آفاقی عشق کی لازوال داستاں – دوام -
The news is by your side.

Advertisement

آفاقی عشق کی لازوال داستاں – دوام

“ابے تو نے زارش جیسی حسینہ کو ناراض کردیا” ۔۔ صمید کا صدمے سے برا حال تھا ۔
“میری اُن سے کبھی دوستی ہی نہیں تھی تو ناراضی کا کیا سوال ۔۔ ؟؟ “۔۔ارمان نے ناک سے مکھی اڑائی
“اف۔ میرے شہزادے ۔۔ اُس نے رامش بھائی سے خود اشاروں کہا تھا کہ اس کا کپل تمہارے ساتھ بنائیں “۔صمید کی
وضاحت پر ارمان کا حلق کچھ اور کڑوا ہوا ۔
“سو واٹ! مجھے اُن کی کسی بھی طرح کی آفر سے کچھ فرق نہیں پڑتا ” “مجھے نا ڈانس کا شوق ہے نا کپلز بنانے کا ۔۔ “ہونہہ”۔۔
“ابے تو تیرے لیے کوئی سپیشل پری آسمان سے اترے گی “۔۔ صمید نے اسے دھپ رسید کی
“ہاں بالکل ۔۔ملے کوئی ایسی جو مجھے چیلنج کرے ۔۔ جسے پانے کی مجھے جستجو کرنی پڑی ۔۔ اِن کٹی پتنگوں کی طرح نہیں کہ خود ہی جھولی میں آ گریں”۔۔ ارمان نے ناگواری سے سامنے سجی سنوری اپنی کزنز کی فوج کو دیکھا۔


اسی ناول کی گزشتہ اقساط پڑھنے کے لیے کلک کریں


“اچھا پھر چل تو آج اپنی نا معلوم حسینہ کے نام پر کو کو ۔۔ کورینا ۔۔ہی سنا دے “۔۔ صمید کب جان چھوڑنے والا تھا
ارمان کوئی باقاعدہ سنگر نہیں تھا ۔۔ کبھی کبھار یونیورسٹی یا دوستوں کی محفل میں کچھ سنا دیا کرتا تھا ۔۔ اے لیول میں عاطف اسلم سے متاثر ہوکر اس پر سنگر بننے کا بھوت سوار ہوا تھا ۔۔مگر پھر انجینئرنگ یوں چیلنج بن کر سامنے آئی تھی کہ وہ گلوکاری، پینٹنگ سمیت اپنے سارے شوق بھول گیا تھا ۔
’’ زندگی میں بارہا ایسے مقامات آتے ہیں جو انسان کو ایک نئے راستے پر ڈالنے کا سبب بن جاتے ہیں۔ سالوں سے ایک ہی ڈھب پر چلتی ہوئی زندگی اچانک یوں راستہ بد ل لیتی ہے کہ انسان خود ششدرہ رہ جاتا ہے ۔‘‘
آج بہت عرصے بعد اس کا دل چاہا تھا کہ وہ کچھ سنائے سو وہ صمید کے پیچھے سٹیج کی طرف بڑھ گیا ۔
“بول دو نہ ذرا دل میں جو ہے چھپا
میں کہوں گا کسی سے نہیں
ہماری کمی تم کو محسوس ہوگی بھگو دیں گی جب بارشیں
میں بھر کر لایا ہوں آنکھوں میں اپنی ۔۔ ادھوری سی کچھ خواہشیں
بول دو نا ذرا دل میں جو ہے چھپا۔۔ میں کہوں گا کسی سے نہیں ۔۔”
آج واقعی ارمان وَجد میں تھا سو اپنی دھن میں گاتا چلا گیا اِس بات سے بے خبر کہ زارش نے اس گانے کا کیا مطلب لیا ہے؟؟
دو روز بعد رات کو ارمان لیپ ٹاپ پر بزی تھا ۔۔ کہ سیل تھر تھرایا ۔۔ “صمید کالنگ”۔۔
اُس نے کام جاری رکھتے ہوئے کال ریسیو کی ۔۔ “ہیلو صمید ”
“کل برات سے کیوں غائب تھا تو ۔۔چھوٹتے ہی شکوہ حاضر ۔۔؟؟”
“یار بس ایک اسائنمنٹ میں دوستوں کے ساتھ ایسا پھنسا کہ رات گیارہ بجے فارغ ہوئے ۔۔ ممی سے ڈانٹ کھا چکا ہوں اب تیر ی میں کچھ نہیں سنوں گا “۔۔ ارمان نے سیدھی ہری جھنڈی دکھائی۔
“بے شک مت سن ۔۔ پھر اپنی خیر خود ہی منانا “۔۔ صمید نے منہ بنایا
“واٹ؟؟ از ایوری تھنگ اُوکے؟؟ “۔۔ارمان الرٹ ہوا
“بالکل بھی نہیں ! مہندی والے دن تو نا جانے کس دُھن میں تھا ۔ زارش نے سارے کزنز میں پھیلا دی ہے کہ وہ گانا تو نے اُس کے لیے ایکسکیوز میں گایا تھا “۔۔۔ صمید نے دانت نکالے ۔
“واٹ؟؟ اپنی شکل دیکھی ہے اُس بھوتنی نے ۔۔۔ہونہہ
“خیر شکل کی تو کافی پیاری ہے ۔۔ ”
“تجھے ہی لگتی ہوں گی ایسی ماڈلز گرلزپیاری “۔۔۔ ۔ “خیر سمجھتی رہے مجھے کیا ۔۔ مائی فٹ ۔۔”
“ہاں تجھے کیا پر پیارے ولیمے میں آکر اُس کی غلط فہمی دور کر دے ۔۔ ورنہ یہ بلا تیرے گلے پڑ جائے گی ۔۔ وہ آ نٹی کےبھی گلے لگ کر یوں شرما رہی تھی ۔۔جیسی اُن کی بہو اناؤنس ہو گئی ہو” ۔۔۔ صمید نے گویا بم پھوڑا
“اوہ مائی گاڈَ ۔۔ کیا مصیبت ہے ؟؟ دیکھ لوں گا میں ڈونٹ یو وری ۔۔”
اُس نے غصے میں سیل بیڈ پر پھینکا ۔۔ کمرے کے چار پانچ چکرکاٹے ۔۔ پانی کا جگ خالی تھا ۔۔ کچن میں جا کر پوری بوتل غٹاغٹ منہ سے لگا کر خالی کی ۔
“ارمان! پیچھے سے ممی کی غصیلی آ واز پر وہ چونک کر پلٹا ۔۔
“ہزار دفعہ منع کیا ہے کہ بوتل کو منہ لگا کر پانی مت پیا کرو “۔۔ انہوں نے بوتل اس کے ہاتھ سے جھپٹ کر گلاس سامنے پٹخا لیکن وہ اِس وقت ممی کا کوئی لیکچر سننے کے موڈ میں نہیں تھا ۔۔
گلا س کو نظر اندازکر کے فریج سے دوسری بوتل نکالی ۔۔ اور منہ کو لگاتا ہوا لاؤنج کی طرف بڑھ گیا ۔وہ غصے میں تھا ۔ مریم کو یہ جاننےمیں ایک منٹ بھی نہیں لگا ۔۔
وہ کچھ سوچتے ہوئے اُس کے پیچھے آ ئیں ۔۔
“ارمان کیا بات ہے؟؟ “۔۔وہ ٹی وی آن کیے غائب دماغی سے چینل پر چینل بدلتا رہا۔
“ارمان۔۔ مریم نے لاڈ سے اُس کے بال سنوارے ۔۔۔ کیا ہوا ہے۔۔ میرا کُول بیٹا اتنے غصے میں کیوں ہے؟؟”
“ممی پلیز ۔۔ اپنی اِن سٹوپڈ بھانجیوں، بھتیجیوں کو مجھ سے دور رکھا کریں۔۔ زہر لگتی ہیں یہ مجھے ۔۔ وہ جیسے پھٹ پڑا
“کیا زارش سے لڑائی ہوئی ہے تمہاری ۔۔ ؟؟”
“میری اس سے کبھی کوئی دوستی ہی نہیں تھی تو لڑائی کا کیا سوال “۔۔ اس نے ناک سے مکھی اڑائی
“لیکن وہ تو ۔۔۔ وہ تو کہہ رہی تھی ۔۔”
جی وہ فرما رہی تھیں کہ “میں نے کزنز کی فوج میں اُن کا انتخاب کر لیا ہے ۔۔ یہی نہ۔۔۔ تو آ پ سن لیں کہ۔ یہ اُن کے دماغ کا فتورہے ۔ آ ئی ایم ناٹ انٹرسٹڈ اِن ہر ریئلی ۔”
تو کیا برائی ہے اس میں خوبصورت ہے ، اچھی تعلیم یافتہ فیملی ہے ۔۔۔میں تو اُسے پسند کر چکی ہوں۔۔
ممی ! وہ تڑپ کر کھڑا ہوا ۔۔۔ خدا کے لیے مجھے بخش دیں ۔۔ زہر لگتی ہیں مجھے ایسی لڑکیاں ۔۔ پھر پاؤں پٹختے ہوئے لاؤنج نکلا ۔
مریم نے غصے سے اُسے جاتے دیکھا اور پھر پیچھے کھڑے ڈاکٹر یوسف کو جن کے لبوں پر گہری مسکراہٹ تھی ۔۔ وہ جل ہی تو گئیں ۔
“جی ۔۔ بس آ پ کی کمی تھی ۔۔ اڑا لیں آپ مذاق ۔”
“کول ڈاؤن مریم ۔۔ یہ ایسا کوئی بڑا ایشو نہیں ہے ابھی وہ پڑھ رہا ہے اس کی شادی میں بہت ٹائم ہے۔۔ انہوں مریم کو کندھوں سے تھام کر پر سکون کرنے کی سعی کی ۔”
“ٹھیک ہے تم دونوں باپ بیٹا کوئی افلاطون بہو ڈھونڈ کر لے آنا میری بھانجیاں بھتیجیاں تو اِسے زہر لگتی ہیں “۔ ۔ مریم کی سوئی اب تک وہیں اَٹکی ہوئی تھی ۔
“نہیں ہم تمہیں بھی ساتھ لے کر جائیں گے “۔۔ڈاکٹر یوسف نے اُنہیں چھیڑا ۔۔
*****************

پاکستان میں توانائی کا بحران اور متبادل ذرائع پر سیمینار تھا اور منتہیٰ نے اپنے ریسرچ پیپر کے لیے ونڈ پاورکا موضوع منتخب کیا تھا ۔”پوری دنیا کی طرح پاکستان بھی شدید موسمیاتی تبدیلیوں کی زد پر ہے پنجاب اور سندھ ہی کیا خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کے وہ علاقے جو پہلے اپنے معتدل موسم کی وجہ سے جنت سمجھے جاتے تھے اب اپریل مئی سے سورج وہاں بھی آگ اگلنا شروع کردیتاہے، جس کے ساتھ طویل لوڈشیڈنگ کے تو عوام عادی ہو ہی چکے ہیں ۔ ہماری گورنمنٹ توانائی کے اِس بحران سے نمٹنے کےلیے نہ تو مناسب منصوبہ بندی کرتی ہے، نہ ہی اُس کا دھیان اِن متبادل ذرائع کی طرف جاتا ہے جو قدرت کی طرف سے ہمیں مفت دستیاب ہیں ۔

“خدا کی کا ئنات جتنی وسیع ہے اُس کا ظرف بھی اتنا ہی بڑا ہے ، اگر ہم کائنات کے آ فاقی نظام پر غور کریں تو ہمیں اِس کی ہر چیز ایک دوسرے سے تعاون کرتی نظر آ ئے گی ۔۔ اگر سورج اپنی روشنی روک کر چاند اور زمین پر ٹیکس لگا دے تو دنیا کی ایسی کون سی طاقت ہے جو سورج کی یہ روشنی ہمیں فراہم کر سکے ۔ جو زمین پر انسانی بقا کے لیئے لازمی ہے ۔ زمین کے سارے سمندر ، دریا ، جھیلیںاپنے پانی پر انسانوں سے بل وصول نہیں کرتے ۔ لیکن صد حیف کہ خدا کی ہر نعمت سے مفت لطف اندوز ہو کر انسان زمین کےایک ٹکڑے پر اپنی کم ظرفی دکھاتا ہے ۔۔ زن، زر اور زمین یہ سب نعمتیں اللہ پاک نے اسے عطا کی تھیں۔۔ لیکن انہیں اپنی پراپرٹی سمجھ کر وہ ایک دوسرے کی گردنیں کاٹنے اور عزتیں اچھالنے میں مصروف ہے ۔۔”ہم نے اپنا سوسائٹی سسٹم کچھ ایسا بنا لیا ہے کہ یہاں کھیتی صرف اُسی کی پروان چڑھتی ہے جو دوسروں کی پرواہ کیے بغیر صرف اپنے کھیت سیراب کرتا ہے ۔
’’جبکہ قرآن کا آ فاقی پیغام یہ ہے کہ کھیتی اسی کی سر سبز رہتی ہے جو دوسروں کی ضرورت کو اپنی ضرورت پر ترجیح دیتا ہے ۔۔‘‘
ہوا بھی خدا کی ایک ایسی ہی نعمت ہے جو مناسب منصوبہ بندی کے ساتھ لا محدود توانائی کا ذریعہ بنائی جا سکتی ہے۔۔ وائنڈپلانٹس کی لاگت ، پیداوار اور پاکستان بھر میں وہ تمام مقامات جو ایسے پلانٹس کے لیئے موزوں ترین ہیں ان کی سب تفصیلات منتہیٰ کے ریسرچ پیپر میں موجود تھیں ۔۔
اس کے ٹیچرز نے ہی نہیں سیمینار کے شرکاء نے بھی ریسرچ پیپر کو بھرپور سراہاتھا۔

“پاکستان میں نہ تو ٹیلنٹ کی کمی ہے نہ ہی وسائل کی ، ایک سے بڑھ کر ایک ذہین نوجوان جب یہاں سے باہر کی یونیورسٹیز میں جاتا ہے تو اُس کی یہ صلاحیتیں کچھ اور نکھر کر سامنے آ تی ہیں ۔۔لیکن پھر باہر کی چمک دمک اور اپنی اولاد کا روشن مستقبل اُسے بہت حد تک خود غرض بنا دیتا ہے ۔ اور پیاری دھرتی کہیں پسِ پشت چلی جاتی ہے۔۔ انڈیا آ ج آئی ٹی کے میدان میں ہم سے کئی گُناآ گے اس لیے ہے، کہ ا نہوں نے با صلاحیت نوجوان نسل کو اپنے وطن میں باہر کے ممالک سے بڑھ کر نہیں تو اِن کے ہم پلہ سہو لیات و ذرائع ضرور فراہم کیے ہیں ۔۔ اگر آج پاکستان میں بھی یہ سہولیات دستیاب ہوں تو ہزاروں محبِ وطن نوجوان اپنی دھرتی لوٹ آ ئیں جنھیں موجودہ حالات میں مستقبل کے اندیشے دیارِ غیر کو خیر باد نہیں کہنے دیتے۔

جاری ہے

*****************

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں