The news is by your side.

Advertisement

آفاقی عشق کی لازوال داستاں – دوام

“فاریہ انعام سے میری پہلی ملاقات الحمراء آرٹس کونسل میں ہوئی تھی جو کچھ وجوہات کی بنا پر زیادہ خوشگوار نہیں تھی “۔اَرحم تنویر نے ایک شریر سی نظر منتہیٰ پر ڈالی ۔جو اُس کی طرف متوجہ نہیں تھی ۔
“پھر اِس کے ہم جب جب ملے ، جہاں جہاں ملے ‘ وہ ملاقاتیں یقیناٌ میری زندگی کی کتاب میں سنہری یادوں کی طرح ہمیشہ محفوظ رہیں گی ” پھر وہ ایک لمحے کو رکا ۔
“ویسے فاریہ”۔۔”یہ اتنے خوبصورت الفاظ میں صرف اپنی تقریر کو پُر اثر بنانے کے لیے استعمال کر رہا ہوں ۔۔ آپ اسے سچ مت سمجھ لینا “۔۔ سب کا مشترکہ قہقہہ گونجا ۔
“میری ساری دعائیں اس مظلوم بندے کے ساتھ ہیں جس کے پلے آپ بندھنے جا رہی ہیں ۔۔ اللہ تعالیٰ اُسے ہمت ، حوصلہ اور صبرِ جمیل عطا فرمائے “۔۔۔”آمین “۔۔ کسی مولانا کی طرح دعائیہ کلمات ادا کر کے ارحم اپنی سیٹ پر بیٹھ چکا تھا ۔
یہ فاریہ کے لیے ایس ای ٹی کی جانب سے دی جانے والی فیئر ویل تھی ۔ ارحم کے بعد ارمان اور دیگر ونگ کمانڈر ز نے فاریہ کو فُل ٹریبیوٹ دیا تھا ۔ اُن سب کی خواہش تھی کہ وہ شادی کے بعد بھی فاؤنڈیشن کا ایک سر گرم حصہ رہے۔


اسی ناول کی گزشتہ اقساط پڑھنے کے لیے کلک کریں


ریفریشمنٹ شروع ہوتے ہی حسبِ عادت منتہیٰ ہال سے باہر سیڑھیوں پر جا بیٹھی ‘ ارمان کوک کے دو کین لے کر اُس سےکچھ فاصلے پر آکر بیٹھا اور ایک کین اس کی طرف بڑھایا ۔
منتہیٰ کو اِس وقت واقعی طلب تھی ۔بنا پس و پیش کین لے کر کھولا اور دو تین لمبے لمبے گھونٹ لیے۔
ارمان نے ایک گہری ترچھی نظر اس پر ڈالی ۔۔ “تو اب آپ بھی ہارورڈ سدھارنے کو ہیں”۔۔؟؟
منتہیٰ نے ایک سِپ لے کر اثبات میں سر ہلایا ۔
“کب تک روانگی ہے “۔۔؟؟؟۔۔ارمان کا دل بجھا
“یہی کوئی ایک ڈیڑھ ماہ “۔۔
اسی وقت منتہیٰ کا سیل تھر تھرایا ۔۔ وہ سکرین دیکھ کر ایکسکیوز کرتی ہوئی اٹھی ۔
اور ارمان نے بہت پھرتی کے ساتھ اپنے کین سے اُس کا کین سے بدل لیا ۔ منتہیٰ کے کین سے سپ لیتے ہوئے اسے لگاتھا۔۔آج سے پہلے اتنا لذیذ کولڈرنک اس نے نہیں پیا ۔۔ وہ گھونٹ گھونٹ کر کےُ سرور اندر انڈیلتا گیا ۔
پانچ منٹ بعد آکر منتہیٰ نے اپنا کین اٹھایا ۔۔ بہت تیزی کے ساتھ تین چار لمبے سپ لے کر خالی کین ایک جانب اچھال دیا ۔
اور ارمان کے اندر چھناکے سے کچھ ٹوٹا ۔ ’’ منتہیٰ دستگیر کا ایک سو بیس آئی کیو ‘محبت کے ذائقے سے ہنوز نا آشنا تھا “۔

*************

وہ کہیں بہت بلند چوٹی پر کھڑی تھی کہ یکدم اُسکا پاؤں رِپٹا اور پھر ہزاروں فٹ کی بلندی سے گہری کھائی میں گرتی چلی گئی ۔ منتہیٰ نے گھبرا کر آنکھیں کھولیں اورسا ئڈ لیمپ آن کیا ۔ گزشتہ ایک سال میں یہ خواب وہ کئی دفعہ دیکھ چکی تھی۔
فجر کی اذان پر وہ چونک کر اٹھی ۔
نماز پڑھ کر منتہی ٰ کمرے سے باہر آئی تو افق پر پُو پھٹنے کو تھی ۔ امی کچن میں چائے بنا رہی تھیں اور دادی قرآن پاک کی تلاوت شروع کر چکی تھیں ۔وہ دادی کی جا نماز کے پاس دوزانوں بیٹھ کر سنتی گئی ۔
ٌ ’’کائنات میں ہر جگہ خدا کا قانونِ ربوبیت کارفرما ہے اور تمام ستا ئش صرف اُسی کی ذاتِ پاک کے لیے ہے ، اگر تم ذرا بھی غور و فکر سے کام لو ‘تو یہ حقیقت’ سمجھنے تمہیں زیادہ مشکل پیش نہیں آئے گی کہ زندگی صرف سانس کی آمد و شد کا نام نہیں ہے ، جب انسان کی زندگی کا مقصد محض جسم کی پرورش اور حفاظت رہ جائے تو اُس کے سامنے کسی بلند مقصد یا محکم اصول کی پابندی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔۔اگر سانس کے بند ہو جانے کے ساتھ ز ندگی کاخاتمہ ہو جاتا ۔۔ تو پھر انسان کے سامنے کوئی بلندمقصد ہی نہ رہے‘‘۔

*************

عاصمہ نے منتہیٰ کو آواز دی وہ چونک کر کچن کی طرف بڑھی ۔چائے لےکر پلٹنے لگی تھی جب عاصمہ نے اُسے ہاتھ پکڑ کراپنے سامنے چیئر پر بٹھایا ۔
مینا ‘ تم میری سب سے لائق اولاد ہو اِس لیے میں نے تمہیں کبھی کسی کام سے نہیں روکا لیکن اِس دفعہ پتا نہیں میرا دل کیوں ہول رہا ہے !۔ مینا میری جان مت جا ‘ میرے دل کو قرار نہیں ۔ عاصمہ کی آوازآنسوؤں سے بھیگی ہوئی تھی ۔
منتہیٰ نے چونک کر ماں کو دیکھا اور پھر دیکھتی ہی گئی ۔’’نجانے خدا نے ماؤں کو کیسی حسیات اور کتنی آنکھیں دی ہیں ۔ جو کچھ کہے بغیر بھی اولاد کے اندرکا حال ہی نہیں مستقبل میں آنے والے اِن خطرات کو بھی بھانپ لیتی ہیں جن سے اولاد گزرنے والی ہو ۔”
“ارے امی”۔۔ “اِرسہ بھی تو اتنا دور لندن چلی گئی ہے ۔۔ میں کون سا مستقل جا رہی ہوں ۔۔ بس سال دو سال ہی کی تو بات ہے “۔اُس نے ماں کے گلے میں بانہیں ڈال کر دلاسہ دیا پھر ان کی پیشانی چومی ۔۔ مگر عاصمہ اسے کیا بتاتیں کہ ان کے دل کو قرارکیوں نہیں تھا ۔۔؟؟؟۔
اور ایک عاصمہ ہی کیا ۔۔ ایئر پورٹ پر ہر کسی نے اُسے بھاری دل کے ساتھ رخصت کیا تھا ۔
رامین اور فاروق صا حب کی آنکھیں پر نم تھیں تو ڈاکٹر یوسف کی پیشانی پر گہرا تفکر تھا ۔ اِس کشیدہ سی صورتحال کوتوڑنے کے لیے ارحم تنویر آگے بڑھا ۔
“یہ ٹیڈی بیئر آپ کو یاد دلاتا رہے گا کہ پاکستان میں آپ کا ایک بھائی تھا جو آپ کے ہاتھوں قتل ہونے سے بچ گیا “۔۔اس نے منتہیٰ کی طرف ایک ریڈ چھوٹا ٹیڈی بیئر بڑھایا ۔ منتہیٰ نے بیئر تھام کر پرس سے سے ایک سلور پین نکال کر ارحم کوتھمایا ۔
“اور یہ پین آپ کو یاد دلاتا رہے گا کہ میں نے انشا ء اللہ واپس یہیں آنا ہے “۔ ارحم نے حسبِ عادت قہقہہ لگا کر شکریہ ادا کیا ۔
پھر شہریار نے منتہیٰ کی طرف ایک بُوکے بڑھا کر آہستہ سے کہا ۔”آئی ول مس یو “۔۔
“می ٹو”۔۔ ارمان کے دوستوں میں ایک شہریار ہی تھا جس سے منتہیٰ کی بنتی تھی ۔۔ کیو نکہ وہ اُسی کی طرح صلح جوتھا۔۔
“میم”۔۔کیا یہ ڈائیلاگ ارمان تک پہنچا نا ہے ۔۔؟؟ ارحم کب باز آنے والا تھا ۔۔
ارمان کی غیر موجودگی سب نے ہی محسوس کی تھی ۔۔جو اِن دنوں ڈاکٹر عبدالحق کے ساتھ جاپان کے ٹرپ پر تھا ۔۔
“جی نہیں” ۔۔ انتہائی خشکی سے جواب دیکر منتہیٰ پلٹی
“آپی تو اُن کے لیے بھی کچھ چھوڑتی جا ئیں نہ “۔۔ اب کہ رامین نے اُسے چھیڑا ۔
رامین کو ٹھینگا دکھاتی ہوئی منتہیٰ تیزی سے انٹرنیشنل ڈیپارچر لاؤنج کی طرف بڑ ھتی گئی ۔ اُس کا دل بہت بھاری اور آنکھیںپر نم تھیں ۔ “وہ ہارورڈ کی ڈریم لینڈ میں قدم رکھنے جا رہی تھی “۔

