آفاقی عشق کی لازوال داستاں – دوام -
The news is by your side.

Advertisement

آفاقی عشق کی لازوال داستاں – دوام

“لاسٹ سمیسٹر میں منتہیٰ کی مصروفیات بہت بڑھ چکی تھیں ۔۔”
ایک تو کوا نٹم میکینیکل ویوز جیسے مشکل موضوع پر تھیسس کا چیلنج ۔ اور پھر ایس ٹی ای کے برین ونگ کی کمانڈ کئی دفعہ ایسا ہوتا کہ وہ ویکلی میٹنگ میں نہیں جا پاتی ۔ لیکن اپنی ویکلی ریسرچ ،کوئی نیا آئیڈیا ، یا پریسنٹیشن وہ ارسہ اور رامین کے ہاتھ بھیج دیا کرتی تھی۔
سوات میں کامیابی کے ساتھ اپنے پہلے ڈیزاسٹر سینٹر کا افتتاح کرنے کے بعد اب ارمان اور اس کے ساتھی دیراور بالا کوٹ میں سینٹرز کے قیام کے لیے متحرک تھے۔
اگلے مرحلے میں انہیں ٹریننگ کے لیے مقامی افراد بھرتی کرنے تھے تاکہ سینٹر کے معاملات کی وہ ازخود دیکھ بھال کر سکیں ۔ چونکہ زلزلے سے انفرا سٹرکچر کی مکمل تباہی کے باعث مقامی باشندوں کی اکثریت بے روزگار تھی اور ان کے گھروں میں
فاقوں کی نوبت آچکی تھی ۔
اس روز ان کی اسی سلسلے میں ویکلی میٹنگ تھی ۔ وہ لیکچرز کے بعد کینٹین کی طرف بڑھ رہے تھے کہ ارمان کا سیل تھرتھرایا
“خوشحال خان کالنگ۔۔”
ارمان نے نے سکرین دیکھی اور دوستوں سے ایکسکیوز کرتا ہوا ایک جانب بڑھا ۔۔ وہ مسلسل تین روز سے اس شخص سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔


اسی ناول کی گزشتہ اقساط پڑھنے کے لیے کلک کریں


“آ ئی ایم سوری ۔۔۔ آپ کو زحمت ہوئی ۔۔ایکچولی میں ایک ہفتے سے ملک سے باہر ہوں “۔۔ ابتدائی سلام دعا کے بعدخوشحال نے معذرت کی۔
“اٹ از اوکے “۔۔ “سر مجھے آپ سے بہت ضروری بات کرنی تھی۔۔ ہم سوات کے بعد دیر اور کالام میں بھی ڈیزاسٹر سینٹرزقائم کرنے جا رہے ہیں ۔ اینڈ یو نو واٹ کہ ان علاقوں کے زیادہ تر نوجوان بے روزگار ہیں۔۔ ہمارے پاس فی الحال اتنے
وسائل نہیں کہ ٹریننگ کے ساتھ انھیں معقول تنخواہ بھی دے سکیں “۔۔ ارمان نے مختصر الفاظ میں اپنا مدعا بیان کیا۔
“جی میں اس حوالے سے آپ کی تفصیلی ای میل دیکھ چکا ہوں ۔۔ اور میرا بھرپور تعاون آپ کے ساتھ ہے۔۔ میرا سیکرٹری اس سلسلے میں کل آپ سے ملاقات کرے گا ۔”
اور دو سری طرف ارمان کو یوں لگا تھا کہ ہفتوں سے جو بھاری بوجھ وہ اپنے کندھوں پر لیے پھر رہا تھا ‘ اسے لمحوں میں اس سےنجات ملی تھی ۔۔
“خدا بے شک سب سے بڑا کارساز ہے وہ نیتوں کا اخلاص جانچتا ہے اور جب کوئی ایک دفعہ اس کی کسوٹی پر پورا اتر تا ہے تو پھر غیب سے یوں مدد ہونے لگتی ہے کہ بعض اوقات عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ وہ مہینوں سے کتنوں کے سامنے اپنا یہ مسئلہ بیان کر چکا تھا۔کتنوں کے در پر مالی امداد کے لیے دستک دی تھی ۔ان میں کئی اس کے اپنے خونی رشتے بھی تھے ۔لیکن جب بات مال کی ہو اورو ہ بھی خلقِ خدا کے نام پر دینے کی ہو تو ہر کوئی یوں اعلیٰ درجے کا بخیل بن بیٹھتا ہے جیسے یہ دولت اسکی اپنی ملکیت ہے ۔راہِ خدا میں دو لاکھ کیا دو ہزار دینے سے بھی ہر کسی کی جان جاتی ہے۔۔ تب ہم ایک لمحے کے لیے بھی نہیں سوچتے کہ وہ ذاتِ پاک جو ہم سب کو نواز رہی ہے اگر کسی روز اس نے یونہی ہم پر اپنی رحمتوں کے در بند کر دیئے تو پھر کون ہے جو ہماری ناؤ کو پار لگا سکے۔ہم قطعاَ فراموش کر بیٹھتے ہیں کے مال دینے سے گھٹتا نہیں بڑھتا ہے۔”
ارمان بات ختم کر کے دوستوں کی طرف لوٹا توخوشی اس کے چہرے سے عیاں تھی ۔ ارحم نے بغور اس کی کیفیت نوٹ کی ۔وہ اسکی رگ رگ سے واقف تھا۔
“خیر تو ہے کس کی کال تھی ؟”
“کچھ خاص نہیں ۔۔ تم لوگوں نے کچھ منگوایا نہیں کھانے کے لیئے۔۔؟ “۔ارمان نے بات گول کی ۔وہ یہ’’ بڑا دھماکہ‘‘ شام کو میٹنگ میں ہی کرنے کا رادہ رکھتا تھا۔
اس کے گول مول سے جواب پر ۔۔ارحم نے شہریار کو آنکھ مار کر متوجہ کیا ۔۔ “دال میں کچھ کالا ہے ۔”
“لگتا ہے تجھے آج مس منتہی ٰ نے کال کر لی ہے جو تیری بانچھیں یوں کھلی پڑ رہی ہیں ۔۔”
“جسٹ شٹ اپ ارحم ! مذاق ایک حد میں اچھا لگتا ہے ۔۔ وہ مجھے کیوں کال کریں گی “۔ خلافِ توقع ارمان ہ بھنایا۔
“شاید شام کی میٹنگ کے بارے میں کچھ بات کرنا ہو “۔۔ اس کے کڑے تیور دیکھ کر ارحم نے بات سنبھالی
“اول تو ایسا ہو نہیں سکتا ۔۔ان کو جو بات کرنی ہو وہ براہِ راست میٹنگ میں ہی کرتی ہیں۔۔ اور اگر کبھی ضرورت پڑی بھی تو اس میں خوش ہونے والی بات کوئی نہیں “۔۔ درشتی سے اپنی بات مکمل کرتا ۔۔چیئر پیچھے دھکیلتا ۔۔ارمان کینٹین سے نکلتا چلا گیا۔
“ابے یار ۔ اس کو کیا ہوا ۔۔ ارحم نے بے یقینی سے شہریار کو دیکھا۔۔؟”
“ڈفر آ دمی ۔۔تجھے کہا کس نے تھا اس کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھنے کو “۔۔؟؟ شہریار اسے گھورا
“دکھتی رگ “۔۔ہا ہا ہاہا ۔۔ ارحم لگاتار قہقہے لگاتا گیا ۔۔
“بڑا شوق تھا نہ جناب کو یو نیک سی لڑکی کا ۔۔ ملے کوئی ایسی جو مجھے چیلنج کرے۔۔ سو اب بھگتے ۔۔ کرے جستجو اسے پانے کی”۔۔ارحم نے ہنستے ہوئے پورا سموسہ منہ میں ٹھونسا ۔
خبیث ۔۔ چپ کر جا ۔۔ شہریار نے ارد گرد سے سٹوڈنٹس کو اس طرف متوجہ دیکھ کر اسے ایک دھپ رسید کی ۔۔ یونیورسٹی میں ایسی باتیں پھیلتے دیر نہیں لگتی ۔۔اور ارمان تو تھا بھی لڑکیوں کا فیورٹ۔۔ نہ جانے کتنے دل ایک ساتھ ٹوٹتے۔۔
**********
“میں یہ بات آپ سب کے ساتھ شیئر کرتے ہوئے بہت خوشی محسوس کر رہا ہوں کہ وہ مسئلہ جس کے باعث کئی ماہ سے ہماری جدوجہد کافی سست ہوگئی تھی کسی حد تک حل ہو گیا ہے”۔ ارمان نے شام کو میٹنگ میں ایک لمحے کے لیئے رک کر سب کے چہروں کو ٹٹولا ۔
منتہی ٰ کے علاوہ سب ہی اس کی متوجہ تھے۔۔
صبح کینٹین کی بدمزگی وہ بھولا نہیں تھا ۔۔۔ اس پر میڈم کی یہ لا تعلقی ۔۔ اس کا حلق تک کڑوا ہوا۔۔ خود کو سنبھال کر ۔۔اس نےبات کا سلسلہ جوڑا۔
“جی۔۔ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ’’معاشی امداد ‘‘ ۔۔ ہمارے ایک خیر خواہ خوشحال خان کی طرف سے مکمل مالی امداد کی یقین دہانی کروائی گئی ہے اور کل اس سلسلے میں میری ان کے بندے سے میٹنگ ہے۔” ارمان نے اپنی بات مکمل کی تو
ڈاکٹر عبد الحق نے اپنی چیئر سے اٹھ کر اس سے گرم جوشی ہاتھ ملایا ۔۔ باقی سب ساتھی بھی بہت دیر تک ٹیبل بجا کر چیئر اپ کرتے رہے۔
ارمان نے تند نظروں سے ارحم کو گھورا ۔۔ “اب پتا لگا کس کی کال تھی ۔۔”
“پھر اب ہمیں اپنی بھرپور تیاریوں کے ساتھ دیر اور کالام کا رخ کرنا ہے ۔۔ارحم نے تیزی سے بات کا رخ پلٹا ۔۔ اس جیسے ڈھیٹ پیس کم ہی تھے ۔
“سر ۔ میں یہاں ایک پوائنٹ سامنے لانا چاہوں گی “۔۔ منتہی ٰ نے مداخلت کی ۔
“یس منتہی ٰ “۔۔سب ہی اس کی طرف متوجہ ہوئے ۔۔”سوائے ارمان کے” ۔۔
“میرا خیال ہے کہ جو افراد ہماری مکمل مالی معاونت کر رہے ہیں ہمیں انہیں اپنی ویکلی یا ماہانہ میٹنگ میں مدعو کرنا چاہیے ۔اس سے ایک طرف تو وہ ہمارے مستقبل کے منصوبوں سے پوری طرح آگاہ ہو کر ان میں بھی بھرپور معاونت کریں گے دوسری طرف ہمیں ان کے سوشل سرکل سے بھی مالی یا فنی مدد حاصل ہو سکے گی کیونکہ خوشحال خان جیسے افراد کے ہر شعبے میں وسیع تعلقا ت ہوتے ہیں” ۔ ہمیشہ کی طرح منتہی ٰ آج بھی الرٹ تھی۔۔
ارمان جو لا تعلق سا بنا سامنے دیوارکو گھور رہا تھا ۔۔ایک لمحے کو ٹھٹکا ۔۔ یہ کتنا اہم پوائنٹ اس نے نظر انداز کیا تھا ۔۔
“اگر وہ اکڑتی تھی ۔ تو یقیناًاس میں ایسا کچھ تھا بھی جس پر اکڑا جائے۔۔ مگر ارمان جانتا تھا۔۔’’ وہ مغرور نہیں تھی ۔‘‘۔۔وہ درد مند دل رکھنے والی ایک بہادر لڑکی تھی ۔۔طوفانوں سے لڑ جانے والی‘‘۔۔ “اور اچھے مرد ایسی باکردار لڑکیوں کو جھکا کر
انھیں توڑانہیں کرتے ۔وہ ان کے لیئے خود جھک جاتے ہیں ۔۔ارمان کے دل میں منتہی ٰ کی عزت اس روز کچھ اور بڑھ گئی تھی۔”
**********
مختلف شہروں میں ڈیزاسٹر اور کمپیوٹر ٹریننگ سینٹرز قائم کرنے سے کمپین میں شمولیت اختیار کرنے والے افراد کی تعداد تیزی سے بڑھنے لگی تھی ۔انہوں نے ہر علاقے میں کچھ ایسا سلسلہ رکھا تھا کہ پہلے سے موجود مقامی افراد نئے آنے والے
لوگوں تربیت دے کر آگے بڑھائیں ۔۔تا کہ ونگ کمانڈرز کو مسلسل ایک علاقے میں رکنے کی زحمت نہ کرنی پڑی ۔
کارکنان کی تعداد بڑھنے سے بہت سے نئے پر عزم اور جفا کش اور محنتی ساتھی انہیں ملے تھے مگر اس بات کا اعتراف تو ڈاکٹرعبدالحق بھی برملا کرتے تھے کہ ارمان اور منتہیٰ کا نعم البدل اب تک ان کے پاس نہ تھا ۔ ۔ جس طرح ان دونوں نے اپنے اپنے
ونگ میں مسلسل متحرک رہتے ہوئے بہت تھوڑے عرصے میں کمپین کو ایک مضبوط فاؤنڈیشن میں ڈھالا تھا ۔وہ ان کی اپنے ہموطنوں سے سچی محبت کا غماز تھا۔
َ َ لیکن صرف منتہیٰ اور ارمان ہی نہیں کئی اور بہت سے ارکان بھی اَنتھک محنت کے ساتھ چھوٹے پیمانے پر شروع ہونے والی اس کمپین کی کامیابی اور استحکام کے لیئے دن رات متحرک تھے ایک طرف شہریار جہانگیر اپنے چند ساتھیوں کے نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز کے ریموٹ سینسنگ ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ اپنے جی آئی ایس سسٹم کو اپ ڈیٹ کرنے میں جان لڑائے ہوئے تھا۔ تو دوسری طرف فاریہ ، ارحم اور دیگر اراکین کی زبردست سوشل میڈیا کپمین نے ایس ٹی ای کو بہت کم عرصے میں یوتھ کی ایک ہر دل عزیز تحریک میں ڈھالا تھا ۔
اِس کے لوگوز والے شرٹس،کیپس یہاں تک کے بیگز اور مگزتک مارکیٹ میں آ چکے تھے جنہیں نوجوان ہاتھوں ہاتھ خریدا کرتے تھےاور یہ سب رقم چیریٹی میں جاتی تھی جس کی ایک ایک پائی کا حساب فنانشیل ونگ کے پاس تھا اور وہ کسی بھی طرح کے آ ڈٹ کے لیے ہمہ وقت تیار تھے۔
آہستہ آ ہستہ پاک آ رمی سمیت کئی اور اداروں کی سپورٹ انہیں حاصل ہوتی جا رہی تھی ۔۔۔اپنی سچی لگن اور بلند عزائم کے ساتھ وہ سب ہی اپنے اپنے ونگ کو پوری طرح متحرک رکھنے کے ساتھ سٹڈیز کو بھی بھرپور ٹا ئم دے رہے تھے۔
**********
انہی دنوں لاہور میں ملیریا کی وباء پھوٹی جس کا زیادہ تر شکار بچے اور عمر رسیدہ فراد ہوئے۔
ارمان سمیسٹر امتحانات کی وجہ سے کئی ہفتوں سے ویکلی میٹنگ سے غائب تھا ۔ مگر منتہی ٰ نے رامین اور اور اس کے بیچ میٹ میڈیکل سٹوڈنٹس کے ساتھ مل کر ملیریا اٹیک ، حفاظتی تدابیر اور بچاؤ سے متعلق بھرپور آگاہی مہم چلائی ۔ جس سے مرض
کے پھیلاؤ کو روکنے میں کافی مدد ملی ۔
بد قسمتی سے پروفیسر ڈاکٹر یوسف بھی ملیریا کا شکار ہوگئے۔ وہ کئی روز سے ہاسپٹل میں ایڈ مٹ تھے ۔۔مگر منتہی ٰ ملیریا مہم اور ایم فل ایڈ میشن کے چکر میں کچھ ایسی پھنسی ہوئی تھی کہ فاریہ لوگوں کے ساتھ ہاسپٹل جانا ممکن نہیں ہوا ۔۔
سو وہ شام میں ابو کے ساتھ ہاسپٹل پہنچی ۔
سر کو پھول دے کر وہ پیچھے ہٹی ہی تھی کہ دروازہ کھلا اور ارمان اندر داخل ہوا ۔۔۔
ایک لمحے کو ٹھٹکا ۔۔ “آج کافی عرصے بعد اِس دشمنِ جاں کا دیدار نصیب ہوا تھا ۔۔”
“یہ میرا بیٹا ہے ارمان “۔۔ سر یوسف نے فاروق صاحب سے ارمان کا تعارف کروایا۔ تو انہوں نے اٹھ کر کافی گرمجوشی کے ساتھ ا س سے معانقہ کیا۔
“ماشااللہ آپ سے مل کر بہت خوشی ہوئی بیٹا، ارسہ اور رامین سے آپ کی بہت تعریفیں سنی تھیں ۔۔ خدا آپکو آپ کے مقصد میں کامیاب کرے “۔۔ آمین
“اس ڈائریکٹ تعریف پر ارمان تھوڑا خجل ہوا ۔ بس انکل جو بھی ہے سب آپ بزرگوں کی دعاؤں سے ہے “۔۔ اس نے جھک کر عاجزی سے جواب دیا ۔۔۔
اور مینا کا پارہ آسمان پر پہنچا ۔
“ابو بھی بس کمال کرتے ہیں کیا ضرورت تھی اِسکی اتنی تعریف کرنے کی “۔۔غصے سے اس کا چہرہ سرخ ہوا
ارمان نے اُسے کنکھیوں سے دیکھا ۔۔ پھر مسکرایا ۔۔ “وہ جیلس تھی”
“منتہیٰ آ پ کے ایم فل ایڈمیشن کا کیا ہوا ؟؟”۔سر یوسف نے پوچھا
“پاپا پلیز فی الحال آپ صرف آرام کریں اپنے دماغ کو پر سکون رکھیں” ۔۔ منتہی ٰ کے جواب دینے سے پہلے ہی ارمان باپ پر بگڑا
“ارے یار۔میں نے صرف پوچھا ہی تو ہے میں کون سا پڑھانے بیٹھ گیا ہوں ۔۔ تم تو مجھے ڈاکٹر لگنے لگے ہو ۔۔”
سر نے منہ بسورا تو ارمان مسکرایا ۔۔ “شکر کریں ابھی میں یہاں ہوں۔۔ ممی ہوتی تو آ پ کو لگ پتا جانا تھا ۔۔”
“وہ ہوتیں تو پھر کس کی زبان میں دم ہوتا ۔ ویسے خیر آنے ہی والی ہوں گی” ۔۔ ڈاکٹر یوسف نے گھڑی دیکھی۔
“یہ لڑکا مجھے بہت اچھا لگا ۔۔ ویری امپریسیو ۔ اِس کی آ نکھوں ا ور ماتھے کی چمک بتاتی ہے یہ کچھ غیر معمولی کر دکھا ئے گا “۔۔۔ ابو کی سوئی باہر پارکنگ آنے تک وہیں اَٹکی ہوئی تھی ۔۔۔
اور منتہیٰ کا پارہ بس اب پھٹنے کو تھا ۔۔ پہلے فاریہ، رامین اورارسہ ہی اِس کے گُن گاتی تھیں اب ابو بھی ۔۔
“میرا کنٹری بیوشن کسی کو کیوں نظر نہیں آتا۔۔ ہونہہ ۔۔”
ارمان کی تعریف اور منتہی ٰ کو ہضم ہو جائے نا ممکن ۔ “پتا نہیں وہ اُس سے اتنا کیوں چڑتی تھی ۔۔۔ ؟؟؟”

جاری ہے
**********

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں