site
stats
اہم ترین

تربت میں دہشت گردی کا شکار نوجوانوں کی لاشیں گھر پہنچا دی گئیں

 سیالکوٹ: تربت سے ملنے والی خون میں لت پت نوجوانوں کی لاشیں گھروں پر لائی گئیں تو کہرام مچ گیا۔ مقتولین کے اہل خانہ کی آہ و بکا نے عرش بھی ہلا دیا۔ بلوچستان حکومت کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کے قتل میں بی ایل ایف ڈاکٹر اللہ نذر گروپ ملوث ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز بلوچستان کے ضلع کیچ کے شہر تربت کے علاقے گروک سے 15 گولیوں سے چھلنی لاشیں ملی تھیں۔

ڈپٹی کمشنر کیچ کا کہنا تھا کہ تمام افراد کو فائرنگ کر کے قتل کیا گیا ہے۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر تربت کا کہنا تھا کہ مقتول افراد کا تعلق پنجاب کے مختلف علاقوں سے تھا اور یہ گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ، وزیر آباد، منڈی بہاؤ الدین کے رہائشی تھے۔

مقتولین ایران کے راستے یورپ جانے کے لیے نکلے تھے۔

مقتولین کی لاشیں ان کے گھروں پر پہنچائی گئیں تو وہاں کہرام مچ گیا۔ بہنوں پر غشی کے دورے پڑ گئے جبکہ بوڑھی ماؤں کے ماتم نے عرش ہلا ڈالا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ تربت سے ملنے والی 15 لاشوں میں سے 11 کی شناخت ہوئی ہے۔ محمد حسین، ذوالفقار، خرم شہزاد، اظہر وقاص منڈی بہاؤ الدین کے رہائشی تھے۔

زعفران زاہد، محمد الیاس، عبد الغفور اور طیب سیالکوٹ کے رہائشی تھے، غلام ربانی اور احسان رضا گوجرانوالہ جبکہ سیف اللہ گجرات کے رہنے والے تھے۔

دہشت گردی کا شکار  دو دوست غفران اور غفور نے ایجنٹ کو ڈیڑھ ڈیڑھ لاکھ روپے دیے تھے۔ ایک اور مقتول خرم شہزاد نے رقم کے بندوبست کے لیے چھوٹے بھائی کو بھٹے پر مزدروی کے لیے رکھوایا تھا۔

مقتولین میں شامل گوجرانوالہ کے 28 سالہ غلام ربانی اور احسن کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ عابد حسین نامی شخص نے 1 لاکھ 20 ہزار روپے میں یونان پہنچانے کا وعدہ کیا تھا۔

بلوچستان حکومت کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق قتل میں بی ایل ایف ڈاکٹراللہ نذر گروپ ملوث ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top