site
stats
دوام

آفاقی عشق کی لازوال داستاں – دوام

DAWAAM

تیسرا باب

( ایثا ر و وفا )

محبت میں جو قربانی دی جاتی ہے۔۔
اُ س کے لیے کچھ کھونا تو پڑتا ہے ۔
لیکن اُس کا ما حصل ۔۔
ایک دائمی محبت ہے
یہ احساس کے اوروں کے لئے جیا جائے۔۔
محبت اور ایثار کے ساتھ
دوسروں کے دلوں میں گھر کیا جائے۔۔
یہ کسی دوسری روح تک رسائی کے لیے
خدا کا ودیعت کردہ ایک موقع ہوتا ہے ۔۔
ایک ایسی محبت ۔۔ جو زندگی کے ہر خلا کو پُر کرتی ہے۔۔
ہم سب کی زندگیاں ۔۔
ایک بہت بڑے دائرے کا حصہ ہیں
جس کی ہر کڑی ۔۔ ایثار سے جڑی ہوئی ہے
یہ احساس انسانی ذات میں تغیر لاتا ہے
کہ اپنی ذات کے دائرے سے نکل کر
وفا اور ایثار کے ساتھ
لوگوں سے ربط بڑھایا جائے
اور اِسی سے ۔۔
زندگی کا یہ لا محدود دائرہ مکمل ہوتا ہے۔۔


اسی ناول کی گزشتہ اقساط پڑھنے کے لیے کلک کریں


“ناسا دنیا بھر میں خلا ئی سرگرمیوں سے متعلق مستند ادارہ سمجھا جاتا ہے ۔ ایک وقت تھا جب امریکہ اور روس میں زبردست سپیس وار جاری تھی ۔۔ لیکن سرد جنگ کے اختتام کے بعد بہت سی دوسری جنگیں بھی ہمیشہ کے لیئے ٹھنڈی پڑ گئیں ۔
گزشتہ دو دہائیوں سے خلا میں انسانی سرگرمیاں بڑھ جانے کی ایک بڑی وجہ زمین سے کم فاصلے والے مدار میں انٹرنیشنل سپیس سٹیشن کا قیام ہے ۔
جو امریکہ اور روس دونوں کا مشترکہ منصوبہ تھا ۔۔ ناسا کی کوشش ہےکہ وہ ۲۰۲۰ تک اس سٹیشن
تک کمرشل فلائٹس کا آغاز کر سکے ۔ جس کے لیے وقتاٌ فوقتاٌ مختلف مشن تشکیل دیئے جاتے رہتےہیں ۔ ایک ایسے ہی مشن کے لیے ایم آئی ٹی کے ایسٹرو فزکس ڈیپارٹمنٹ نے منتہیٰ دستگیر کو ،اس کی غیر معمولی ذہانت اور انتہائی مضبوط قوتِ اارادی
دیکھ کر نامزد کیا تھا ۔ اِس مشن کے لیے دنیا کے مختلف خطوں سے تعلق رکھنے والے تقریباٌ تیس کے قریب مرد اور خواتین کا انتخاب کیا گیا تھا جنھیں نا سا کے فٹنس اور دیگر ٹیسٹس پاس کر کے چھ ماہ کی انتہائی پیچیدہ ٹریننگ مراحل سےگزر کر مشن کے
لیے کلیئرنس حاصل کرنا تھی”۔
“اور منتہیٰ دستگیر اِس وقت ایک دوراہے پر کھڑی تھی ۔۔ ایک طرف بین الاقوامی اعزاز تھا اور خواب تھے، تو دوسری طرف اپنی پیاری دھرتی اور مفلوک الحال عوام کی تقدیر بدلنے کے اُس کے پختہ عزائم ۔۔ جس کے لیے وہ بہت آگے تک جا چکی تھی
لیکن اِن سب سے بڑھ کر اہم ارمان تھا ۔ وہ یقیناًاپنے منصوبوں کو کچھ عرصے کے لیے ملتوی کر سکتی تھی ۔ پسِ منظر میں رہ کر سیو دی ارتھ کے ذریعے اُن کو جاری رکھ سکتی تھی۔
” لیکن ارمان ۔ اُسے اب اور کتنا انتظار کرنا ہوگا “۔۔؟؟ اِس سوال کا جواب اُس کے پاس نہیں تھا ۔
ذہن میں اٹھتے ہر سوال اور خدشے کو جھٹک کر ہارورڈ میں فائنل ڈیفی اینس سے پہلے منتہیٰ ناسا کے ایسٹراناٹ فٹنس اینڈ کلیئرنس ٹیسٹ دے آئی تھی ۔
“پاکستان کی پہلی خاتون خلا باز۔ یہ ایک بہت بڑا اعزاز تھا ۔ اور اِس سنگِ میل کو بھی اس نے اب ہر حال میں عبور کرنا تھا ‘‘۔
لیکن ابھی تک اِس کی خبر کسی کو بھی نہیں تھی۔بے انتہا ذہین یہ لڑکی جو زندگی کے ہر میدان میں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑ چکی تھی ۔رشتوں اور محبتوں کے معاملے میں ہنوز کوری تھی ۔