*************

اور سنا! کیا پروگریس ہے پراجیکٹ کی ۔۔ صہیب میر تفصیلات جاننے کے لیے اوور ایکسا ئیٹڈ تھا ۔
“زبردست یار “۔۔ “ریسپانس ہماری توقع سے بڑھ کر رہا “۔۔ ارمان کی آنکھوں میں جیسے قندیلیں سی روشن تھیں ، وہ ایک روزپہلے ہی جاپان سے واپس آیا تھا ۔
کچھ عرصے پہلے جاپان کی ایک کمپنی نے زلزلے کے لیے سٹیلائٹ سگنلز کے پراجیکٹ میں دلچسپی ظاہر کی تھی اور سپارکو کی معاونت سے ارمان اِس پراجیکٹ کا ایم او یو سائن کر کے آیا تھا ۔۔” دنیا بھر میں رات میں آنے والے زلزلے بہتزیادہ جانی نقصان کا
سبب بنتے ہیں کیونکہ گہری نیند میں ہو نے کے باعث لوگوں کی ایک بڑی تعداد سوتی رہ جاتی ہے “۔
ٹی وی انٹینا کی طرز پر بنایا گیا یہ سگنل سسٹم نیشنل یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسزکے ریموٹ سینسنگ ڈیپارٹمنٹ کے تعاون سے ایس ٹی ای کے جی آئی ایس ونگ نے تیار کیا تھا جسے ابتدائی طور پر چترال ، دیر بالاکوٹ اور اُن سے ملحقہ ان علاقوں میں لگایا جانا
تھا جہاں رات کے وقت زلزلے کے جھٹکے معمول تھے ۔
“یار ۔بلاآخر ہماری دن رات کی محنتیں رنگ لے ہی آئیں ۔۔آج ہمارے پاس سپارکو اور پاک آرمی کے علاوہ انٹرنیشنل سپورٹ بھی ہے” ۔۔۔ شہریار اپنے پراجیکٹ کی کامیابی پر پھولے نہیں سما رہا تھا ۔
“بالکل “۔۔ “پاک آرمی گزشتہ کئی سال سے ہماری ہر طرح کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے تھی ۔۔ ہماری نیت صاف تھی ۔۔ سونہ صرف ہمیں کلیئرنس ملی بلکہ انٹر نیشنل سپورٹ بھی “۔ صہیب نے سیو دی ارتھ کو بھرپور ٹری بیوٹ دیا ۔
“یہ تیرا کیوں منہ لٹکا ہوا ہے “۔۔؟؟۔۔ ارمان نے اَرحم کو چپ چپ دیکھ کر پوچھا
“یار۔۔۔ آئی ایم مسنگ مائی آئرن لیڈی”۔۔۔ اَرحم نے منہ بسورا
“اگر تیرا کڑوی کسیلی باتیں اور ڈانٹ کھانے کو دل کر رہا ہے ۔۔ تو انہیں فون کر کے بلا لے پیارے “۔۔ عاصم نے منہ بنایا
“لو وہ تو کب کی ہارورڈ چلی بھی گئیں ۔ تمہیں نہیں پتا ۔۔لاسٹ ٹائم آئی تھیں ملنے “۔۔ شہریار نے عاصم کو مطلع کیا ۔
“اچھا منتہیٰ کب آئی تھیں “۔۔؟؟؟۔۔ ارمان چونکا
“جانے سے کچھ دن پہلے آئی تھیں ۔۔ اور خلافِ مزاج ۔۔لوہے کے چنوں کی جگہ پاپ کارن چبا رہی تھیں “۔۔ اَرحم نے دانت نکالے۔
ارمان نے ہنستے ہوئے چیئر کی پشت سے ٹیک لگاکر آنکھیں موندیں۔وہ دشمنِ جاں اتنی دور چلی گئی ۔۔ اور وہ مل بھی نہیں سکا۔۔
“ویسے میں اور ارحم ائیر پورٹ سی آف کرنے گئے تھے انہیں “۔۔ شہریار نے اُسے آگاہ کیا
“مجھے ایک پین گفٹ ملا اور شہری کو ۔۔ مِس یُو ٹو ۔۔۔ لیکن تیرے لیے وہ صرف یہ ۔۔چھوڑ کے گئی ہیں “۔۔ ارحم نے شرارت سے ارمان کے سامنے ٹھینگا نچایا۔
“مجھے انہوں نے بہت جلد اپنا سب کچھ سونپنا ہے تو زیادہ فکر مت کر “۔ ارمان نے اسے ایک زوردار دھپ لگائی ۔پھر کچھ سوچتا ہوا اپنا سیل اٹھاتا باہر آیا۔ اور منتہی ٰ کا نمبر ڈائل کیا جو انٹرنیشنل رومنگ پر تھا۔
بیل جاتی رہی۔۔وہ منتہیٰ کی عادتوں سے واقف تھا ۔۔ مگر عین ممکن تھا کہ نئی جگہ پر وہ واقعی اس وقت مصروف ہو ۔۔ سو کال کاٹ کراس نے رامین کا نمبر ملایا تاکہ منتہیٰ کی ٹائمنگ معلوم کر سکے۔
اگلے روز رات کو منتہیٰ بستر میں گھسی گہری سوچوں میں غرق تھی۔
“پابندیاں انسان کو کبھی کبھی بوجھ کیوں لگنے لگتی ہیں “۔؟؟؟ اس نے انتہائی کوفت سے چھت کو گھورا۔۔ ڈورم لا ئٹس رات ٹھیک ٹائم پر آف ہو جایا کرتی تھیں ۔ جبکہ وہ لیٹ نائٹ سٹڈی کی عادت تھی ۔
ہارورڈ میں سٹوڈنٹس کے ڈورمز یارڈ کہلاتے ہیں ۔۔جو ایک وسیع ایریا پر پہلی ہوئی مختلف بلڈنگز ہیں جن میں سے کچھ سترویں صدی کی ہیں ۔۔آئی وی یارڈ میں کینڈی بلڈنگ میں دو سو پچیس سٹوڈنٹس کی رہائش کی گنجائش ہے جبکہ منتہیٰ کو رہائش “ہولس یارڈ”
میں ملی تھی جو ہارورڈ کا سینٹر کہلاتا ہے ۔ سائنس سینٹر ہی نہیں ‘ رابنسن اور اَمرسن لیکچر ہالز یہاں سے چند منٹوں کے فاصلے پر تھے ۔یارڈ میں چار چار سٹوڈنٹس کا مشترکہ بیڈ روم اور باتھ روم تھا ۔۔ منتہیٰ کے ساتھ لوزیانا کی میری‘ ہوائی کی باربرا ‘ او ر
الاسکا کی کیلی رہائش پزیر تھیں ۔
منتہیٰ کی ٹو دی پوائنٹ بولنے اور اپنے کام سے کام رکھنے کی عادت یہاں بھی بر قرار تھی ۔ دیگر فارن سٹوڈنٹس کی طرح اس نے نہ تو پورا ہارورڈ گھومنے کی زحمت کی تھی نہ ہی ۔۔یا “سینڈرز تھیٹر “یا “جان ہارورڈ سٹیٹیو “میں اپنی سیلفیز بنا کر فیس بک یا انسٹا گرام پر اَپ لوڈ کی تھیں ۔ اس کی واحد تفریح ہارورڈ سکوائر سے کچھ فاصلے پر واقع دنیا کی وہ ٹاپ ٹین لائبریریتھیں جہاں وہ کچھ کھائے پیے بغیر بھی پورا دن گزار سکتی تھی ۔ اِن میں کیمبرج پبلک لائبریری اپنے وسیع رقبے اور قدیم تاریخ کے باعث اُس کے لیے سب سے زیادہُ پر کشش تھی ۔
کمبل منہ تک لپیٹے منتہیٰ جانے کن سوچوں میں گم تھی جب موبائل تھر تھرایا ۔۔۔ “ارمان کالنگ “۔۔
اُس نے کال ریسیو کر کے بہت آہستہ سے ’ہیلو‘کی مبادہ اس کی کوئی ڈورم میٹ جاگ نا جائے ۔”تینوں میں سے کوئی بھی اسے ایک آنکھ نہیں بھائی تھیں”۔
“ہیلو منتہیٰ کیسی ہیں آپ “۔۔؟؟
“ٹھیک ہوں “۔۔ ہمیشہ کی طرح مختصر جواب آیا
“سوری میں لاسٹ ٹائم آپ سے مل نہیں سکا ۔۔ شہریار نے بتایا آپ ملنے آئی تھیں” ۔۔۔
“میں صرف آپ سے ملنے نہیں گئی تھی “۔۔۔
“جی۔۔ آئی نو ڈیٹ “۔۔۔ ارمان ہنسا
“یو نوواٹ کہ ایس ٹی ای کو بہت بڑی ریسیپشن ملی ہے ۔۔جاپان میں سائن کیے گئے ایم او یو کی تفصیلات بتاتے ہوئے ارمان کی آنکھوں میں دیئے سے روشن تھے”۔ مگردوسری طرف خاموشی رہی ۔۔
“آپ کو خوشی نہیں ہوئی”۔۔؟؟
ہوئی!!۔
“لگ تو نہیں رہا “۔۔ ارمان کو مایوسی ہوئی
“خوش کیسے ہوا جاتا ہے “۔۔؟؟ سوال آیا
“خوش “۔۔ ارمان ایک لمحے کو روکا ۔۔”خوش ہوا جاتا ہے اچھی اچھی باتیں کر کے ۔۔ مستقبل کی سہانے سپنے دیکھ کے “۔۔۔
اُس کی آواز میں کچھ تھا ۔۔ منتہیٰ جل ہی تو گئی ۔۔
“بائی دی وے” ۔۔”یہ خیالی پلاؤ پکانا کہلاتا ہے “۔۔۔
“تو کیا حرج ہے کبھی کبھی خیالی پلاؤ پکانے میں “۔۔۔ ارمان ہنسا
“تو آپ پکائیے میں نے آپ کو کب روکا ہے “۔۔ جواب حاضر تھا
“منتہیٰ”۔۔” کیا ہم کچھ دیر اچھے دوستوں کی طرح بات نہیں کر سکتے “۔۔ ؟؟ ۔۔ اب کہ ارمان کے لہجے میں سختی تھی
“جی کہیے “۔۔۔ خلافِ توقع مثبت جواب آیا
“ہم”۔۔ دوسری طرف ارمان نے گہری سانس لیکرسے چیئر کی پشت سے سر ٹکایا ۔۔۔ “کیسی لگی آپ کو یونیورسٹی ۔۔ڈورم میٹس کیسی ہیں”۔۔؟
“ہارورڈ اِز اے ونڈر لینڈ” ۔۔” ڈورم میٹس بس گزارا ہیں “۔۔۔ منتہیٰ نے منہ بنا کر سوتی ہوئی تینوں بلاؤں کو دیکھا
ارمان ہنسا ۔۔۔ “وہ جانتا تھا ۔۔ منتہیٰ کو نئے لوگوں کے ساتھ گھلنے ملنے میں وقت لگتا ہے “۔۔۔
“اچھا سب کو کتنا مِس کرتی ہیں آپ”۔۔۔؟؟
“جتنا کرنا چاہئے “۔۔۔ ٹو دی پوائنٹ جواب حاضر تھا ۔
“ہمم۔۔۔ شکریہ” ۔۔
“آئی مِس یُو ٹو “۔۔ شرارت سے کہہ کر ارمان کال کاٹ چکا تھا ۔۔
منتہیٰ نے غصے سے سکرین کو گھورا ۔۔”خوش فہمی ۔۔ ہو نہہ

جاری ہے
*************

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں