گھسیٹا ۔۔ اور پورے ۴۰ سیکنڈ کے بعد وہ جواب لکھ کر سر کے سامنے رکھ چکی تھی۔
’’ “ایک مسلمان کی حیثیت سے ہمیں قطعاٌ ضرورت نہیں کہ ہم سائنس کی مدد سے مذہب کی منزل تلاش کریں۔ بلکہ ہمارے پاس قرآن ہے جس کو سمجھ کر ہم سائنس کی نئی راہیں تلاش کر سکتے ہیں۔ خدا کے وجود سے انکار کسی صورت بھی ممکن نہیں ۔ “

جاری ہے

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top