*********************

ارمان ییل یونیورسٹی میں اپنی شدیدمصروفیات کے با وجو د اُس کی سرگرمیوں سے بے خبر نہیں تھا ۔۔
منتہیٰ ہاسٹن سے فٹنس ٹیسٹ دے کر واپس میسا چوسٹس لوٹی ہی تھی ۔۔ کہ ارمان کی کال آئی ۔
“ہیلو”۔۔”آگئیں آپ واپس “۔۔؟؟ ارمان کا لہجہ اجنبی اور برفیلا تھا
“جی” ۔۔ اُس نے بمشکل تھوک نگلا ۔۔ اب جو بھی تھا۔۔۔ فیس تو کرنا تھا۔۔
“پھر کب تک آرہا ہے ایسٹراناٹ ٹیسٹ کا رزلٹ “۔۔۔؟؟؟
“جب آپ کو سب پتا ہے تو یہ بھی پتا ہوگا “۔۔ منتہیٰ نے ناک سے مکھی اڑائی
ارمان کو شاک ہوا ۔۔ “منتہیٰ ضدی تو تھی۔۔ لیکن وہ ہٹ دھرم کبھی بھی نہیں تھی” ۔۔
“ہم سب سے اپنی اِن سرگرمیوں کو خفیہ رکھنے کی وجہ بتانا پسند کریں گی آپ “۔۔؟؟۔۔ اب کہ ارمان کا لہجہ مزید سرد ہوا
“ارمان”۔۔ “سپیس ٹریول میرا خواب ہے نہ “۔۔
“تو ۔۔ہم میں سے کوئی بھی آپ کے خوابوں کی راہ میں رکاوٹ بننے کا ارادہ نہیں رکھتا “۔۔
“آپ کی ممی کو شادی کی جلدی ہے” ۔۔ منتہیٰ نے اُسے جتایا
“وہ آپ کی اپنی امی کو بھی ہے “۔۔
“میں اپنی امی کو سنبھال سکتی ہوں “۔۔
“میں بھی اپنی ممی کو سمجھا سکتا ہوں” ۔۔
“آپ۔۔ اُن کی اکلوتی اولاد ہیں ۔۔ ان کو ۔۔ ان کو مزید انتظار مت کروائیں “۔۔ منتہیٰ دل کڑا کر کے اصل موضوع پر آئی۔۔
“کیا مطلب” ۔۔؟؟۔۔ ارمان چونک کر سیدھا ہوا
“آپ ۔۔ آپ کسی اور سے شادی کر لیں ۔۔ میرا انتظار مت کریں “۔۔۔
اور دوسری طرف ارمان کو لگا تھا کہ کسی نے اُس کی سماعت پر بم پھوڑا ہو ۔۔ سائیں سائیں کرتے کانوں نے ساتھ اس نے انتہائی بے یقینی سے سیل کی سکرین کو دیکھا ۔
“منتہیٰ “۔۔ “کیا کہا ہے آپ نے ابھی”۔۔؟ اس نے تصدیق چاہی
“وہی جو آپ نے سنا ہے ۔مجھے نہیں معلوم کہ کتنا عرصہ مجھے ناسا کے مشن پر لگ جائے ۔۔ آپ آنٹی ،انکل کو مزید انتظارمت کروائیں ۔۔ شادی کر لیں “۔۔ اُس نے رسان سے کہا ۔۔ لیکن دوسری طرف ارمان کا پارہ چڑھ چکا تھا
