آفاقی عشق کی لازوال داستاں – دوام -
The news is by your side.

Advertisement

آفاقی عشق کی لازوال داستاں – دوام

سر نے ایک گہری نظر اس پر ڈالی، ٹھیک ہے میں اسائنمنٹ ا گلے دن تک ملتوی کرتا ہوں آپ اپنے کلاس فیلوز کو آگاہ کر دیجیئے۔
“تھینک یو ویری مچ سر “۔۔ طمانیت کا گہرا سانس لیکر وہ سر کے آ فس سے نکلی۔
ارے واہ ۔ سر نے اسائنمنٹ کینسل کردی ۔۔ فاریہ سمیت سب ہی کلاس فیلوز کی خوشی سے بانچھیں کھلی ہوئی تھیں۔۔
ہاں میں کچھ نوٹس کا پوچھنے گئی تھی توسر نے بتایا ۔۔ منتہیٰ نے شانے اچکائے اور پھر فاریہ کوہاسٹل کی جانب گھسیٹا ۔
ارے بی بی میں خود چل تو رہی ہوں پھر کیوں دھکا لگا رہی ہو ۔۔ فاریہ نے برا منایا
جلدی جلدی چلو تمہیں ایک مزے کی بات بتانی ہے ۔۔ مینا خلافِ مزاج ایکسائیٹڈ تھی
“پیزا یا برگر ؟؟ “۔۔فاریہ نے دیدے نچائے
اُف۔۔یہ پیزا اور برگر کہاں سے آ گئے ؟؟ مینا نے اسے سختی سے گھورا
کل ہم گیارہ بجے سپارکو کے ریسرچ سینٹر ایک ورک شاپ اٹینڈ کرنے جا رہے ہیں ۔
“اُوہ آئی سی! تو تم نے سر سے اسائنمنٹ اس لیئے کینسل کروائی ہے “۔۔ فاریہ نے عقل کے گھوڑے دوڑائے
ہاں میں نے ریکوئسٹ کی تھی سر بائی چانس مان گئے۔۔ لیکن تم اپنا منہ بند رکھنا ۔۔ ورنہ مجھ سے برا کوئی نہ ہوگا ۔۔ مینا نے اُسے گھُرکا ۔۔


اسی ناول کی گزشتہ اقساط پڑھنے کے لیے کلک کریں


“وہ تو آپ سے برا ویسے بھی کوئی نہیں ہے منتہیٰ بی بی “۔۔ ہونہہ ۔۔فاریہ نے منہ بنایا
چلو اچھا ایڈونچر رہے گا ۔۔ میں کل کے لیے سوٹ اور جیولری نکال لوں ۔ فاریہ وارڈروب کی طرف بڑھی ۔۔
اور مینا نے پیچھے سے اسے کھینچ کر تکیہ مارا ۔۔ یہ لڑکی کبھی نہیں سدھرے گی۔
اگلے رو ز وہ ٹھیک ٹا ئم پر ریسرچ سینٹر پہنچی ۔۔ وہیں انھیں پتا لگا کہ ورک شاپ میں سپارکو کے سینئرز کے لیکچر کے علاوہ لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز کے سٹوڈنٹس اپنا کوئی پراجیکٹ بھی متعارف کروا ئیں گے ۔ لمس کے سٹوڈنٹس اپنی سیٹس پر بیٹھ گئے ‘ فاریہ نے تجسس سے اِدھر اُدھر نظر دوڑائی اور سٹیج کے قریب ہی ارمان یوسف کسی
آ فیسر سے محو گفتگو تھا ۔۔
فاریہ نے منتہیٰ کو ٹھوکا دیا ۔۔”ذرا اُدھر دیکھنا “۔۔۔
“دیکھ چکی ہوں جہاں ہم جائیں یہ ضرور آٹپکتے ہیں”۔۔ ہونہہ۔۔ مینا نے ناک سے مکھی اڑائی
اِس کو تم ریورس گئیر بھی لگا سکتی ہو ۔۔ جہاں وہ جائیں ہم ٹپک پڑتے ہیں۔ فاریہ نے شرارت سے دیدے نچائے
“جسٹ شٹ اپ “۔۔ چپ کر کے بیٹھو ۔۔
ورک شاپ کا آغاز سینٹر کے سینئر آ فیسر نے اپنی حالیہ تحقیقات اور پروجیکٹس سے کیا ۔۔
“ریموٹ سینسنگ ۔وقت کی ضرورت ہے ، یہ ارتھ سے متعلقہ سائنس ہے جس میں انتہائی حساس آلات اور سٹیلائٹ کے ذریعےزمین سے متعلق معلومات حاصل کی جاتی ہیں دنیا بھر میں اِس ٹیکنیک کوجیو سینسنگ ، آ ئل اور منرلز کی تلاش کے لئے بڑے پیمانےپر استعمال کیا جارہا ہے ۔ لیکن اس کاایک اور اہم استعمال اب تک ایشیائی ممالک کی نظروں سے پوشیدہ ہے ۔ یہ ٹیکنیک قدرتی آ فات میں ہنگامی صورتحال سے بہترطور پر نمٹنے میں انتہائی کار آمد ثا بت ہو سکتی ہے ۔ہمارا وطن پاکستان پچھلے کچھ عرصے سے مسلسل قدرتی آ فات کی زد پر ہے ،خاص طور پر ناردرن ایریاز آ ئے دن زلزلے ، موسلا دھار بارشوں اور سیلاب سے متاثر ہوتے رہتے ہیں ۔”
“اِس ورک شاپ کے انعقاد کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ہم اِس طرح کی صورتحال سے بہتر طور پر نبردآزما ہونے کیلئے ریموٹ سینسنگ کو بڑے پیمانے پر استعمال میں لائیں۔”
“یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز لاہور کے چند انجینئرز نے اِس سلسلے میں ایک پراجیکٹ ڈیزائن کیاہے اور ہم نے اِنہیں اپنا پلیٹ فارم فراہم کیا ہے تاکہ یہ مکمل طور پر کام کر سکیں ۔”
چند دیگر آفیسرز کے بعد لمس کے پراجیکٹ ہیڈ ارمان یوسف نے سٹیج پر آکر اپنے سسٹم کا مختصر مگر جامع تعارف کروایا
“ہمارا یہ پراجیکٹ جیوگرافک انفارمیشن سسٹم کی تکنیک پر ڈیزائن ایک کمپیوٹر بیسڈ انفارمیشن اینڈ کمیو نیکشن ٹول ہے ۔۔ جس میں کسی بھی طرح کے ڈیزاسٹر کی پیشگی اطلاع سے لے کر بعد کے حالات سے بہترطور پر نمٹنے کی تمام انفارمیشنز فیڈ اپ ہوں گی ۔ بنیادی طور پر یہ ایک ڈسیژن میکنگ ٹول ہے جس سے نا صرف سٹیلائٹ کے ذریعے متاثرہ علاقوں کا تیز ترین سروے ، تباہ شدہ انفرا سٹرکچر کا مکمل اور تصدیق شدہ ڈیٹا بر وقتدستیاب ہوگا ، بلکہ یہ ایمرجینسی ریلیف آپریشن اور ریسکیوکی تمام معلومات اور گائڈ لائنز بھی فراہم کریگا ۔”
ابتدائی تعارف کے بعد ورکشاپ کے شرکاء کاسوال وجواب کا سیشن تھا ۔۔ چند شرکاء نے پراجیکٹ ٹیکنالوجی سے متعلق سوال پوچھے ۔جس کے بعد منتہیٰ کی باری آ ئی اور بقول فاریہ۔ “مینا کے سوال بھی اُسکی طرح بد لحاظ ہوتے ہیں۔”
“مجھےِ اس پراجیکٹ میں کئی ڈیفیکٹس ( خامیاں) نظر آ رہی ہیں ، سب سے پہلے تو یہ کہ آپ نے کہا اس کا سسٹم قدرتی
آ فات کی پیشگی اطلاع بھی فرہم کرے گا ۔ لیکن میرے خیال میں آپ بھی یہ بات بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ سال بھر میں دنیا کے مختلف خطوں میں آنے والے زلزلے طوفان ، سائیکلون میں ۹۰فیصد ہاتھ امریکن ویدر مشین “ہارپ” کا ہوتاہے۔تو میرا خیال ہے کہ آپ کو اپنے سسٹم میں ہارپ کی طاقتور شعاعوں ” یا ایف او ” سے متعلق کچھ نیا متعارف کروانا چاہیےمتھا ۔”
ارمان یوسف نے سیاہ عبائے میں ملبوس اس دھان پان سی لڑکی کو بہت غور سے دیکھا جو پچھلے چند ماہ میں کئی بار ٹکرا چکی تھی ۔۔
“ایسا ہے مِس کہ ہارپ کے بارے میں داستانیں زیادہ مشہور ہیں اور حقیقت سے بہت کم لوگ آ گاہ ہیں لیکن اِس اَمر سے کسی کوانکارنہیں کہ دنیا بھر میں شدید موسمیاتی تبدیلیوں کا ایک بڑا سبب یہ شعاعیں بنی ہیں ۔ اگرچہ ہمارا سسٹم کسی حد تک اِن کو ڈیٹیکٹکرنے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن کچھ نیا متعارف کروانے سے فی الحال ہم قاصر ہیں آپ یا کسی اور کے ذہن میں اس حوالےسے کوئی آئیڈیا ہو تو ۔۔
we will cordially appreciate ….
ارمان کے مدلل جواب کے ساتھ ہی سوال و جواب کا سیشن ختم ہو چکا تھا ۔اور حسبِ عادت مینا کو اب یہاں سے نکلنے کی جلدیتھی ۔
“ایک تو تم فور اٌ ہَواکے گھوڑے پر سوار ہو جایا کرو ۔ ۔ بندہ کہیں جاتا ہے تو ملتاملاتا ہے ریلیشنز بڑھاتا ہے اور ایک تم ہو۔”
“مجھے معلوم ہے کہ تم کِن سے ریلیشنز بڑھانے کے لیئے فکر مند ہو “۔۔ مینا نے اُسے گھورا ۔۔
“ا چھا ذرا مجھے بھی بتانا کہ کِن سے ۔۔؟؟ “۔۔فاریہ نے کن کو خوب کھینچ کر لمبا کیا
“تم ضرور کسی دن میرے ہاتھوں قتل ہو جاؤگی ۔ شرافت سے جلدی جلدی چلو۔۔ ہمیں ڈیپارٹمنٹ پہنچا ہے ۔”
“یار میرا بالکل دل نہیں۔۔ چلو کینٹین چلتے ہیں”۔۔ فاریہ کو بھوک نے ستایا
“ایک تو تمہیں ہر وقت کھانے پینے کی پڑی رہتی ہے ۔منتہیٰ نے اسے بری طرح گھرک کر گھسیٹا۔
دونوں ایک دوسرے کی ضد تھیں پھربھی گزشتہ پانچ سال سے ایک ساتھ تھیں ۔”مقناطیس کے دو مخالف پولز کی طرح۔۔”

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ارمان کے لیے آج کا دن انتہائی یاد گا ررہا تھا ۔۔ اسکی پریزینٹیشن بھی خوب تھی سوائے منتہیٰ کے آخری سوال کے ۔۔ وہ تھوڑا جز بز تو ہوا تھا لیکن جو پوائنٹ اُس نے اٹھایا تھا۔۔ یقیناٌ اس میں وزن تھا ۔

“یار یہ دونوں بھوتنیاں کیوں ہر جگہ ٹپک پڑتی ہیں۔؟؟ “ارحم خاصہ بد مزہ ہوا تھا ۔
“ہمارے ارد گرد تو روز ہی لیٹسٹ ماڈل کی بھوتنیاں پائی جاتی ہیں تم کس کی بات کررہے ہو ؟؟ “۔۔ارمان کا دھیان کہیں اور تھا۔
ابے یار۔ “میں اس منتہیٰ دستگیر کی بات کر رہا ہوں ۔ اس کی دوست تو اچھی بھلی لڑکی ہے پر یہ خود ۔۔ دماغ دیکھو ساتویں آسمان پرہے “۔ ارحم نے الحمراء ہال والی سبکی کی بھڑاس نکالی۔
“تمہیں اُس نے کچھ کہا ہے کیا ؟؟ “ارمان نے دلچسپی سے پوچھا
کچھ نہیں بلکہ بہت کچھ ۔۔۔ ارحم نے ایک ہی سانس میں الحمراء کی ساری کتھا ڈالی ۔
مگر دوسری طرف ارمان اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی قہقہے لگانے لگا تھا ۔ اس کے متواتر ہنسنے نے ارحم کو مزید طیش دلایا ۔
“اِس میں یوں منہ پھاڑ کر ہنسنے والی کون سی بات ہے ۔۔ ؟؟”
“کچھ نہیں یار “۔۔ ارمان نے بمشکل ہنسی دبائی ۔ لیکن وہ خاصہ لطف اندوز ہوا تھا ۔
“دنیا میں ہر شے بکنے کے لیے نہیں ہوتی کچھ چیزیں اَن مول ہوتی ہیں ۔ ‘‘ ۔۔منتہیٰ دستگیر سے اُسے ایسے ہی جواب کی توقع تھی ۔
وہ جو ہمیشہ کی ضدی اور منہ پھٹ تھی ۔۔۔ لیکن وہ اُس سے بار بار کیوں ٹکرا رہی تھی ؟؟
“کیا یہ محض اتفاق تھا یا تقدیر کا کوئی کھیل۔وہ وقت کے فیصلے سے بے خبر اپنی اپنی دنیا میں تیزی سے کامیابی کے زینے چڑھ رہے تھے “۔۔۔ ایسے کسی فضول سوال پر غورکرنے کے لیے اُن کے پاس قطعاٌ وقت نہیں تھا۔
اور ارمان کا دماغ اُس وقت بھی اِس لڑکی بجائے اُن ڈیفیکٹس میں الجھا ہوا تھا جن میں سے ایک وہ بتا گئی تھی اور باقی۔۔۔۔”یقیناًاُسے وہ بھی معلوم کرنے تھے مگر کیسے ؟؟؟”
“اِس سر پھِری لڑکی سے اَز خود کونٹیکٹ ۔۔۔؟؟ “۔۔ارمان نے بے اختیار کانوں کو ہاتھ لگائے ۔۔
رات کھانے پر پاپا اس سے سیمینار اور اس کی پریزینٹیشن کی تفصیلات پوچھتے رہے، سپارکو کے تعاون کے بعد وہ ذاتی طورپر ارمان کے پراجیکٹ میں بھرپور دلچسپی لے رہے تھے۔
کھانا ختم کرکے پانی کے آخری گھونٹ لیتے ہوئے ارمان کے دماغ میں جھماکا سا ہوا ۔۔
” وہ مارا ۔ ڈیٹس دی آئیڈیا ۔۔”
دو روز بعد لیکچر روم میں سر یوسف آ ئن سٹائن کی جنرل تھیوری آف ریلیٹیوٹی سے متعلق بہت اہم ٹاپک سمجھا رہے تھے اور فاریہ سمیت کلاس کے چیدہ چیدہ چلبلے اُونگھنے میں مصروف تھے ۔
“تھیوری آف ریلیٹیوٹی کی بنیاد فریم آف ریفرنس پر ہے۔۔ جبکہ عام حالات میں ہم اشیاء کا مشاہدہ کرتے ہوئے کسی بھی طرح کے ریفرنس فریم کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔
“جی سر بجا فرمایا آپ نے۔۔۔ ہم نہ تو آنکھوں میں فریم فٹ کروا سکتے ہیں نہ ہی ایک چوکھٹا ساتھ لے کہ پھر سکتے ہیں ۔۔ “فاریہ نوٹس پیڈ پر چٹکلے ٹیکسٹ کرتی جا رہی تھی ۔۔۔ منتہیٰ نے اسے سخت نظروں سے گھورا ۔۔ اگرچہ اس کی تمام تر توجہ لیکچر کی طرف تھی۔پھر بھی فاریہ کی حرکتیں چھپی کہاں رہتی تھیں ۔
“نظر یۂ اضافیت کے مطابق کوئی بھی دو آبزرور کسی ایونٹ کے متعلق ایک جیسی حتمی رائے نہیں دے سکتے کیونکہ وہ دو مختلف طرح کے ریفرنس فریم سے واقعات کا مشاہدہ کرتے ہیں ۔۔”
“ایگزیکٹلی سر”۔”یہی پاکستان میں ہوتا ہے کسی بھی کرائم یا ایکسیڈنٹ پر ہر گواہ کا بیان بالکل الگ ہوتا ہے”۔۔ فاریہ کا اگلا ٹیکسٹ آیا ۔
“سر کیا میں ایک سوال پوچھ سکتی ہوں؟”۔۔منتہیٰ نے اجازت چاہی۔
“یس یو کین ۔۔”
“سر آئن سٹائن کی تھیوریز بیک وقت اَرتھ اور سپیس دونوں پر لاگو ہیں اینڈ یو نو واٹ کہ خلا میں سمتوں کا تعین زمین کی طرح تھری یا فورڈائیمینشنل نہیں رہتا تو ہم نظرۂ اضا فیت کو کسی اور سیارے کی مخلوق پر کس طرح اپلائی کریں گے ؟؟ زمین سے ایک فش باؤل جیسا ہمیں نظر آ تا ہے وہ اُن کے ریفرنس فریم سے کچھ اور دکھا ئی دیگا ؟۔”
سر یوسف کے جواب دینے سے پہلے ہی فواد نے مداخلت کی ۔
“سر مس منتہیٰ کو شاید سپیس میں جانے کی بہت جلدی ہے ۔یہ ہرتھیوری کوفوراٌ خلا پر اَپلائی کر دیتی ہیں۔۔ ”
پہلا سوال یہ ہے کہ
Do aliens exist??
فواد منتہیٰ کے سوالوں سے بہت چڑتا تھا حالانکہ اُس کے اپنے سوال باقی کلاس کو جلیبی کی طرح سیدھے لگا کرتے تھے ۔
“لو جی کر لو ۔ گَل۔۔اب سر نے اٹھا کر ایک نئی اسائنمنٹ دے دینی ہے “۔۔ فاریہ نے منہ بنا کرنے اپنے دائیں جانب بیٹھی سمین کے کان میں سرگوشی کی ۔
اور سر یوسف جو بہت زیرک تھے۔ کلاس کے ہر سٹوڈنٹ کے دماغ کو پڑھنے کی صلاحیت رکھتے تھے ۔فاریہ سے مخاطب ہوئے۔
Exactly miss Faria, I am going to give you all this new assignment ..
“لیکن خلائی مخلوق کے متعلق جو بھی تصور آپ اپنے ذہن میں رکھتے ہیں اُسے ثابت بھی کرنا ہوگا “۔۔ فاریہ اپنی جگہ گنگ سر کی شکل دیکھے گئی ۔
“اور فاریہ۔۔ یہ اپنے رائٹنگ پیڈ کا فرنٹ پیج مجھے دیدیں ۔۔ سر نے ہاتھ بڑھا کر اس کے پیڈ کا فرنٹ پیج پھاڑ کر فولڈ کیا ۔ ۔” فاریہ کے ساتھ آج یقیناًبہت بری ہوئی تھی ۔۔ منتہیٰ نے بمشکل اپنی ہنسی ضبط کی ۔
سر یوسف نے کلاس سے جاتے ہوئے پلٹ کر دیکھا ۔آپ فری پیریڈ میں میرے پاس آئیے مس منتہیٰ۔
“ہیں۔۔۔؟؟ یہ سر نے مجھے کیوں بلایا ہے ؟؟ ”
منتہیٰ کو حیرت ہوئی ۔۔ “اس کا خیال تھا کہ شامت اور بلاو ا فاریہ کا آ نا ہے ۔۔”
اور فاریہ جو پوری کلاس کے سامنے ہونے والی شرمندگی پر جلی بھنی بیٹھی تھی پھٹ پڑی ۔۔”اِس لیے کہ تم نے اُن کے ہونہار سپوت کے اتنے اہم پراجیکٹ میں کیڑے نکالے تھے ۔اُس نے جا کر باپ سے شکایت کی ہوگی اور اب تمہاری پکی شامت آ ئی ہے ۔”
“ہونہہ ، تم نے سر یوسف کو اتنا ڈفر سمجھ رکھا ہے؟؟؟۔۔مینا نے ناک سے مکھی اڑائی ”
“وہ تو خیر آج تمہیں بھی پتا لگ جانا ہے کہ سر ڈفر ہی نہیں پورا اوور کوٹ ہیں ۔۔فاریہ کی ڈھٹائی اب بھی عروج پر تھی۔۔”

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

دو پیریڈز کے بعد اگلا پیریڈ فری تھا سو منتہیٰ سیدھی سر کے آفس پہنچی ۔
دستک کر کے اندر آنے کی اجازت طلب کی ۔سر اُس وقت ریلیکس سے بیٹھے سٹیفن ہاکنگ کی نئی کتاب پڑھ رہے تھے۔
universe in a nutshell
منتہیٰ نے کنکھیوں سے ٹائٹل دیکھا ۔۔۔۔ وہ پڑھ چکی تھی۔
سر نے اُسے بیٹھنے کا اشارہ کیا پھر گویا ہوئے ۔۔ مس منتہیٰ چند دن پہلے آپ نے مجھ سے سپارکو کے ریسرچ سینٹر کی ایک ورکشاپ کاذ کر کیا تھا ۔۔کہیے کیسی رہی ۔۔۔؟؟؟
ورکشاپ کے نام پر اُسے فاریہ کے خدشات یاد آ ئے ۔۔ پھر اس نے سر جھٹکا ۔۔
It was very interesting and informative Sir …
اس نے مختصر جواب پر اکتفا کیا ۔
ایسا ہے مس منتہیٰ کے مجھے ورکشاپ کی کچھ تفصیلات ملی ہیں ۔۔ “آ پ نے لمس کے ریموٹ سینسنگ پراجیکٹ پر
کچھ پوائنٹس اٹھائے تھے “۔۔سر یوسف کی نظریں اُس کے چہرے پر گڑی ہوئی تھیں ۔۔لیکن وہ پُر اعتماد تھی ۔
“یونیورسٹی کے سٹوڈنٹس نے ریسرچ سینٹر کے توسط سے ڈیپارٹمنٹ رابطہ کیا تھا ۔ وہ آپ کے ساتھ ایک ڈسکشن سیشن چاہتے ہیں”۔ سر بات جاری رکھتے ہوئی گہری نظروں سے اس کا جائزہ بھی لے رہے تھے ۔
“انھیں اپنے پراجیکٹ کو اپ ڈیٹ کرنے کے لیے آپ کا تعاون درکار ہے ۔۔ آر یو شیور ۔ کہ آ پ ایک ڈسکشن پینل کو اِن ڈیفیکٹس پر قائل کر لیں گی ؟ ”
“یو نو واٹ کہ یہ پراجیکٹ بہترین انجینئرز نے ڈیزائن کیا ہے اور اب اِسے سپارکو کا مکمل تعاون بھی حاصل ہے ۔”
“یس آئی ایم شیور سر ۔۔ میں اِس ڈسکشن سیشن کے لیے تیار ہوں “۔۔منتہیٰ کا اعتماد دیدنی تھا ۔

جاری ہے

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں