site
stats
دوام

آفاقی عشق کی لازوال داستاں – دوام

Dawaam by Sadeeqa Khan

سر یوسف کے لبوں پر گہری مسکراہٹ آئی ا نہیں یہی امیدتھی۔ ٹھیک ہے میں آ پ کو کانٹیکٹ نمبر دے رہا ہوں مزید تفصیلات آپ خود طے کر لیں اگرچہ آپ انفرادی طور پر اِس ڈسکشن میں شریک ہوں گی لیکن میری خواہش ہے کہ آ پ مجھے اس کی اوورآل پروگریس سے آ گاہ کریں “۔۔۔ سر نے خوش دلی سے کہ
وہ میں نہ بھی کروں تو سر آ پ کا سپوتِ نامدار آ پ کو سب خود ہی بتا دے گا ۔ مینا نے جل کر سوچا ۔
“اوکے شیور آئی ول سر “۔۔ سنجیدگی سے جواب دے کر وہ جانے کے لیے اٹھی۔
“یہ پیج مس فاریہ کو واپس کر دیجئے گا “۔۔ سر نے ایک فولڈ پیج اس کی طرف بڑھایا۔ اب وہ اپنے سیل کی طرف متوجہ تھے۔
منتہیٰ نے آفس سے باہر آکر پیج کھولا سر کی ہینڈ رائیٹنگ میں اوپر ہی ایک نوٹ لکھا تھا
Really appreciating !! Miss Faria your sense of humor is quite impressive…I Hope your assignment on Aliens will be more amusing…


اسی ناول کی گزشتہ اقساط پڑھنے کے لیے کلک کریں


اور منتہیٰ جو بہت کم کھلکھلا کر ہنسا کرتی تھی ، اس نے اپنااونچا قہقہہ بمشکل ضبط کیا ۔
“تم نے بتایا نہیں سر نے تمہیں کیوں بلایا تھا ؟؟”۔۔ رات تک فاریہ کا تجسس عروج پر پہنچ چکا تھا
“تمہارے رائٹنگ پیڈ کا پیج واپس کرنے کے لئے”۔۔ منتہیٰ نے پرس سے کاغذ نکال کر اُس کے سامنے پھینکا
حیرت سے دیدے گھماتے ہوئے فاریہ نے پیج کھولا ۔۔۔ سامنے ہی سر کا نوٹ تھا۔۔ اور پھر پیٹ پکڑ کر وہ کافی دیر تک ہنستی رہی ۔
یہ سر یوسف کتنے کیوٹ ہیں نہ۔۔۔ بمشکل اپنی ہنسی پر قابو پا یا
فاریہ بی بی! صبح تک سر آ پ کو ڈفر بلکہ اوورکوٹ لگا کرتے تھے ۔۔ مینا نے اُسے جتایا ۔
وہ تو اب بھی لگتے ہیں اور لگتے رہیں گے فاریہ جیسے ڈھیٹ پیس کم ہی تھے ۔ اچھا تم مجھے چکر مت دو شرافت سے بتاؤ کہ سر نے تمہیں کیوں بلایا تھا ۔۔؟؟
فاریہ کو یقین تھا کہ ارمان یوسف کے پاس اپنے سارے بدلے چکانے کا یہ بہتر ین موقع تھا ۔
اور منتہیٰ نے اسے مختصراٌ ڈسکشن سیشن کی تفصیلات بتائیں۔۔ شام میری سنٹر بات ہوئی تھی انہوں نے ایک ہفتے بعد کی ڈیٹ رکھی ہے اور فاریہ کا منہ حیرت سے کھلے کا کھلا رہ گیا ۔
“اف! تم نے ڈیٹ تک فائنل کرلی ۔۔یار منتہیٰ کچھ عقل کے ناخن لو وہ انجینئرز ہیں اپنے پراجیکٹ کے بارے میں ہم سے کہیں زیادہ نالج رکھتے ہیں ۔”
“تمہارا خیال ہےکہ میں نے محض تفریحاًسوال کیا تھا ؟؟ ”
“تو اور کیا ! یہ کیسے ممکن ہے کہ گھنٹہ دو گھنٹہ کی عمومی تفصیلات سے تم خامیاں ڈھونڈ لو “۔۔ فاریہ نے ناک سے مکھی اڑائی۔۔
“فاریہ بی بی”۔ “ہم پچھلے پانچ‘ چھ سال سے ایک ساتھ ہیں اور تم اچھی طرح جانتی ہو کہ منتہیٰ ہارنا نہیں جانتی ۔۔ میں نے آج تک کبھی سیکنڈ پر کمپرومائز نہیں کیا “۔۔ مینا کا اعتماد دیدنی تھا ۔
“یہ پراجیکٹ کچھ عرصے پہلے انٹرنیٹ پر میری نظر سے گزرا تھا اور میں انتہائی گہرائی تک اِس کی تمام تفصیلات سے آگاہ ہوں ۔”
“پھر تم چل رہی ہو نا میرے ساتھ؟؟ تمہارے نئے سوٹ کل ہی ٹیلر کے پاس سے آ ئے ہیں “۔۔ مینا نے شرارت سے اسے آفر کی ۔
“کمینی ۔۔تم اکیلی بھگتو اپنے پنگے۔۔ فالتو میں مجھے مت گھسیٹو “۔۔فاریہ نے اسے کھینچ کر تکیہ مارا ۔
فاریہ کو سو فیصد یقین تھا ارمان یوسف نے منتہیٰ کو بری طرح گھیرا تھا چانسز کم تھے۔ کہ وہ اِس بار بھی فاتح لَوٹے گی۔۔
***************************
دوسری طرف ارحم کا جوش و خروش بھی دیدنی تھا۔ ۔۔ “اب آ ئی بکری چھری تلے۔۔”
“تم مجھے تو ساتھ لے کر جا رہے ہونہ ؟؟ “سارے بدلے چکانے کا اس سے بہتر موقع بھلا ارحم کو اور کب ملنا تھا ۔
“ہر گز نہیں ،،میرے ساتھ صرف شہریار جائے گا “۔ ارمان نے اپنے بیسٹ فرینڈ کا نام لیا جس کا پورے پراجیکٹ میں بھرپورتعاون تھا ۔
“اگر وہ لڑکی اتنی آسانی سے ایک ڈسکشن سیشن پر آمادہ ہے تو لازمی اس کے پوائنٹس میں وزن ہوگا۔ ہمیں ایک دفعہ پھر سے پراجیکٹ کا مکمل جائزہ لینا ہوگا “۔۔ ارمان نے شہریار کو مخا طب کیا جو منتہیٰ کی ہسٹری سے نا واقفیت کے سبب ہونقوں کی طرح دونوں کی شکل دیکھ رہا تھا ۔۔
“ارے یار تو اِس کو اتنا سیریس کیوں لے رہا ہے ۔۔ وہ لڑکی فزکس میں تھوڑی بہت نالج کی بنا پر اَکڑ رہی ہے “۔ ہونہہ
وہ بھلا ہم انجینئرز کا مقابلہ کر سکتی ہے، وہ بھی جب سپارکو کے آفیشلز ہمارے پراجیکٹ کو کلیئر کر چکے ہیں ۔
ارحم نے ناک سے مکھی اڑائی۔
لیکن ارمان فیس بک کی طویل ڈسکشنز میں بارہا دیکھ چکا تھا کہ۔” منتہیٰ دستگیر صرف اسی موضوع پر بولتی ہے جس پر اسے مکمل عبورہوتا ہے ۔۔”
***************************
پیر کے روز وہ بھرپور تیاریوں کے ساتھ سپارکو ریسرچ سینٹر پہنچے ۔۔ سپارکو کے دو آفیسرز ڈسکشنز روم میں موجود تھے۔۔ اور منتہیٰ ٹھیک وقت پر پہنچی تھی ۔ بلیک عبایہ اور سکارف میں ملبوس اِس دھان پان سی لڑکی کو شہریار نے بہت غور سے دیکھا ۔ گرمی کے باعث جس کا سپید چہرہ لال بھبوکا ہو رہا تھا ۔
“بیوٹی وِد برین “۔کیا دونوں اکھٹی ہو سکتی ہیں ؟؟ ابھی لگ پتا جائےگا محترمہ کتنے پانی میں ہیں ۔؟؟
شہریار کو ارحم ‘ منتہیٰ کی ساری ہسٹری اَزبر کروا چکا تھا جبکہ شہریا ر کے بغور جائزے کے برعکس ابتدائی تعارف کے بعد ارمان نے ایک اُچٹتی نظر بھی منتہیٰ پر نہیں ڈالی تھی۔ وہ اپنے رائٹنگ پیڈ پر کچھ نوٹس لینے میں مصروف تھا ۔
مس دستگیر! پانچ روز پہلے پراجیکٹ کی تمام تفصیلات آپ کو اِس وارننگ کے ساتھ میل کی گئی تھیں کہ یہ کانفیڈینشل رہنی چاہئے۔
آپ یقیناٌ ان کا جائزہ لے چکی ہوں گی؟؟ سینئر آفیسر نے بات کا آغاز کیا ۔
منتہیٰ نے اثبات میں سر ہلایا وہ محتاط تھی یہ فیس بک کا کوئی ڈسکشن گروپ نہیں تھا‘ ایک حساس جگہ تھی ۔سپارکو کی اِس پراجیکٹ میں دلچسپی کی ایک بڑی وجہ پاکستان میں قدرتی آفات کی بڑھتی ہوئی شرح اور اُن سے بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی تھی جنسے نمٹنے میں ہماری اتھارٹیز تقریباٌ ناکام ہو چکی تھیں۔
مس دستگیر !آپ نے سوال و جواب سیشن میں ہارپ کی یو ایف او سے متعلق پوائنٹ اٹھایا تھا ہم نے اِس پر ایک ہفتے تک کافی تحقیق کی ہے۔
“یہ بے انتہا طاقتور الیکٹرومیگنیٹک ویو ز زمین کے اندر گہرائی تک جذب ہوکر اندرونی درجۂ حرارت کو آ خری حد تک بڑھاکر اِس کی ٹیکٹونک پلیٹس کوچند منٹوں میں متحرک کر دیتی ہیں ۔۔ جتنی طاقتور یہ لہریں ہوں گی اتنی ہی شدت کا زلزلہ آ ئے گا ۔ دوسری صورت میں اگر اِن کا اینگل آف پروجیکشن ۱۸۰ ڈگری کی حد میں ہو تو یہ سیدھا سفر کرتی ہوئی ایٹماس فیئر میں جذب ہوکر فوری طور پر سٹرینج کلاؤڈ ز ڈیویلپ کرتی ہیں‘ جس سے اِس علاقے کے موسم میں اچانک بڑی تبدیلی رونما ہوکر کبھی طوفان یا سائیکلون، کبھی ٹورناڈو یا موسلا دھار بارشوں کا سبب بنتی ہیں ۔ کچھ علاقوں میں اِن کے باعث بارش کی قلت اور خشک سالی بھی نوٹ کی گئی ہے۔”
لیکن اِن سب تفصیلات سے قطعہ نظر اب تک کسی بھی ملک کے پاس ایسی ٹیکنالوجی نہیں ہے جس کے ذریعے اِن موجوں کو روکا یاپسپا کیا جا سکے ۔
کیونکہ بظا ہر یہ ا مریکہ کا ہائی فیکوئینسی اورورل ریسرچ پروگرام ہے جس کا تعلق آئینو سفیئر کی سٹڈی سے ہے۔
ارمان نے تمام تفصیلات بتا کر بات ختم کی ۔
یہ سب مجھے معلوم ہے ۔ منتہیٰ نے ناک سکیڑی ۔
“یہ شعاعیں براہِ راست اوزون پر اثر انداز ہو رہی ہیں جس کے باعث پوری دنیا شدید موسمیاتی تبدیلیوں کی زد پر ہے ،
اِن کے لئے صرف جیو سینسنگ کافی نہیں ہوگی بلکہ ہمیں سٹیلائٹ یا راڈار سےایسا سسٹم متعارف کروانا ہوگا جو بر وقت اِن برقی مقناطیسی موجوں کو ڈیٹیکٹ کرے ۔”
“جہاں شر ہو وہاں اللہ تعالیٰ خیر بھی ضرور اتارتا ہے ۔یہ لوگ آج انسانیت کے خدا بنے بیٹھے ہیں لیکن بحیثیت مسلمان ہم صرف ا یک خدا کی ذاتِ پاک پر کامل یقین رکھتے ہیں۔ ۔ہمیں میں سے کسی نے آگے بڑ ھ کر زمین کے اِن خداؤں کو چیلنج کرنا ہے ۔۔”
مس آپ کے دلائل کافی خوبصورت ہیں لیکن یو نو واٹ کہ باتیں تو سب ہی بنا لیتے ہیں کیونکہ یہ دنیا کا سب سے آسان کام ہوتاہے ۔شہریار نے چوٹ کی ۔
“ایگز یکٹلی !”۔۔ منتہیٰ اِس طنز سے بالکل بھی متاثر نہیں تھی ۔۔
“ایسا ہے کہ کسی بھی تعمیری کام کی بنیاد ڈسکشن پر ہی رکھی جاتی ہے دو چار افراد بیٹھ کر ایک عمارت کی منصوبہ بندی کرتے ہیں تو سالوں بعد ایک تعمیری شاہکار وجود میں آتا ہے ۔ ہم اشاروں سے کام نہیں چلا سکتے ۔اپنا اپنا مؤقف ہمیں باتوں کے ذ ریعے ہی واضح کرناہے” ۔۔ منتہیٰ کی جوابی چوٹ مزید سخت تھی۔
“اُوکے تو پھر آپ ٹو دی پوائنٹ رہتے ہوئے اِن خامیوں کا ذکر کریں جو آپ کو ہمارے پراجیکٹ میں نظر آ رہی ہیں ۔۔” شہریار کا خیال تھا کہ لڑکی باتوں میں اصل موضوع کو گھما رہی ہے ۔
“جی اگر آپ تھوڑا صبر کر لیتے تو میں اسی طرف آ رہی تھی “۔ منتہیٰ نے تیکھی نظروں سے شہریار کو گھورا ۔۔ ایئر کنڈیشن کمرے میں بھی باہر کی سی گرمی در آئی تھی ۔
“ایسا ہے کہ جو سسٹم آپ نے ڈیویلپ کیا ہے وہ ابتدائی وارننگ بھی دے گا ،دور دراز علاقوں کی بھر پور معلومات وغیرہ بھی ۔ سب آپشنز اس میں موجود ہیں لیکن اس کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ۔۔”
منتہیٰ نے ایک لمحے رک کر شہریار اور ارمان پر گہری نظر ڈالی۔
“کہ یہ صرف تخمینے فراہم کرے گا ۔اس سے زیادہ سے زیادہ یہ ہوگا کہ یو ایس یا یو این او‘ دوکے بجائے پانچ کروڑ کی امداددے دیں گے ۔۔ لیکن یو نو واٹ کے ہماری اتھارٹیز نا اہل ہیں ۔’’صرف تخمینے اُن المیوں کا سدِ باب نہیں کر سکتے جو کسی بھی طرح کے ڈیسازٹرسے جنم لیتے ہیں۔”
“مِس ۔ڈیسازٹرز سے نمٹنا اور ریلیف فراہم کرنا ۔۔۔ہم انجینئرز کا نہیں گورنمنٹ کا کام ہے”۔ اب کہ ارمان نے مداخلت کی ۔۔
تو پھر آپ یہ لکھ لیں کہ “اِس پراجیکٹ کو سپارکو بو سٹ اپ کرے یا ناسا ۔انجینئرنگ لیول پر آپ کو کتنے ہی واہ واہ یا
ا یوارڈ مل جائیں۔۔۔یہ قدرتی آ فات سے لڑتے نہتے عوام کے کسی کام کا نہیں ہے “۔ منتہیٰ کے چہرے پر گہری سنجیدگی تھی۔
“سر آ پ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟؟ “۔ارمان نے سینئر ریسرچ آفیسرز کو مخاطب کیا ۔جو کافی دیر سے خاموش تھے۔
مس دستگیر کی بات میں وزن ہے۔ ۔”ہم اِس سے پہلے بھی گورنمنٹ کو اِس طرح کی کئی سہولیات فراہم کر چکے ہیں لیکن ہماری بیورو کریسی کسی بھی طرح کے فلاحی کام کو آ گے بڑھنے نہیں دیتی ،اگر سسٹم کے فوری تخمینوں کے مطابق بھرپور ریلیف آپریشن کیا جائے ، جو گائڈ لائنز یہ سسٹم دیتا ہے اس پر مکمل طور پر عمل کرتے ہوئے ایک سٹریٹیجی ڈیولپ کی جائے تو عوام کو بھر پور ریلیف ملے گا ۔۔۔ لیکن حقیقت میں ایسا ہو اِس کے چانسز ۵۰فیصد بھی نہیں ۔
“اور سر آپ کیا کہتے ہیں ؟؟”۔۔ شہریار نے دوسرے آفیسر سے پوچھا ۔۔ اسے ڈاکٹر عبدالحق کا تجزیہ ایک آنکھ نہیں بھایاتھا۔۔
“میرا خیال ہے کہ اس ڈسکشن کو کچھ ہفتوں کے لیے ملتوی کرتے ہیں ۔۔ سب کو سوچنے کے لیئے وقت چاہئے ۔”اگر صرف ایک سسٹم بنا کر اتھاریٹیز کو دینا ہے تو میں اس میں چھوٹے موٹے نقائص ہی دیکھ رہا ہوں جو زیادہ اہمیت نہیں رکھتے ۔”
“لیکن اگر ہم بڑے پیمانے پر عوام خصوصاٌ پاکستان کے شمالی علاقہ جات کے قدرتی آفات سے تباہ شدہ انفراسٹرکچر کے لیے کچھ کرناچاہتے ہیں،تو ہمیں ابھی بہت کچھ اپ ڈیٹ کرنا ہوگا بہت سی تبدیلیاں لانی ہوں گی۔”
“سیشن کی اگلے ڈیٹ سے آپ لوگوں کو جلد مطلع کر دیا جائے گا ۔”
شہریار وہاں سے کافی بد دل ا ٹھا تھا ،جبکہ ارمان کسی گہری سوچ میں غرق تھا ۔۔
’’یہ لڑکی واقعی کبھی سیکنڈ پر کمپرومائز نہیں کرتی ۔‘‘
***************************
رامین نے پری میڈیکل فیصل آباد ڈیویژن میں ٹاپ کیا تو سب سے پہلے یہ خبر منتہیٰ کو دی ۔
سمسٹر کے امتحانات نزدیک ہونے کے باعث فوری طور پر گھر جانا ممکن نہیں تھا اور سر انور نے اُسے ریسرچ پیپر کا چیلنج بھی دیا ہوا تھا۔آہستہ آہستہ منتہیٰ کی مخفی صلاحیتیں نکھر کر سامنے آ رہی تھیں۔ وہ بری طرح اپنے جھمیلوں میں پھنسی ہوئی تھی۔ مگر چھوٹی بہن کی اتنی بڑی کامیابی پر تحفہ تو بنتا تھا سو اگلے دن وہ یونیورسٹی سے سیدھی لبرٹی مارکیٹ گئیں ۔
رامین کے لیے اس کی پسند کے کچھ سوٹس لے کر ٹی سی ایس کئے اور پھر کافی دیر تک اِدھر اُدھر ونڈو شاپنگ کرتی رہیں
فاریہ کا ارادہ اس روز لاہور کی فوڈ اسٹریٹ سے سیخ کباب اور کڑاہی اڑانے کا تھا، دونوں نے ڈھیر ساری باتیں کرتے ہوئے مزیدار کھانا کھایا ۔
اگرچہ فاریہ کی خوش خوراکی سے مینا ہمیشہ سے چڑتی تھی۔۔ مگر کبھی کبھار کی یہ تفریح اب اُسے اچھی لگنے لگی تھی سٹڈیز اور سیمینارکے پیپر کا جو بوجھ ہفتوں سے وہ کندھوں پر لیے پھر رہی تھی آج گھنٹوں میں اس سے نجات ملی تھی ۔
انسان اگر صرف کتابوں میں گھِراجینے لگے تو اُسے بہت جلد کسی سائیکاٹرسٹ کی خدمات درکار ہوتی ہیں ۔ فاریہ نے منتہیٰ کو جتایا۔
تم ہر بات میں آئن سٹائن، فائن مین اور سٹیفن ہاکنگ کے حوالے دیتی ہو ۔ یو نوواٹ کہ آئن سٹا ئن کہتا تھا ’’انتہائی ذہین افراد کی زندگی میں سب سے بڑا فقدان خوشیوں کا ہوتا ہے ۔‘‘ ہزاروں دلوں پر راج کرنے والوں کے اپنے دل سونے کیوں رہ جاتے ہیں ؟ اِس لیے کہ دنیا کی آنکھوں کو خیرہ کرنے والے ہیرے کو کہیں کوئی ایسا نہیں ملتا جو اُسے چھُو کرپارس کردے۔
فاریہ کبھی کبھار فلسفہ بھی جھاڑا کرتی تھی ۔
“اِس کی وجہ یہ ہے کہ اِیسے لوگوں کا وجدان مختلف اور عام آدمی کی سطح سے بہت بلند ہوتا ہے ۔۔ اُنہیں ہجوم میں بھی کوئی اِیسا نہیں ملتاجس سے وہ برابری کی سطح پر دل کی بات کر سکیں اور وہ اُسے سمجھ بھی سکے”۔ مینا نے ناک سے مکھی اڑائی ۔
“اُوہ اچھا ۔۔ تو آپ لوگوں کے پاس دل نام کی کوئی شے بھی ہوتی ہے ؟؟”
“بالکل ہوتی ہے کیوں ہم انسان نہیں ہوتے “۔۔ مینا نے باقاعدہ برا منایا
“ہم “۔۔۔ حسبِ عادت لمبی سے ہم کرتے ہوئے فاریہ نے شرارت سے دیدے نچائے ۔۔
“چلو کچھ لوگوں سے ملاقاتوں نے تمہیں یہ باور تو کرایا کہ تمہارے پاس دل بھی ہے ورنہ۔ کچھ عرصے پہلے تک یہ صرف بلڈ پمپنگ ہی کیا کرتا تھا ۔”
“اگر اُس وقت وہ میٹرو میں نہ ہوتیں تو آج فاریہ نے مینا کے ہاتھوں قتل ہی ہوجانا تھا “۔۔ میٹرو عورتوں اور بچوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی ۔۔سو منتہیٰ خون کے گھونٹ پی کے رہ گئی ۔
***************************
ایک ہفتے بعد منتہیٰ کو صبح صبح امی کی کال موصول ہوئی ۔
“تمہارے ابو کل لاہور آ رہے ہیں رامین کے ایڈمیشن کے سلسلے میں ۔۔”
حالانکہ منتہیٰ کو رامین کی پلاننگ کے بارے میں کئی ماہ سے علم تھا ۔ پوزیشن کے بعد اب اس کا سکالرشپ ڈیو تھا ، سو حسبِ خواہش کنیئرڈ میڈیکل کالج میں ایڈمیشن کچھ مشکل نہ تھا۔
ہر روز صبح یونیورسٹی جانے سے پہلے اور آ نے کے بعد وہ سب سے پہلے امی کو کال کیا کرتی تھی۔ کہ جب تک دن میں وہ چار دفعہ اس سے بات نہ کرلیتی تھیں ان کا دل ہولتا رہتا تھا۔
’’ “ماں کا دل بھی خدا نے ناجانے کس مٹی سے بنایا ہے کہ اس کی ہر دھڑکن اپنی اولاد کی سلامتی سے وابستہ ہوتی ہے ۔ کسی مرغی کی طرح اپنے چوزوں کو پروں میں چھپائے وہ مطمئن رہتی ہے، لیکن جب اُن میں سے کوئی دور چلا جائے تو جیسےُ اس کی روح کا ایک حصہ بھی کہیں بہت دور چلا جاتا ہے ۔ہر آ تی جاتی سانس کے ساتھ فکر اور اندیشے ۔ ”
پتا نہیں ناشتہ کر کے گئی ہوگی، کینٹین کی کیا الا بلا کھا لی ہوگی ۔ ہاسٹل کے مینو پر تو اُنہیں بہت ہی تاؤ آتا تھا ۔۔ گرمی نے میری پھول سی بچی کا کیا حا ل کر دیا ہے ،سکائپ پر انہیں منتہیٰ کا رنگ ہر روزکچھ اور سنولایا ہوا محسوس ہوتا کہ منتہی ٰ کی سرخ و سفید رنگت والی لڑکی ان کے میکے یا سسرال دونوں میں نہ تھی ۔
اور اب تو رامین بھی رختِ سفر باندھنے کو تھی ۔۔ عاصمہ کے دل کو جیسے کسی نے مُٹھی میں لے رکھا تھا مگر کچھ کہنا فضول تھا وہ جانتی تھیں
فاروق ہی نہیں ان کی اولاد بھی جب ایک فیصلہ کر لے تو پھر اس سے پیچھے نہیں ہٹتی ۔
اُن کی ہونہار بیٹیاں سکالر شپ پر میڈیکل ، انجینئر نگ میں جا رہی تھیں ۔ وہ اب بہت فخر سے اپنے حلقۂ احباب میں بتایا کرتی تھیں۔”یہ مائیں بھی نہ بس۔”
***************************
“میری جان”۔”کبھی اپنی ان سٹڈیز سے باہر بھی نکل آیا کرو “۔۔ ممی نے لاڈ سے ارمان کے بال سنوارے جو ایک ہاتھ میں کافی کامگ لیے لیپ ٹاپ پر بزی تھا ۔
“ممی بس پراجیکٹ کی وجہ سے مصروفیات کچھ بڑھ گئی ہیں” ۔۔ اس نے ماں کو گول مول جواب دیا ۔
“ٹھیک ہے لیکن اب تمہیں ہر صورت ٹائم نکالنا ہے ۔ اگلے ہفتے تمہارے کزن رامش کی شادی ہے سارے کزنز ہلے گلے کا پروگرام بنائے بیٹھے ہیں اور ایک تم ہو کہ پڑھائی سے فرصت نہیں۔”
ممی نے پیار سے اُسے ڈانٹا ۔۔ یہ وہی ارمان تھا جسے وہ کبھی سٹڈی کے لیے گھُرکا کرتی تھیں ۔۔
“اُوکے ممی! ڈونٹ وری میں فنکشن اور کوئی بھی امیوسمنٹ مِس نہیں کروں گا ۔۔ میں خود تھو ڑی چینج کے موڈ میں تھا ۔” آپ کب جا رہی ہیں ماموں کی طرف ؟؟؟
میں اِسی لیے تو آئی تھی کل تمہاری خالہ نیو جرسی سے آ ئی ہیں میں اور تمہارے پاپا ملنے جا رہے ہیں تم بھی چلو ۔۔ اِس وقت وہ کہیں بھی جانے کے موڈ میں نہیں تھا پر ممی اُس سے بہت کم اِصرار کرتی تھیں سو پندرہ منٹ بعد وہ ڈرائیونگ سیٹ پر تھا ۔
ماموں کے گھر فکنشنز کی تیاریاں عروج پر تھیں ۔ سب بڑے لان میں جبکہ کزنز پارٹی کا ڈیرہ لاؤنج میں تھا ۔ ماموں ، خالہ اور خاندان کے باقی بڑوں کو سلام کرتا ہوا ارمان اندر پہنچا ۔
ارمان کا ماموں زاد را مش ایم بی اے کے بعد اپنے باپ کا وسیع بزنس سنبھالتا تھا جبکہ اُس سے چھوٹا ارمان کا ہم عمر صمید ابھی بی بی اے میں تھا ۔۔ اندر آتے ارمان پر پہلی نظر صمید ہی کی پڑی تھی۔
“ارے واہ۔۔ آ ج تو بڑے بڑے لوگ آئے ہیں۔۔ کہاں ہوتا ہے یار تو ؟؟ “۔گلے ملتے ہی ساتھ شکوہ بھی حاضر تھا
“بس یار سٹڈیز اور پراجیکٹس سے ہی فرصت نہیں ملتی سب کزن سے مل کر ارمان کاؤچ پر بیٹھا ہی تھا کہپیچھے سے آتی آواز نے چونکایا۔
گلیڈ ٹو میٹ یو ارمان ۔۔ یہ زارش تھی ارمان کی خالہ زاد جو کل ہی نیو جرسی سے آ ئے تھے ۔
ارمان کچھ زیادہ مذہبی یا بیک ورڈ تو نہ تھا پھر بھی فیمیلز سے ہاتھ ملانے سے اجتناب ہی کیا کرتا تھا ،مگر زارش کا سپید نازک سا ہاتھ سامنے تھا سو اسے ہاتھ ملاتے ہی بنی ۔
سب کزنز کا مشترکہ انٹرسٹ مہندی فنکشن تھا ۔۔ ارمان کے خاندان میں ایک سے بڑھ کر ایک ڈانسر موجود تھا ۔۔ بہت سے پیئرز مقابلے کے لئے تیار تھے ۔
“ارمان تم ایسا کر و ۔۔زارش کے ساتھ اپنا پیئر بنا لو “۔۔ رامش نے صلاح دی ۔
“نہیں یار تم لوگ انجوائے کرو۔۔ میری تو کوئی پریکٹس ہی نہیں “۔۔ارمان نے جان چھڑائی
“لو پریکٹس ابھی ہو جائے گی تم میرے ساتھ دو سٹیپ تو لو ۔۔ ردھم بن گئی تو دیکھنا ہم ان سب کو ہرا دیں گے”۔ زارش کی ایکسائٹمنٹ عروج پر تھی ۔ “بے شک سب میں ان کا کپل تھا بھی لا جواب۔۔”
“ایسا ہے کہ میں ابھی پراجیکٹ کا کام ادھورا چھوڑ کر آیا تھا ۔۔ پھر کل فرصت میں ملتے ہیں “۔۔ اس سے پہلے کہ وہ بلا دوبارہ گلے پڑتی ارمان باہر لان میں تھا ۔۔
“اور کل ۔ کس نے دیکھی ہے زارش بی بی “۔۔ وہ خاصہ بد مزہ ہوا تھا
اور پھر دو دن بعد وہ ممی کے ساتھ مہندی فنکشن پر ہی پہنچا تھا ۔۔۔ یار تو کدھر تھا میں اور زارش تجھے کال کر کر کے تھک گئے۔۔رامش چھوٹتے ہی ناراض ہوا ۔
“یار وہ بس پراجیکٹ ڈسکشن کے لیے سپارکو جانا پڑا “۔۔ ارمان نے ہفتوں پہلی کی ڈسکشن کا بہانا بنایا ۔
زار ش اب کسی اور کزن کے ساتھ پیئر بنا چکی تھی اُس کا خیال تھا کہ ارمان کچھ سپیشل ایکسکیوز کرے گا۔ لیکن اس نے تو ایک کے بعد۔اُس پر دوسری نظر بھی نہیں ڈالی تھی۔۔ حالانکہ سب ہی کزن کا خیال تھا ،کہ سی گرین شرارہ، سلیو لیس اور کھلے گلے کے بلاؤز ، فُل میک اپ اورڈھیر ساری چوڑیوں کے ساتھ‘ وہ قیامت ہی تو ڈھا رہی تھی ۔
“ہونہہ! خود کو سمجھتا کیا ہے؟؟ “۔۔اس نے نخوت سے ارمان کو دیکھا ۔۔” اِسے اپنے قدموں میں نہ جھکایا تو میرا نام بھی زارش نہیں ۔”

جاری ہے
**********

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top