صاف بات کیجئے’’ منتہیٰ بی بی ‘‘کہ ناسا تک پہنچ کر ارمان یوسف آپ کو خود سے بہت چھوٹا لگنے لگا ہے ۔۔ “بہت مل جائیں گےاب آپ کو اپنے لیول کے “۔۔۔ وہ نہ جانے کیوں اتنا بد گمان ہو ا تھا ۔
“جسٹ شٹ اَپ ارمان “۔۔۔ “میں نے ایسا کچھ نہ سوچا ہے ۔۔ نہ کہا ہے “۔۔ منتہیٰ کو طیش آیا
“یو ٹو شٹ اَپ “۔۔۔ جواباٌ وہ بہت زور سے گرجا تھا ۔۔ منتہیٰ سہم سی گئی ۔۔
ارمان کا یہ روپ اس کے لیے بالکل نیا تھا ۔۔ “وہ بہت ٹھنڈے مزاج کا ایک شائستہ لڑکا تھا “۔۔
“مس منتہیٰ “۔۔ “ہمارا یہ رشتہ ہمارے بڑوں نے طے کیا تھا ۔ آپ کو کس نے حق دیا ہے کہ آپ اپنے طور پر اتنے بڑے فیصلے کرنے لگ جائیں۔۔۔؟؟ کیا آپ دنیا کو اور پاکستان میں آپ کی کامیابیوں کے لئے ہمہ وقت دعا گو والدین کو یہ بتانا چاہتی ہیں کہ
ناسا تک پہنچ کر آپ بہت خود مختار ہو گئی ہیں ۔۔ اپنے فیصلے خود کر سکتی ہیں “۔۔۔؟؟ وہ گرجا
“ارمان میں نے ایسا کچھ نہیں کہا ہے اور فیصلہ یقیناًہمارے بڑے ہی کریں گے ۔۔ میں نے آپ سے صرف اتنا کہا ہے کہ آپ کی ممی شادی میں جلدی چاہتی ہیں ۔۔ آپ ان کی بات مان کر کسی اور سے شادی کر لیں ۔ میں آپ سب کو انتظار میں نہیں ڈالنا
چاہتی ۔۔ جب میرے پاس بتانے کو کوئی مدت بھی نہیں ۔۔ خلافِ مزاج بہت کول رہ کر منتہیٰ نے رسانیت سے اسے سمجھانےکی ایک اورسعی کی “۔
لیکن دوسری طرف ارمان اس کی بات پوری ہونے سے پہلی ہی کال کاٹ چکا تھا ۔۔۔ منتہیٰ نے پیشانی مسلتے ہوئے کئی دفعہ کال بیک کی ۔۔ پھر مسلسل تین روز تک وہ اسے کال کرتی رہی ۔۔۔ لیکن ارمان کا نمبر بند تھا ۔۔
“وہ شاید ہمیشہ کے لیے روٹھ گیا تھا “۔۔ بہت دکھ سے منتہیٰ نے اپنی انگلی میں پہنی رِنگ اتاری ۔”چھ سال کا ساتھ تھا ان کا ۔۔ شریک ِزندگی نہ سہی وہ دوست تو رہ سکتے تھے مگر”۔ ۔وہ کیا چاہ رہا تھا۔۔” منتہیٰ سمجھنے سے قاصر تھی اور رابطے کے سارے دَراب بند ہو چکے تھے “۔

*********************

ارمان یوسف کے لیے وہ رات زندگی کی کٹھن ترین راتوں میں سے ایک تھی ۔۔۔ منتہیٰ سے بات اَدھوری چھوڑ کر اُس نےاپنا سیل بہت زور سے دیوار پر کھینچ مارا تھا ۔
“کوئی اذیت سی اذیت تھی ۔۔۔ وہ لڑکی جو اسے اپنی جان سے زیادہ عزیز تھی ‘یوں ریجیکٹ کر دے گی “۔۔؟؟ ۔۔”صرف اپنےمستقبل ۔۔اپنے خوابوں کے لیے ۔۔ اُس کی زندگی میں میرا کوئی حصہ کبھی تھابھی یا نہیں “۔۔۔؟
“وہ اُن مردوں میں سے ہر گز نہیں تھا جو عورت کی صلاحیتوں کو اپنی اَنا کا مسئلہ بنا کر انہیں آگے بڑھنے سے روک دیتے ہیں ۔۔وہ ناسا جوائن کرنا چاہتی ہے۔۔ ضرور کرے ۔ انٹرنیشنل سپیس سٹیشن کا کوئی مشن شروع کرنا چاہتی ہے۔۔ ’’بصد شوق‘‘۔۔
وہ ایک دفعہ مجھ سے بات تو کرتی ۔ لیکن اُس نے صرف فیصلہ سنایا تھا ۔۔۔ وہ ہمیشہ ایسے ہی کرتی ہے “۔۔
“شایدِ اس لیے کہ اُس کے مستقبل میں ۔۔میری حیثیت صرف ایک آپشن کی سی تھی “۔۔۔ ارمان دکھ سے سوچتا گیا ۔۔
“تین سال کے رشتے کو اُس نے تین منٹ میں ختم کر دیا ۔۔ کیا اُس کے دل میں میرے لیے آج تک کوئی جگہ نہیں بن سکی “۔۔؟؟
“وہ زندگی میں آج تک کبھی نہیں رویا تھا ۔ پر اُس رات ۔۔۔ وہ رات اس پر بہت بھاری گزری تھی ۔۔
“ییل یونیورسٹی سے کچھ فاصلے پر نیم منجمد ’پیل لیک‘کے کنارے شدید ٹھنڈ میں ارمان ساری رات گھٹنوں میں سر دیئے روتا رہا تھا “۔۔
“دنیا کہتی ہے کہ مرد رویا نہیں کرتے ۔لیکن ہر مرد اپنی زندگی میں ایک دفعہ اذیت کی انتہا پر پہنچ کر ضرور روتا ہے ۔نا جانے کیوں آنسوؤں کا رشتہ صرف عورت ذات سے جوڑ دیا گیا ہے ۔۔ ورنہ مرد جذبوں سے نا آشنا تو نہیں ہوتے “۔۔۔
اجنبی شہر کے اجنبی راستے ، میری تنہائی ہر مسکراتے رہے۔۔
میں بہت دیر تک یونہی چلتا رہا تم بہت دیر تک یاد آتے رہے
“سچا مرد زندگی میں صرف ایک دفعہ محبت کرتا ہے ۔۔۔ میں نے بھی وہ محبت صرف تم سے کی تھی منتہیٰ ۔۔ میرے دل کے سارے تار آخری سانس تک صرف تمہارے نام سے جڑے ہیں ۔۔یہ نام ہے تو ساز بجیں گے ۔۔ ورنہ آج کے بعد سارے
مدھرُ سر تال ۔۔ ساری کیف آفریں دھنیں۔۔ ہمیشہ کے لیے گونگی ہو جائیں گی۔۔ تم نہیں تو پھر کوئی بھی نہیں”۔۔
وہ جھیل کے ٹھنڈے پانیوں کو ۔۔ اپنے سارے رت جگوں ۔۔اپنے سارے آنسوؤں کا گواہ بنا کر علی الصبح لوٹ آیا تھا ۔۔
زہر ملتا رہا ۔زہر پیتے رہے ، روز مرتے رہے روز جیتے رہے
زندگی بھی ہمیں آزماتی رہی اور ہم بھی اِسے آزماتے رہے۔۔
کئی روز تک وہ خود کو یونیورسٹی سے ڈورم تک گھسیٹتا رہا ۔۔ سیل اُس رات سے دیوار تلے ٹوٹا پڑا تھا ۔۔ مگر ہوش کس کو تھا ۔۔؟۔۔کوئی اس کا نام لے کر بھی پکارتا ، تو وہ یوں خالی نظروں سے اُسے دیکھتا ۔۔ جسے ارمان نام کے کسی بندے کو وہ جانتا ہی نہیں ۔۔
شام ڈھلے ۔۔وہ شدید ٹھنڈ میں ایک شرٹ میں باہر نکل جاتا ۔۔۔اور ساری رات کبھی جھیل کنارے ۔۔ کبھی کسی پارک میں ۔۔توکبھی مرغابیوں کے جھنڈ میں بیٹھ کر کاٹ آتا ۔
کل کچھ ایسا ہوا میں بہت تھک گیا ۔۔اِس لیے سن کہ بھی اَن سنی کر گیا۔
کتنی یادوں کے بھٹکے ہوئے کارواں ، دل کے زخموں کے در کھٹکھٹاتے رہے
لیکن زندگی ابھی ختم نہیں ہو ئی تھی ۔۔ اُسے خود کو سنبھالنا تھا ۔ ییل یونیورسٹی میں اُس نے اپنی فاؤنڈیشن کے لیے انتہائی اہمسپانسرزحاصل کیے تھے ۔۔وہ اُن کم نصیبوں میں سے ہر گز نہیں تھا جن کی زندگی چند لوگوں ، کچھ خواہشات اور روزمرہ کے
معمول کا محور ہوتی ہے ۔۔ اُسے اب اپنے ویران دل اور اجڑے ارمانوں کے ساتھ اوروں کے لیے جینا تھا ۔
زخم جب بھی کوئی ذہن و دل پر لگا ، زندگی کی طرف اِک دریچہ کھلا۔۔
ہم بھی گویا کسی ساز کے تار تھے، چوٹ کھاتے رہے گنگناتے رہے
اجنبی شہر کے اجنبی راستے میری تنہائی پر مسکراتے رہے۔۔
میں بہت دیر تک یونہی چلتا رہا تم بہت دیر تک یاد آتے رہے

*********************

You rocked Meena….!
نینسی سمیت منتہیٰ کے سب ہی کلاس فیلوز نے ناسا کے فٹنس ٹیسٹ پاس کرنے اور مشن کے لیے منتخب ہو جانے پر اُسے بھرپور ٹری بیوٹ دیا تھا ۔ فائنل ڈیفی اینس اور تھیسز سے فارغ ہوکر وہ سب اپنے اپنے ٹھکانوں پر لوٹنے کو تھے ۔
جبکہ نینسی کا ارادہ ایم آئی ٹی جوائن کرنے کا تھا ۔۔
منتہیٰ کا ستا ہوا چہرہ اور آنکھوں کی بجھی جوت کو نینسی کئی دن سے نوٹ کر رہی تھی ۔
Is everything okay Meena..??
منتہی ٰنے جذبات چھپاتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا ۔
مگر نینسی اتنے عرصے میں اس کی رگ رگ سے واقف ہو چکی تھی ۔”کہیں نہ کہیں گڑ بڑ ضرور تھی “۔۔۔
“کیا تمہاری ارمان سے لڑائی ہوئی ہے”۔۔۔؟؟ نینسی نے اندھیرے میں تیر چھوڑا
وہ جان ہارورڈ سٹیٹیو کے پاس ایک نسبتاٌ پر سکون گوشے میں بیٹھی تھیں ۔۔۔اور ارد گرد بہت چمکیلی دھوپ پھیلی ہوئی تھی۔۔
منتہیٰ نے کچھ سوچتے ہوئے مختصراٌ اسے ارمان سے اپنی جھڑپ کے بارے میں بتایا ۔۔۔
Oh no silly girl .. Why did you do that??
مینا تم نے کبھی ارمان کی آنکھوں پر غور کیا ہے ۔۔ اُس میں تمہارے لیے سچی اور بے لوث محبت صاف جھلکتی ہے ۔۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ کسی اور سے شادی کر لے “۔۔۔؟؟
مجھے یقین ہے وہ تمہارا انتظار کرے گا ۔۔ اور بہت جلد تم دونوں کا دوبارہ ملاپ ہو جائیگا ۔۔ میرا دل کہتا ہے تم دونوں ایک دوسرےکے لیے بنائے گئے ہو” ۔۔
منتہیٰ نے بہت غور سے نینسی کو دیکھا ۔۔’’ وہ بولتی ،ہمہ وقت بہت کچھ کہتی نگاہیں ‘‘۔۔جنھیں تین، چار سال میں بھی وہ نہیں پڑھ سکی تھی ،انہیں نینسی نے ارمان سے صرف ایک مختصر ملاقات میں پڑھ لیا تھا۔۔’’ لیکن اب پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی
گزر چکا تھا ۔۔ اور وہ ٹائم مشین اب تک ایجاد نہیں ہوئی تھی جو بیتے وقت کو انسان کے لیے واپس لا سکے ۔‘‘
منتہیٰ نے بہت سے آنسو اندر اتار ے ۔۔اور بیگ کھول کر لکڑی کا ایک نفیس نقش و نگار والا باکس نینسی کی طرف بڑھایا ۔۔
کیا تم میری ایک امانت اپنے پاس رکھ سکتی ہو ۔۔۔؟؟
Yeah.. Why not … but what’s here inside..??
نینسی نے با کس کو تھام کر جانچنے کے انداز میں پکڑا کہ اُس کے اندر کیا ہے ۔۔؟؟
اس میں کچھ گفٹس ہیں جو ارمان مجھے دیتا رہا ۔۔ کیا تم یہ اسے لوٹا دو گی ۔۔؟؟
Don’t do that Meena .. Everything will be soon fine… Just wait and have
faith my dear.
نینسی نے اُسے سمجھانے کی آخری کوشش کی ۔۔۔
“آل رائٹ”۔ ۔”لیکن یہ تمہارے پاس میری امانت ہے ۔۔ اگر ناسا ٹریننگ کے دوران مجھے کچھ ہو جائے ۔۔ تو یہ ارمان کو واپس کر دینا ۔۔ ورنہ پھر میں واپس آکر تم سے لے جاؤں گی ۔۔۔ یُو نو ۔میں ہاسٹن یہ ساتھ نہیں لے جا سکتی “۔۔۔
Sure why not Darling …
نینسی نے اس کے گلے میں بانہیں ڈال کر گال چومے ۔۔۔ اور منتہیٰ اِس بلائے نا گہانی پر پہلے ششدرہ ہوئی ۔۔۔ پھر سرخ چہرے کے ساتھ نینسی کو زور سے دکھا دیا ۔
Oh no… You are so shy girl. ..
“نینسی بہت دیر تک گود میں باکس رکھے لوٹ پوٹ ہوتی رہی تھی “۔۔

*********************

“انسان جب کبھی اپنے ذات سے منسلک پیارے رشتوں کو نظر انداز کر کے صرف اپنے بارے میں سوچتا ہے تو جلد یا بدیر ۔۔نتائج اس کی توقع کے برخلاف ہی آتے ہیں ۔۔ بہت دنوں سے کسی کچھوے کی طرح اپنے خول میں بند وہ جس صورتحال سے
بچنے کی کوشش کر رہی تھی اب اُس کا سامنا کرنے کا وقت آپہنچا تھا “۔
رات اس نے گھر کال کی تو خلافِ توقع ابو نے فون اٹھایا ۔۔ “ابو مجھے آپ کو ایک بہت بڑی خوش خبری سنانی ہے”۔۔۔ شدتِ جذبات سے اس کی آواز بوجھل تھی ۔
“جانتا ہوں “۔۔ ابو کی آوازبہت سرد تھی ۔
’’اگر تم یہ سمجھتی ہو کہ تمہیں اتنی دور اکیلا بھیج کر میں رو ز سکون سے سو جاتا ہو ں تو یہ تمہاری بھول ہے۔۔ گزشتہ دو سال سےتمہارے باپ کو اُسی وقت نیند آتی ہے جب اُسے اپنے ذرائع سے تمہاری خیریت کی اطلاع ملتی ہے۔۔ تم بتاؤ یا نہیں لیکن
تمہاری ہر سرگرمی میرے علم میں ہوتی ہے ‘‘۔۔ ان کا لہجہ بدستور برفیلا تھا
“ابو آپ۔۔آپ مجھ سے ناراض نہ ہوں میں نے سوچا تھا میں سب کو سرپرائز دوں گی “۔۔۔ منتہیٰ نے بمشکل تھوک نگلا
“ہاں بہت اچھا لگا تمہارا سرپرائز ۔۔ ماشاء اللہ اب تم خود مختار ہو اپنے فیصلے خود کر سکتی ہو” ۔۔
“ابو پلیز ۔۔ایسی کوئی بات نہیں ہے ۔۔ آپ کو پتا ہے نہ سپیس ٹریول میرا خواب تھا ۔۔ اور یہ پاکستان کے لیے بھی بہت بڑا اعزازہوگا “۔۔ہمیشہ لاڈ اٹھانے والا باپ آج پہلی دفعہ اُس سے خفا ہوا تھا ۔
مگردوسری طرف بہت دیر خاموشی رہی تھی ۔۔۔ فاروق کو منتہیٰ دنیا میں سب سے زیادہ عزیز تھی ۔۔ جس نے کامیابیوں کی چوٹی پر پہنچ کر بھی ہمیشہ ان کا مان رکھا تھا ۔وہ اس کی ہر خطا کسی ایکسکیوز کے بغیر بھی معاف کر سکتے تھے ۔۔ لیکن یہ نا فرمانی بڑھ نہ جائے
سوانہوں نے اپنا لہجہ سخت رکھا تھا ۔
“منتہیٰ تم جانتی ہو کہ ماں باپ اپنی ہونہار اولاد پر اُسی وقت خفا ہوتے ہیں ۔۔ جب اُس کے کسی روئیے سے انہیں دکھ پہنچا ہو مجھے کبھی تم پر پابندیاں عائد کرنے کی ضرورت نہیں پڑی کیونکہ میری بیٹی نے کبھی میرا سر جھکنے نہیں دیا “۔۔ لیکن ۔۔آج ۔۔۔
’’آج یہ مان پہلی دفعہ ٹوٹا ہے ۔۔ اور میں امید کرتا ہوں کہ یہ آخری دفعہ بھی ہوگی ‘‘۔ رسانیت سے اپنی بات مکمل کر کے فاروق صاحب کال کاٹ چکے تھے “۔۔۔اور منتہیٰ اپنی جگہ گُم صُم بیٹھی تھی۔۔
بہت دیر بعد چونک کر اُس نے سیل دوبارہ تھاما ۔۔ اور ڈاکٹر یوسف کا نمبر پنچ کیا ۔۔
’’مبارکباد مائی ڈیئر‘‘ ۔۔کال ریسیو ہوتے ہی دوسری طرف سے آواز آئی جو اُس کی توقع کی عین مطابق بے حد سرد تھی ۔
منتہیٰ کے حلق میں جیسے کانٹے سے اُگ آئے ۔۔بہت سے خشک آنسو آنکھوں میں اُترے ۔۔” کبھی کبھی انسان کو اپنے خوابوںکو پانے کی کتنی بڑی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے “۔۔
“چپ کیوں ہو منتہیٰ”۔۔؟۔ ڈاکٹر یوسف نے بہت دیر کی خاموشی کے بعد اُسے پکارا
“انکل کیا ارمان نے آپ کو کچھ بتایا ہے “۔۔؟؟
“بہت دنوں سے جو خدشات ذہن میں کیڑوں کی طرح کلبلا رہے تھے ۔ بالا آخروہ لبوں پر آہی گئے “۔۔اور دوسری طرف ڈاکٹریوسف بری طرح چونک کر سیدھے ہوئے تھے ۔۔۔’’ ارمان ‘‘۔۔؟؟
اگرچہ ارمان نے انہیں کچھ نہیں بتایا تھا ۔۔ لیکن گزشتہ مہینے وہ اسکی وجہ سے کافی پریشان رہے تھے ۔۔۔ کئی روز تک اُس کا نمبر آف تھا۔ مجبوراٌ انہیں اس کے ڈیپارٹمنٹ کال کرکے رابطہ کرنا پڑا ۔
وہ ٹھیک نہیں تھا ۔۔ یہ جاننے میں انہیں دیرنہیں لگی تھی ، مگر وہ گھُنااُن کو کچھ بتا نے پر آمادہ ہی نہ تھا ۔۔۔
“ہاں بتایا تھا “۔۔۔ ڈاکٹر یوسف نے اندھیرے میں تیر چھوڑا ۔۔۔ ’’یہ کل کے بچے آخر ہمیں سمجھتے کیا ہیں‘‘ ۔۔۔ “ہونہہ”
ایک لمحے کو منتہیٰ کا سانس تھما ۔۔۔ پھر اُس نے خود کو سنبھالا۔
“انکل پلیز آپ تو میری بات سمجھیں ۔۔ میں نے ۔۔ میں نے ارمان سے صرف اس لیے کہا کہ میں آپ لوگوں کی درمیان خلیج نہیں بننا چاہتی ۔۔ آپ لوگ ان کی کہیں اور شادی کر دیں”۔بے انتہا پر اعتماد رہنے والی منتہیٰ بمشکل اپنی بات واضح کر پائی۔۔
’’آپ کتنے ہی بڑے ہو جائیں ۔کامیابیوں کی کتنی ہی چوٹیاں عبور کر لیں ، اگر آپ میں رشتوں کا احترام کرنے کا سلیقہ ہےتو والدین اوراستاد دو افراد کے سامنے بہت سے مواقع آپ کو گو نگا کر دیتے ہیں ۔۔دنیا جہان میں تقریریں جھاڑ نے والوں
کے سارے الفاظ اُس وقت دم توڑ دیتے ہیں ۔جب ماں باپ یا بہت عزیز استاد میں سے کوئی آپ سے خفا ہو‘‘ ۔۔
اور دوسری طرف پروفیسر یوسف کا سر چکرایا تھا ۔۔۔ وہ شاک میں تھے ۔۔ “انکل پلیز کچھ بولیں “۔۔۔ اُن کی بہت دیر کی خاموشی پر منتہیٰ رو دینے کو تھی ۔
“کیا تم یہی سمجھتی ہو کہ میرے یا مریم کے کہنے پر ارمان کسی اور سے شادی پر آمادہ ہو جائے گا “۔۔؟ بہت دیر بعد ڈاکٹر یوسف نے اُس سے ایک صرف ایک سوال پوچھا ۔۔
“جی انکل “۔۔ وہ ۔۔ “وہ ایک فرمانبردار بیٹے ہیں “۔۔
اور ڈاکٹر یوسف نے بہت گہرا سانس لیکر صوفے کی پشت سے سر ٹکایا تھا ۔۔ “اگر تم ایسا سمجھتی ہو ۔۔ تو تم دنیا کی احمق ترین لڑکی ہو” ۔۔ “اور وہ دیوانہ “۔ انہوں نے سر جھٹک کر بات اَدھوری چھوڑی ۔
’’کتابوں ، تھیوریز اور ریسرچ سے باہر بھی ایک دنیا ہے میری بچی ۔۔ دنیا والوں اور اُن کے روئیوں کو سمجھنا بھی ایک علم ہے ۔کبھی اپنی ذات سے منسلک لوگوں کو بھی وقت دیا کرو ۔۔ یہ نہ ہو کہ اپنے خوابوں کو پانے کی دھن میں تم رشتوں کی دنیا میں بالکل اکیلی رہ جاؤ ۔۔ اور مسرت کا خوبصورت پرندہ ہمیشہ کے لیے تمہاری زندگی سے رخصت ہو جائے‘‘۔
بہت مدلل انداز میں اپنی بات مکمل کر کے ڈاکٹر یوسف کال کاٹ چکے تھے ۔۔ اورمنتہیٰ اپنی جگہ گنگ بیٹھی تھی ۔
کیا واقعی۔اِن خوابوں اور سرابوں کے پیچھے بھاگتے بھاگتے ۔۔ وہ تنہا رہ گئی تھی “۔۔۔؟؟؟؟

جاری ہے

*******

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top